افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شادی کی تقریب میں دھماکہ، 63 افراد ہلاک

کابل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک خود کش بمبار نے شادی کی تقریب میں خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سنیچر کی شب شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

واضح رہے کہ حکام کے مطابق اس بم حملے میں کم سے کم 63 افراد ہلاک اور 180 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ایک خودکش بمبار نے شادی کی تقریب میں خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا جبکہ دیگر شدت پسندوں نے شادی ہال کے باہر کھڑی ایک گاڑی کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑایا۔

دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بعض میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کی تردید کی گئی ہے جن کے مطابق اس حملے میں کوئی پاکستانی شہری ملوث ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میڈیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈا اہداف کا پتہ لگائے، جس کا مقصد غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’عید میلاد النبی کے اجتماع میں خودکش دھماکہ، 50 ہلاک‘

کابل میں دو خودکش دھماکوں میں 20 افراد ہلاک

کابل کے تعلیمی مرکز میں دھماکہ، 48 افراد ہلاک

کابل: خودکش حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک

اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں افراد کی تدفین کا عمل جاری ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'وحشیانہ اقدام' قرار دیا اور طالبان پر دہشت گردوں کو مواقع فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ انھوں نے سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ ایسے حملوں کا جائزہ لیا جا سکے اور ناقص سکیورٹی انتظامات سے بچا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بی بی سی کے نامہ نگار شعیب شریفی کے مطابق یہ دھماکہ اقلیتی شیعہ مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر چالیس منٹ پر ہوا

یاد رہے کہ حملےکے فوری بعد افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو دیے گئے ایک پیغام میں اس دھماکے کی شدید مذمت کی اور اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے بہیمانہ حملوں کے ذریعے جان بوجھ کر عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شعیب شریفی کے مطابق یہ دھماکہ اقلیتی شیعہ مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر چالیس منٹ پر ہوا۔

واضح رہے کہ افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اکثر اوقات شیعہ و ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ دھماکہ صرف دس روز قبل کابل پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے بعد ہوا ہے جس میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شادی میں آئے ایک مہمان محمد فرہاغ کے مطابق وہ خواتین والے حصے میں موجود تھے جب انھوں نے دھماکے کی آواز سنی

ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے دولھا نے جنھوں نے اپنا نام میر واعظ بتایا کہا کہ 'میرا خاندان، میری دلھن صدمے میں ہے، وہ بات بھی نہیں کر پا رہے جبکہ میری دلھن کو غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔'

'میں نے اپنا بھائی کھو دیا ہے، میں نے اپنے دوست اپنا رشتہ دار کھو دیے ہیں، میں اپنی زندگی میں دوبارہ کبھی خوشی نہیں دیکھ پاؤں گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میں جنازوں میں نہیں جا سکتا، میں بہت کمزور ہو چکا ہوں، میں جاتنا ہوں کہ یہ افعانیوں کے لیے آخری تکلیف نہیں، یہ جاری رہیں گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دلہن کے والد نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ ان کے خاندان کے 14 افراد اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

شادی میں آئے ایک مہمان محمد فرہاغ کے مطابق وہ خواتین والے حصے میں موجود تھے جب انھوں نے دھماکے کی آواز سنی۔

انھوں نے بتایا 'ہر کوئی چیختا اور روتا ہوا باہر کی طرف بھاگا۔'

'تقریباً 20 منٹ تک ہال دھویں سے بھرا رہا۔ مردوں والے حصے میں تقریباً ہر کوئی یا تو مر چکا تھا یا زخمی تھا۔ دھماکے کے دو گھنٹے بعد بھی وہ ابھی تک لاشوں کو ہال سے باہر لا رہے ہیں۔'

افغان شادیوں میں اکثر سینکڑوں مہمان شریک ہوتے ہیں جو کہ بڑے ہالز میں جمع ہوتے ہیں اور عام طور پر مرد، خواتین اور بچوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔

افغانستان امن عمل

واضح رہے کہ افغانستان میں حالات بہت زیادہ کشیدہ رہے ہیں حالانکہ طالبان اور امریکہ مبینہ طور پر امن معاہدے کے اعلان کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

طالبان اور امریکی نمائندے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات کر رہے ہیں اور فریقین نے پیشرفت کی اطلاع بھی دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ٹویٹ میں لکھا کہ دونوں فریق ’معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اگر ممکن ہوا تو۔‘

اس معاہدے میں طالبان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ افغانستان کو امریکی اہداف پر حملے کرنے کے لیے استعمال نہیں کریں گے اور اس معاہدے میں افغانستان سے مرحلہ وار امریکی فوجی دستوں کی واپسی شامل ہے۔

اس معاہدے کے تحت طالبان افغان وفد کے ساتھ جنگ بندی سمیت امن کے دائر کار پر بات چیت کا آغاز بھی کریں گے۔

اسی بارے میں