اقوامِ متحدہ کا پرینکا چوپڑا تنازعے پر مؤقف: ’خیر سگالی سفیر ذاتی خیالات رکھ سکتے ہیں‘

اقوام متحدہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ادارے کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا ہے کہ خیر سگالی کے سفیروں کے ذاتی خیالات ان اداروں کے نظریات کی عکاسی نہیں کرتے جس سے وہ منسلک ہوں

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ ان کے خیر سگالی کے سفیروں کے پاس یہ حق ہے کہ وہ ان مسائل کے بارے میں ذاتی نظریات رکھیں جن کے بارے میں انھیں دلچسپی یا خدشات ہوں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ بیان پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو خط لکھے جانے کے بعد آیا ہے۔

شیریں مزاری نے اپنے خط میں اقوامِ متحدہ سے کہا تھا کہ ’کشمیر کے سلسلے میں انڈین حکومت اور افواج کی حمایت کرنے اور پاکستان کے خلاف جنگ کی حمایت کا اظہار کرنے‘ پر پرینکا چوپڑا کو یونیسیف کی امن اور خیر سگالی کی عالمی سفیر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

جمعرات کو ادارے کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفان ڈوجاریک سے معمول کی بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے پرینکا چوپڑا کے بارے میں جاری حالیہ تنازعے کے بارے میں اقوامِ متحدہ کا مؤقف جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ خیر سگالی کے سفیر جب بھی اقوامِ متحدہ یا اس کے کسی ذیلی ادارے کی جانب سے بات کریں تو ان سے غیر جانبدار مؤقف اختیار کرنے کی امید کی جاتی ہے۔

'لیکن جب وہ ذاتی حیثیت میں بات کریں تو ان کے پاس اپنی دلچسپی یا تحفظات کے حامل مسائل کے بارے میں ذاتی خیالات رکھنے کا حق ہوتا ہے۔'

انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ 'ان کے ذاتی خیالات اقوامِ متحدہ کے اس ادارے کے نظریات کی عکاسی نہیں کرتے جس سے وہ منسلک ہوں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

شیریں مزاری کی جانب سے اس خط کا اس موقع پر بھیجے جانے کا پسِ منظر رواں ماہ امریکی شہر لاس اینجلس میں منعقد ہونے والی تقریب کے دوران ایک امریکی نژاد پاکستانی خاتون عائشہ ملک کا پرینکا سے سوال ہے، جس میں انھوں نے پرینکا کی توجہ رواں برس فروری میں جنگ کی حمایت میں کی جانے والی ایک ٹویٹ کی طرف دلائی تھی۔

عائشہ کا سوال مکمل ہونے سے قبل ہی دو سکیورٹی اہلکار ان سے مائیک چھینتے دکھائی دیے اور پرینکا نے ان سے کہا کہ ’میں نے (سوال) سن لیا۔ جب بھی آپ بھڑاس نکالنے سے فارغ ہو جائیں۔۔۔'

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر پرینکا کے اس رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور انٹرنیٹ پر ایک پیٹیشن کے حوالے سے مہم بھی چلائی گئی جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پرینکا نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ کی حمایت کی ہے اس لیے انھوں نے اقوامِ متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر رہنے کا حق کھو دیا ہے۔

مزید پڑھیں

مہوش کا پرینکا کو جواب: قوم پرستی اہم ہے یا پُرامن مستقبل

اقوام متحدہ کی سفیر جنگ کی حمایتی؟

’میں وہ لڑکی ہوں جو پریانکا پر چیخی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انٹرنیٹ پر ایک پیٹیشن کے حوالے سے مہم بھی چلائی گئی جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پرینکا نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح کے خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ و جدل کی حمایت کی ہے اس لیے انھیں اقوامِ متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر رہنے کا حق کھو دیا ہے

کیا ان سفیروں کو ہٹایا جا سکتا ہے؟

اس حوالے سے ایسے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا اقوام متحدہ اپنی غیر جانبداری کے پیشِ نظر پرینکا کو عہدے سے ہٹا بھی سکتا ہے؟

صحافی سلیم رضوی کے مطابق اقوام متحدہ کے کسی بھی خیر سگالی کے سفیر پر وہی شرائط لاگو ہوتی ہیں جو یونیسیف جیسے اقوامِ متحدہ کے دیگر اداروں پر لاگو ہوتی ہیں۔ یعنی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت امن اور سلامتی کی جو اقدار وضح کی گئی ہیں ان سے کوئی بھی منحرف نہیں ہو سکتا۔

اگر کسی بھی خیر سگالی کے سفیر کا کوئی ایسا قول یا فعل اقوامِ متحدہ کے چارٹر یا چارٹر کی روح کے خلاف ہو تو اس کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی متعلقہ ایجنسی مثلاً یونیسیف باقاعدہ جائزے اور تفتیش کے بعد اس سفیر کو ہٹا بھی سکتی ہے۔

سنہ 2017 میں زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کو اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ انصاف کے خیر سگالی کے سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

مگابے پر زمبابوے میں 37 برس تک اقتدار میں رہنے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔

لیکن پرینکا چوپڑا کے معاملے میں ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یونیسف کیا اقدام لے گی۔

خیال رہے کہ پرینکا چوپڑا نہ صرف ایک انڈین شہری ہیں بلکہ ان کے والدین انڈین فوج میں ڈاکٹر بھی تھے۔ اس لیے ان پر اپنے ملک کے بارے میں اپنے نجی احساسات کا اظہار کرنے کا الزام بھی لگ رہا ہے۔

ایک انڈین ہونے کے ساتھ ہی پرینکا اقوامِ متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر بھی ہیں تو ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ امن اور خیر سگالی کے معاملات میں عام لوگوں سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں گی۔

رواں برس دو مرتبہ انڈیا اور پاکستان کے بیچ کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے۔ رواں ماہ انڈیا کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کنٹرول لائن پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM/@PRIYANKACHOPRA
Image caption بالی وڈ اداکارہ پرینکا چوپڑا سنہ 2016 میں خیرسگالی کی عالمی سفیر بننے کے بعد افریقہ کے ملک زمبابوے میں جنسی زیادتیوں کا نشانہ بننے والے بچوں سے متعلق ایک پراجیکٹ میں شامل تھیں

خیر سگالی کے سفیر کرتے کیا ہیں؟

صحافی سلیم رضوی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر کے طور پر نامزد لوگ عام طور پر کھیل یا انٹرٹینمنٹ کے شعبوں میں مشہور ہستیاں ہوتی ہیں۔

وہ اقوامِ متحدہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پراجیکٹس جیسے انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور بچوں کے حقوق کے فروغ میں اور ان کے مسائل وغیرہ کے بارے میں عام لوگوں کو معلومات دینے اور ان کی آگاہی کے لیے کام کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ دنیا بھر میں جاری اقوامِ متحدہ کے پراجیکٹس کے لیے مالی معاونت اکٹھی کرنے میں بھی خیر سگالی کے سفیروں کی مدد لی جاتی ہے۔

یونیسف (اقوامِ متحدہ کی جانب سے بچوں کے لیے بنائے گئے فنڈ) کے خیر سگالی کے عالمی سفیر کو دنیا بھر کے ان ممالک میں بھیجا جاتا ہے جہاں بچوں کے حقوق اور ان کے مسائل وغیرہ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بالی وڈ اداکارہ پرینکا چوپڑا سنہ 2016 میں خیرسگالی کی عالمی سفیر بننے کے بعد افریقہ کے ملک زمبابوے میں جنسی زیادتیوں کا نشانہ بننے والے بچوں سے متعلق ایک پراجیکٹ میں شامل تھیں۔

اس کے علاوہ اب تک انھوں نے بچوں کے حقوق کے سلسلے میں جنوبی افریقہ میں ایک چندہ اکھٹا کرنے کی تقریب میں بھی مدد کی ہے۔

یونیسف کے خیر سگالی کے سفیر نامزد کیے گئے لوگوں کو کوئی آمدنی نہیں ملتی۔ ہاں اگر وہ اقوامِ متحدہ کے کسی پراجیکٹ کے لیے کام کرنے کے سلسلے میں سفر کرتے ہیں تو اقوامِ متحدہ ان کے اخراجات اٹھاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یونیسیف نے سنہ 1950 کی دہائی میں ہالی وڈ کے مقبول اداکار ڈینی کے کو یونیسیف کا سفیر نامزد کیا تھا

مشہور شخصیات ہی کیوں؟

مشہور ہستیوں کو اقوامِ متحدہ کے سفیر بنائے جانے کی سب سے بڑی وجہ ان کی عام لوگوں میں مقبولیت ہوتی ہے۔

اس کا فائدہ اٹھا کر ان ہستیوں کے ذریعے دنیا بھر کی توجہ ایسے موضوعات پر مبذول کرائی جاتی ہے جو عام طور پر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ مشہور شخصیات دنیا کے مختلف علاقوں اور ملکوں میں اہم فیصلے لینے والے لوگوں پر بھی اثر انداز ہو کر اقوام متحدہ کے پراجیکٹس کے بارے میں بہتر فیصلے لینے میں مدد کر سکتے ہیں۔

اس طرح یونیسیف کے خیر سگالی کے سفیر بچوں کی برابری کے حقوق، ان کی تعلیم، صحت اور حفاظت سے جڑے حقوق کے سلسلے میں یونیسیف کے پراجیکٹس میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

یونیسیف نے سنہ 1950 کی دہائی میں ہالی وڈ کے اداکاروں جیسے ڈینی کے اور اوڈرے ہیپ برن جیسے مشہور اداکاروں کو بھی یونیسیف کے سفیر کے طور پر نامزد کیا تھا۔

خیال رہے کہ یونیسف میں ایگزیکٹو بورڈ اس ایجنسی کے کام پر نظر رکھتا ہے۔ اس بورڈ میں 36 ممبران ہوتے ہیں جو دنیا بھر کے پانچ مختلف علاقوں میں بانٹے گئے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یونیسف کا ایگزیکٹو بورڈ اس کی تمام کارروائیوں کا جائزہ لیتا ہے اور پالیسیوں، بجٹ وغیر کی منظوری دیتا ہے۔ یونیسف کے ایگزیکٹو بورڈ کا سال میں تین مرتبہ اجلاس ہوتا ہے۔

اگلے ماہ 11 سے 13 ستمبر تک اس بورڈ کا اجلاس اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو گا۔

اسی بارے میں