طالبان کی واپسی کے امکان سے پریشان افغان خواتین: ’ہم واپس پیچھے نہیں جانا چاہتے‘

افغان خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption افغان خواتین کے مطابق غربت، ملازمت کا حق اور مواقع کی کمی ان کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہیں

افغانستان میں سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک طالبان کے دور میں خواتین کو تعلیم اور روزگار سمیت بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔

طالبان دور کے خاتمے کے 18 برس بعد اب جیسے جیسے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں افغان خواتین میں پائی جانے والی اس تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں طالبان کی واپسی سے ان کی آزادی سلب نہ ہو جائے۔

افغانستان کو خواتین کے لیے دنیا بھر میں سب سے خطرناک ملک قرار دیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق سکول جانے والی لڑکیوں یا کام کرنے والی خواتین پر مسلح گروہوں کے حملے، غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، زبردستی یا پھر کم عمری میں شادی، جنسی زیادتی اور بنیادی انسانی حقوق تک رسائی وہ عوامل ہیں جو افغان خواتین کی زندگیاں اجیرن بنا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’مجھے اپنے کام سے محبت ہے اور اسے کھونا نہیں چاہتی‘

ہنرمند افغان خواتین کا مینا بازار

افغان خواتین خودکشی کیوں کر رہی ہیں؟

گلوکارہ کو دھمکیاں اور نیک تمنائیں

افغان خواتین اور مردوں نے رواں برس مارچ میں سوشل میڈیا پر ’مائی ریڈ لائن‘ کے نام سے ایک ہیش ٹیگ شروع کیا جس کے تحت خواتین اپنے حقوق کی بات کرتی نظر آتی ہیں۔

اکثر خواتین کہتی ہیں وہ کسی بھی قیمت پر اپنے بنیادی حقوق سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہتیں۔

انگریزی میں ’مائی ریڈ لائن‘، پشتو میں ’زما سرہ کرشہ‘ اور دری میں ’خط سرخ من‘ سوشل میڈیا پر جاری وہ ہیش ٹیگ ہیں جن میں افغانستان سمیت دنیا بھر میں مقیم افغان خواتین اپنے پیغامات شیئر کر رہی ہیں۔

’میں سکول جانا چاہتی ہوں‘، ’ہم واپس پیچھے نہیں جانا چاہتیں‘، ’ہم اپنے حقوق کے لیے اکٹھے لڑتے رہیں گے‘ اور ان جیسے سینکڑوں پیغامات مختلف خواتین اور افغان لڑکیوں کی جانب سے شئیر کیے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Farahnaz Forotan
Image caption فرح ناز فروتن مائی ریڈ لائن نامی مہم کی روحِ رواں ہیں

کابل میں مقیم صحافی فرح ناز فروتن نے اس ہیش ٹیگ کا آغاز کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’میں ایک صحافی ہوں، مائی ریڈ لائن میرا قلم اور اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔‘

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار شازیہ حیا سے بات کرتے ہوئے فرح ناز فروتن کا کہنا تھا ’ہم جنگ سے تنگ آ چکے ہیں لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ مذاکرات کے لیے ہر صورت حاضر ہو جائیں یا پھر امن معاہدہ کر لیں۔ امن معاہدہ کس قیمت پر، ہم خواتین کی آزادی کی قیمت پر؟‘

کیا امریکہ اور افغان حکومت ایک پیج پر ہیں؟

کیا ’دنیا کے مہلک ترین محاذ‘ میں امن آ سکے گا؟

افغان مذاکرات میں ’پیشرفت‘ لیکن معاہدے میں وقت لگے گا

افغانستان میں اکثر لوگ فرح ناز اور یہ ہیش ٹیگ چلانے والوں پر تنقید کر رہے ہیں کہ یہ صرف شہروں میں پر آسائش زندگیاں گزارنے والی خواتین کے احساسات ہیں اس کے برعکس جنگ کی آگ میں دیہات اور دور دراز علاقوں کی رہنے والی خواتین پس رہی ہیں۔

تاہم فرح ناز کہتی ہیں کہ وہ ان ماؤں، بہنوں کی بات کر رہی ہیں جن کے بچے اس جنگ کا شکار ہوئے ہیں۔

’ایک ماں چاہتی ہے کہ جنگ ختم ہو جائے تاکہ اس کے بچے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ جنگ ختم ہو تاکہ اس ماں کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور میں بھی مجبور نہ ہو جاوں کہ واپس اس تاریک دور میں چلی جاؤں جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔‘

اگرچہ سوشل میڈیا پر فعال اکثر افغان خواتین اس ہیش ٹیگ کی حمایت میں پیغامات شئیر کرتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ مذاکرات کے اس ماحول میں ان کی بات بھی سنی جائے لیکن بعض افغان خواتین اس مہم کو علامتی سمجھتی ہیں اور ان کے مطابق وہ نہیں سمجھتیں کہ اس سے کوئی فرق پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ADEK BERRY / Getty
Image caption عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دس لاکھ سے زائد افغان ذہنی دباؤ کا شکار ہیں

صحافی اور شاعرہ شفیقہ خپلواک کہتی ہیں، ’مائی ریڈ لائن اور اس طرح کی مہم اچھی کاوش ہے تاکہ اس پر کوئی بات کرے اور خواتین متحد ہو جائیں لیکن میرے خیال میں یہ صرف سیاسی اور علامتی ہے نہ کہ عملی۔ میں نہیں سمجھتی کہ اس طرح کی مہم سے افغان خواتین کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئے گی۔‘

شفیقہ خپلواک کے مطابق افغانستان میں کئی عشروں سے جنگ جاری ہے اور آج تک کسی نے اس طرح کی مہم نہیں چلائی کہ اس جنگ میں ’مائی ریڈ لائن‘ کیا ہے لیکن اب جب امن معاہدے کی باتیں ہو رہی ہیں، تو اس طرح کے مہم چل رہی ہیں۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین بھی اس مہم سے لاعلم نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے الزام لگایا کہ یہ ہیش ٹیگ چلانے والی خواتین بیرون ملک مقیم ہیں اور وہ افغانستان کے حقیقی خواتین کی نمائندگی نہیں کر سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ افغان خواتین کو وہ تمام حقوق دیں گے جن کی اسلام اور افغان معاشرے میں اجازت ہو گی۔

اسی بارے میں