انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ: جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ مستقبل میں حالات کو دیکھتے ہوئے ہو گا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@rajnathsingh

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انڈیا فی الوقت جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن 'مستقبل میں حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔'

انھوں نے یہ بات جمعے کو پوکھران میں اس مقام پر منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں کہی جہاں 1998 میں انڈیا نے جوہری تجربے کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ 'آج تک ہماری جوہری پالیسی 'جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے' پر مبنی ہے لیکن مستقبل میں کیا ہوگا، اس کا فیصلہ حالات دیکھ کر کیا جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان کے پاس انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں‘

دنیا کے جوہری ہتھیار کہاں کہاں ہیں؟

پاکستان نہیں چین ہے انڈیا کے جوہری نشانے پر

بعد ازاں راج ناتھ سنگھ نے اپنی ٹویٹ میں اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ 'پوکھران وہ مقام ہے جہاں ہم نے انڈیا کو جوہری طاقت بنانے کے لیے اٹل جی (سابق انڈین وزیر اعظم) کے پختہ عزم کو دیکھا تھا، لیکن ہم ابھی بھی اسی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ البتہ مستقبل میں کیا ہوگا، وہ حالات پر منحصر ہے۔'

انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ 'انڈیا کا جوہری صلاحیت کا ایک ذمہ دار ملک بننا ہر شہری کے لیے باعث فخر ہے اور پوری قوم اٹل جی کا یہ احسان کبھی نہیں چکا سکتی۔'

راج ناتھ سنگھ پوکھران میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی موت کی پہلی برسی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

پوکھران وہی مقام ہے جہاں پہلے 1974 میں اندرا گاندھی کے دور حکومت میں انڈیا نے پہلی بار جوہری تجربہ کیا تھا اور اس کے بعد 1998 میں اٹل بہاری واجپائی کے دور میں دوسری بار یہ تجربے کیے گئے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی انڈین وزیر دفاع نے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی یعنی نو فرسٹ یوز (این ایف یو) کے بارے میں بات کی ہو۔

نریندر مودی کے سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر نے سنہ 2016 کے نومبر میں بھی این ایف یو کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کو اس پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

بعد ازاں وزارت دفاع کی جانب سے جاری کی گئی باضابطہ وضاحت میں کہا گیا تھا کہ وہ بیان منوہر پاریکر نے ذاتی حیثیت میں دیا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 1998 میں انڈیا نے جوہری تجربے کے بعد این ایف یو کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا تھا۔

’انڈین وزیر دفاع کا بیان نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے‘

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈین وزیر دفاع کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے حوالے سے دیا گیا ’بیان نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔'

ذرائع نے کہا کہ حال میں انڈیا کی جانب سے لیے گئے چند اقدامات جیسے بلیسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کی تیاری، میزائلوں کو داغنے کے لیے ہر دم تیار رہنا اور صحیح مقام پر مارنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا یہ اشارہ کرتا ہے کہ انڈیا خطے میں توازن برقرار رکھنا نہیں چاہتا۔

'بین الاقوامی برادری کو انڈیا سے سوالات پوچھنے ہوں گے کہ زمینی حقائق میں ایسی کون سی تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی جوہری پالیسی میں بدل رہے ہیں۔ یہ صرف اور صرف ان کی جانب سے اپنی طاقت کا بے جا مظاہرہ ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1998 میں انڈیا نے پوکھران کے مقام پر دوسری بار جوہری تجربہ کیا تھا

نو فرسٹ یوز پالیسی ہے کیا اور اس پر کون عمل پیرا ہے؟

نو فرسٹ یوز یا این ایف یو کسی بھی ملک کی جانب سے کیا گیا ایسا عہد ہے جس کے تحت وہ جنگ ہونے کی صورت میں کبھی بھی جوہری ہتھیار کے استعمال میں پہل نہیں کریں گے۔

اس وقت عالمی طور پر ایسی کوئی باضابطہ پالیسی یا معاہدہ نہیں ہے جس کے تحت مختلف ممالک این ایف یو پر اپنی رضامندی ظاہر کریں اور اس کا اطلاق یقینی بنائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ممالک جو این ایف یو پالیسی کا عہد بھی کرتے ہوں، ان کو بھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل کرنے سے نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہی اس پر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دنیا میں اس وقت صرف چین ہی واحد ایسا ملک ہے جس نے بغیر کسی شرط این ایف یو کا عہد کیا ہے۔ سنہ 1964 میں جوہری تجربہ کرنے کے بعد چین نے اس پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا تھا اور جوہری ہتھیار رکھنے والے دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ این ایف یو معاہدہ قائم کریں اور اس پر عمل پیرا بھی ہوں۔

چین کے علاوہ انڈیا بھی این ایف یو پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس نے اِس کے لیے شرائط رکھی ہیں۔

انڈیا کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی این ایف یو کی پالیسی استعمال کرتے ہیں البتہ جوہری یا کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کی صورت میں وہ این ایف یو چھوڑ سکتا ہے۔

۔'

امریکہ کی میسا چیوسیٹس انسٹٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے منسلک پروفیسر اور جوہری ہتھیاروں اور ان کی روک تھام پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر وپن نارنگ نے ٹوئٹر پر راج ناتھ سنگھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوسرا موقع ہے جب انڈیا کے ایک موجودہ وزیر دفاع نے این ایف یو کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔

'حکومتِ انڈیا شروع سے ہی بغیر شرط کے این ایف یو کا عہد کرنے سے مطمئن نہیں تھی اور وہ ہمیشہ 'حالات' پر منحصر تھے۔

اس سال فروری میں لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں وپن نارنگ اور ان کے ساتھی محقق کرسٹوفر کلیری لکھتے ہیں کہ پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈین حکومت اس بات پر مجبور ہوئی ہے کہ وہ اپنی جوہری پالیسی میں تبدیلی لائے جس سے پاکستان کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔

'انڈین حکام وقت کے ساتھ ساتھ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انڈیا کے این ایف یو میں استثنا فراہم کرنے والی شرائط میں اضافہ کیا جائے جو جوہری ہتھیار کے استعمال میں پہل کرنے میں مدد دے سکے۔'

البتہ دونوں محقق لکھتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان بھی اپنے طور پر جواب دینے کی تیاری کرے گا جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی ایک خطرناک دوڑ شروع ہو جائے گی۔

اسی بارے میں