بالی وڈ اداکارہ ماہی گِل: ’طوائف یا بار گرل کا کردار ہو تو مجھے بلایا جاتا ہے‘

ماہی گل تصویر کے کاپی رائٹ MaHI GILL INSTAGRAM
Image caption ماہی گل نے اپنے کریئر کا آغاز فلم دیو ڈی سے کیا تھا

بالی وڈ فلموں میں بے باک انداز میں نظر آنے والی اداکارہ ماہی گل نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ اصل زندگی میں وہ بہت شرمیلے مزاج کی مالک ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر کردار کے لیے وہ دبنگ بھی بن جاتی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کردار ادا کر کے اب وہ تھک چکی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’اگر کسی کو ’بار گرل‘ جیسے کردار کے لیے اداکارہ کی ضرورت ہوتی ہے تو مجھے بلایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی طوائف یا شراب ہاتھ میں لیے کسی خاتون کا کردار ہو تو مجھے یاد کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے پاس صاحب، بیوی اور گینگسٹر جیسی فلموں کے کردار آتے ہیں، لیکن اب مجھے کچھ نیا کرنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اگر میں اچھی لڑکی بنتی تو مجھ پر کوئی تنقید نہ ہوتی‘

’میں وہ لڑکی ہوں جو پریانکا پر چیخی تھی‘

’اچھی سکرپٹ ہوگی تو ٹی وی پر واپس آؤں گی‘

’مجھے پاکستان بھیجنے کی کوشش نہ کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mahie Gill

آواز اٹھانے پر انصاف ملا

ماہی گل نے ایک واقعہ یعد کرتے ہوئے بتایا کہ ’گزشتہ دنوں میری ٹیم کے ساتھ چھیڑ خانی ہوئی۔ میں اور میری ٹیم بالاجی پروڈکشنز کی ایک سیریز شوٹ کر رہی تھی۔ تبھی چند افراد آئے اور غنڈا گردی کرنے لگے۔ میں دس برس سے ممبئی میں شوٹنگ کر رہی ہوں اس سے قبل میرے ساتھ کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ لیکن ممبئی کے باہری علاقوں میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔ وہ لوگ آ کر مارپیٹ کرنے لگے۔‘

ماہی نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں شکایت کرنے وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے پاس گئیں اور پولیس نے ان غنڈوں کو ڈھونڈ نکالا۔

’یہ سب اس لیے ہوا کیوں کہ میں آگے آئی اور انصاف مانگا۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ جس کسی کی آنکھوں کے سامنے ایسا کچھ ہوتا ہے اسے سامنے آنا چاہیے۔ لوگوں کو خاموشی سے بیٹھے رہنے کے بجائے آواز بلند کرنی چاہیے۔‘

ماہی کو بالی وڈ میں کام کرتے ہوئے تقریباً دس برس ہو چکے ہیں تاہم ان کے مطابق پھر بھی انھیں وہ مواقع نہیں ملے جن کی وہ منتظر رہی ہیں۔

ماہی نے کہا کہ بالی وڈ میں کئی اداکار بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ سبھی اچھی ایکٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول ’اگر آپ میرا کریئر گراف دیکھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ مجھے ٹائپ کاسٹ کر دیا گیا ہے۔‘

اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے ماہی نے کہا کہ ’لوگ میرے پاس ایک جیسے رول لے کر آتے ہیں۔ میں بار بار وہی کردار نہیں ادا کرنا چاہتی ہوں، اس لیے میں کام نہیں کرتی ہوں۔ ایک اداکارہ کے طور پر مجھے کچھ الگ کرنا ہے۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ میری فلمیں بھی پورا خاندان ساتھ بیٹھ کر دیکھے۔ اس لیے میں نے ’فیملی آف ٹھاکر گنج‘ کی جس میں میرا ایک دبنگ خاتون کا کردار ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mahie Gill

وہ سال جو انتہائی مشکل تھا

ماہی نے بتایا کہ ہدایتکار انوراگ کشپ کی فلم ’دیو ڈی‘ نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

’سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا۔ لگاتار لوگ فون کر رہے تھے اور مسلسل فلموں کے آفرز آ رہی تھیں۔‘

ماہی کے بقول اسی دوران وہ ڈیپریشن کی شکار ہو گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’جو برس میرے لیے سب سے عمدہ ہونا چاہیے تھا اسی برس میرے ساتھ ایسا نہ جانے کیا ہوا کہ میں ڈیپریشن میں چلی گئی۔ لیکن پھر مجھے تگمانشو دھولیا کی فلم ’صاحب، بیوی اور گینگسٹر‘ کا کردار ملا۔ میں ان کی شکر گزار ہوں، میں کبھی نہیں بھولوں گی کہ انھوں نے مجھ پر ایک مشکل دور میں یقین کیا۔‘

اسی بارے میں