کشمیر: پاکستان عالمی عدالت کس بنیاد پر جا سکتا ہے؟

آئی سی جے تصویر کے کاپی رائٹ ICJ
Image caption کسی ایک ملک کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہونے پر متاثرہ فریق معاملہ آئی سی جے میں لے جا سکتا ہے (فائل فوٹو)

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مسئلے کو عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔

آئی سی جے میں کشمیر کے مسئلے کو لے جانے کی چند وجوہات ہیں۔

انڈیا نے رواں ماہ اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو غیر موثر بنا کر کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد پوری وادی کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ جموں کشمیر میں پابندیوں کے باعث چیدہ چیدہ خبریں ہی باہر کی دنیا تک پہنچ پا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اقوامِ متحدہ: ’انڈیا کشمیر میں پابندیاں ختم کرے‘

’کشمیر کے ہر تھانے میں ہمارے بچے قید ہیں‘

کشمیر: اقوام متحدہ کی قرارداوں کی حیثیت کیا ہے؟

اگرچہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے اعلان کی مزید تفصیلات آنا باقی ہیں لیکن اس موضوع پر بات کرنے کے لیے چند نکات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

آئی سی جے کی کارروائی کیسے ہوتی ہے؟

پہلا سوال تو یہی ہے کہ کون اپنا معاملہ لے کر آئی سی جے میں جا سکتا ہے اور کس بنیاد پر جا سکتا ہے؟

آئی سی جے ایک بین الاقوامی عدالت ہے جہاں مختلف ممالک کے درمیان درپیش پیچیدہ مسائل کو حل کیے جانے کی سعی کی جاتی ہے۔ کسی ایک ملک کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہونے پر متاثرہ فریق معاملہ آئی سی جے میں لے جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ یہ انسانی حقوق کی عدالت نہیں ہے اور یہاں کوئی شخص ذاتی اپیل دائر نہیں کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رائج قوانین کے مطابق جب تک انڈیا اور پاکستان اس مسئلے کو آئی سی جے لے جانے پر رضامند نہیں ہوتے ہیں عدالت اس معاملے کی شنوائی نہیں کر سکتی

آئی سی جے میں کسی معاملے کی شنوائی ہونے سے قبل اسے دو مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جس کے دوران یہ طے کیا جاتا ہے کہ معاملے کی شنوائی آئی سی جے میں ہو بھی سکتی ہے یا نہیں۔

آئی سی جے میں معاملہ دو طریقوں سے لے جایا جا سکتا ہے۔

پہلے طریقے میں آرٹیکل 36 (2) کے تحت یہ دیکھا جاتا ہے کہ زیر غور معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں؟ دو ممالک کے درمیان تنازع ہونے کی صورت میں دونوں ممالک عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں۔

لیکن انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور آرٹیکل 370 کے مسئلے پر دونوں ممالک کی اپنی اپنی حدود ہیں۔

رائج قوانین کے مطابق جب تک دونوں ممالک اس مسئلے کو آئی سی جے لے جانے پر رضامند نہیں ہوتے ہیں عدالت اس معاملے کی شنوائی نہیں کر سکتی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آرٹیکل 36 (1) کے تحت اگر کسی ملک نے کسی خصوصی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تب اس معاملے کی شنوائی آئی سی جے میں ہو سکتی ہے۔

یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے انڈیا اپنے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو کے معاملے کو آئی سی جے میں لے گیا تھا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ جادھو کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر پاکستان نے بین الاقوامی ویانا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

آرٹیکل 36 (2) کے تحت معاملے کو عدالتِ انصاف لے کر جانے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ اس میں دونوں فریقین کی رضامندی شامل ہونا ضروری ہے۔

ایسے میں پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے یعنی آرٹیکل 36 (1) کے تحت۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان کس معاہدے کی خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر کشمیر کا معاملہ آئی سی جے میں لے جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اپنے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو کے معاملے کو آئی سی جے میں لے گیا تھا جہاں قرار دیا گیا کہ جادھو کو قونصلر رسائی نہ دے کر پاکستان نے ویانا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے

جادھو معاملے سے قبل بھی انڈیا ور پاکستان اپنے کئی مسائل بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں لے جا چکے ہیں۔ تاہم ان میں سے دو معاملے ایسے تھے جن کی شنوائی ابتدائی مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

اس میں سے ایک معاملہ پاکستان کے جنگی قیدیوں کا تھا جس کی اپیل بھی بعدازاں واپس لے لی گئی تھی۔

دس اگست سنہ 1999 کو بھی دونوں ممالک کو درپیش ایک مسئلہ بین الاقوامی عدالت تک پہنچا تھا جس میں انڈیا کے علاقے کچھ میں پاکستانی بحریہ کے پیٹرول ایئر کرافٹ کو انڈیا کے مگ 21 طیارے نے مار گرایا تھا۔ اس معاملے میں بھی آئی سی جے نے اسے اپنے دائرہ اخیتار سے باہر قرار دیتے ہوئے کارروائی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

17 جولائی 2019 کو کلبھوشن جادھو کیس میں پاکستان نے کہا تھا کہ وہ عدالتِ انصاف کے فیصلے پر عمل کرے گا، لیکن اب نئی صورت حال میں پاکستان ایسا کرے گا یا نہیں اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آئی سی جے میں جانے کا نتیجہ

آئی سی جے میں جانے کے چند قانونی نتائج تو ہوتے ہی ہیں۔ اس کے علاوہ قانونی کارروائی کے چند بین الاقوامی نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔

کشمیر کے مسئلے میں پاکستان نے اپنا قانونی موقف ابھی تک واضح نہیں کیا ہے۔ لیکن اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی عملداری کے لیے دنیا کے دوسرے ممالک کی ذمہ داری کو اہم نکتہ بنا سکتا ہے۔

ایسے میں جب تک کشمیر میں موجودہ کارروائی جاری رہتی ہے جیسا کہ ذرائع مواصلات پر پابندی، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری اور دیگر قوانین خلاف ورزی کے دوسرے الزامات، تب تک اس معاملے کو مضبوطی ملتی رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اگر بین الاقوامی عدالتِ انصاف اس معاملے کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتی ہے اور اس پر شنوائی سے انکار بھی کرتی ہے تب بھی دونوں ممالک کے درمیان تنازع محض عدالت کا رخ کرنے سے ہی بڑھ سکتا ہے۔

اس دوران جبکہ سب کا دھیان دونوں ممالک کے تعلقات، خطے میں امن اور سکیورٹی پر ہے کشمیریوں کی حالت سے لوگوں کا دھیان ہٹنا بہت آسان نہیں ہو گا۔

یہ پہلا موقع ہے جب گذشتہ دو برسوں میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں اقوام متحدہ میں سفیروں نے متعدد رپورٹس پیش کی ہیں۔

مختلف بین الاقوامی اداروں نے کشمیر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے چند ہی روز قبل اس مسئلے پر طاقتور ممالک کے نمائندوں کا ایک اجلاس بلایا تھا۔ یہ ایک بے حد اہم اجلاس تھا کیوں کہ اس سے قبل کشمیر کے معاملے پر سکیورٹی کونسل کا اجلاس چالیس برس قبل ہوا تھا۔

یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر مسلسل شہ سرخیوں میں ہے۔ اس وجہ سے اس علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خدشات بھی زیادہ بڑھتے جا رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی صورت حال میں دنیا بھر کا دھیان اس جانب رہے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر بین الاقوامی قوانین کی کارروائی والا علاقہ بن جائے۔

اسی بارے میں