کشمیری لڑکی کی ڈائری: ’میں کشمیری ہونے کی حیثیت سے بھی مظلوم ہوں اور انسان ہونے کی حیثیت سے بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرینگر میں 30 اگست کو ہونے والے مظاہرے میں شریک خواتین سکیورٹی فورسز سے ہونے والی جھڑپ کے بعد محفوظ مقام کی طرف بھاگ رہی ہیں (فائل فوٹو)

28 سالہ تسنیم شبنم (فرضی نام) سکالر ہیں اور انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ پرانے سرینگر کی رہائشی ہیں۔ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد وہاں کے رہنے والے مختلف پابندیوں کی زد میں ہیں اور بیرونی دنیا کے ساتھ ان کے رابطے محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں تسنیم شبنم سری نگر میں عام لوگوں کے معمولات اور احساسات کو بی بی سی کے لیے ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں جو ان صفحات پر شائع کی جائے گی۔

جولائی کے آخری ہفتے میں افواہوں کا بازار گرم ہوا تو میں نے اسے بھی ماضی کی افواہوں کی طرح سمجھا۔ میں یونیورسٹی سے لوٹ رہی تھی تو بس میں لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہو گی تو کوئی دفعہ 370 کو ہٹانے اور لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام خطہ قرار دینے کی پیشن گوئی کر رہا تھا۔

مجھے ڈر سا لگا۔ یہ کوئی عام افواہ نہیں تھی۔ بس میں لوگ باتیں کر رہے تھے کہ کشمیر کو انڈین وفاق میں ضم کیا گیا تو کشمیر فلسطین بن جائے گا، یہاں غیر کشمیر باشندے آباد ہو جائیں گے، زمینیں چھین لی جائیں گی اور ہم اپنے ہی وطن میں اجنبی بن جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

ایسے میں میرا وجود ایک دوہرے خوف کے محاصرے میں تھا۔

میں جب یونیورسٹی کے لیے نکلی تھی تو اے ٹی ایمز کے باہر لمبی قطاریں دیکھیں، دکانوں پر خریداروں کا ہجوم تھا، اور ہر کشمیری جیسے زندگی کی جنگ لڑنے کی تیاری میں تھا۔ میں نے دھیان نہ دیا کیونکہ میں اس افراتفری پر توجہ دیتی تو زیادہ پریشان ہو جاتی۔

یہ بھی پڑھیے

’ایسا لگتا ہے ڈل جھیل بھی خوفزدہ ہے‘

کشمیریوں کا پرتشدد فوجی کریک ڈاؤن کا الزام

کشمیر: ’وہ تھوکتا رہا اور پھر اسے دل کا دورہ پڑ گیا‘

کشمیر:’سب ڈرے ہوئے ہیں،کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا‘

اگلے دن حکومت نے سیاحوں اور یاتریوں کو یہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تو کشمیرمیں نفسا نفسی کا عالم برپا ہو گیا، گویا یہ طبلِ جنگ تھا۔

میں رات کے وقت اُن کے ساتھ چیٹ کر رہی تھی کہ اچانک انٹرنیٹ کی ساری لائنز معطل ہو گئیں۔ مگر اس بار کچھ عجیب احساس نے جیسے میری جان ہی نکال دی۔ افواہیں اُڑیں کہ جنگ ہو گی۔ اگر جنگ ہوئی تو میں اُسے کہاں ڈھونڈوں گی؟ اُسے کچھ ہو گیا تو مجھے کون بتائے گا؟ کاش ہم ایک ہی جگہ مرتے؟ جنگ کے ساتھ ساتھ کشمیر کو تقسیم کرنے اور کشمیریوں کے آئینی حقوق سلب کرنے کی افواہ بھی اُڑی۔

میں افواہوں پر یقین نہ کرتی لیکن مجھے کافی عرصے سے احساس تھا کہ میں جہاں رہتی ہوں وہاں اکثر افواہیں سچ بھی ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔

کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کیے جانے کے بعد عوامی ردعمل کے خوف سے وادی میں سخت ترین کرفیو نافذ تھا۔ اعلان حیران کن تھا، اس کا نتیجہ نہیں۔ مجھے تو گھر میں Curfew Kid کہتے تھے۔

میں سنہ 1991 کی بہار میں پیدا ہوئی ہوں۔ میرے والدین کہتے ہیں کہ میرے پیدا ہونے سے چند روز پہلے بھی کرفیو نافذ تھا۔ کشمیری پنڈت وادی چھوڑ چکے تھے، فورسز پر حملے ہو رہے تھے، میر واعظ مولوی فاروق کے قتل کے بعد ان کے جنازے پر فائرنگ میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TASNIM SHABNAM

میں کرفیو، کریک ڈاون اور بندشوں کے دوران ہی تو سکول، کالج اور یونیورسٹی کے مراحل طے کر چکی ہوں۔

لیکن اس بار یہ سب میری زندگی کے ایسے مرحلے پر رونما ہوا، جہاں مجھے دوہرے خوف کے احساس نے جکڑ لیا۔ پہلی بار مجھے لگا کہ میں ایک کشمیری ہونے کی حیثیت سے بھی مظلوم ہوں اور ایک انسان ہونے کی حیثیت سے بھی۔ بتایا گیا کہ قوم کی شناخت، اس کی خصوصی آئینی پوزیشن اور اس کا وقار چھینا جا رہا ہے۔ تو کشمیری ہونے کی حیثیت سے میں بے بس اور لاچار تھی۔

پہلی مرتبہ کشمیر میں لینڈ لائن ٹیلی فون بند کیے گئے۔ باہری دنیا سے رابطے کا ہر ذریعہ معطل تھا۔ میں عرصے سے جانتی ہوں جس شخص کو اپنی زندگی سمجھتی ہوں، وہ میرا نہیں ہو سکتا۔ سماجی اقدار، سماجی روایات اور ڈھیر ساری دیواریں ہم دونوں کے ایک ہونے میں حائل ہیں۔ ایک انٹرنیٹ اور فون ہی تو تھا، جو مجھے اُس کے پاس ہونے کا احساس دیتا تھا۔ لیکن آج جب رابطے کا ہر ذریعہ بند ہے، مجھے لگا کہ میں کشمیری ہونے کی حیثیت سے ہی نہیں، انسان ہونے کی حیثیت سے بھی مظلوم ہوں۔

ایک دن، دو دن، تین دن یہاں تک کہ ایک ہفتہ گزر گیا۔ کوئی رابطہ نہیں، کوئی اطلاع نہیں، کوئی خبر نہیں۔ وہ ہے کہاں؟ یہ سوال اتنا تکلیف دہ نہیں تھا جتنا یہ کہ ’وہ ٹھیک تو ہے؟۔‘

جب آپ سماج کے دیرینہ اقدار کے برعکس کسی رشتے میں بندھے ہوں اور آپ نارمیلسی میں بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے کئی پاپڑ بیل رہے ہوں، تو کرفیو اور ٹیلی رابطوں پر قدغن گویا آپ کے لیے سزائے موت ہوتی ہے۔

میں کسی سے شیئر بھی نہیں کر سکتی، کسی سے پوچھ نہیں سکتی، اُس کے گھر یا دفتر نہیں جا سکتی۔ کرفیو، قدغنوں اور بے بسی کے عالم میں لوگوں نے کہا کہ قوم کی شناخت چھین لی گئی۔ اس بات پر میں افسردہ تھی، لیکن کئی سوالات میرے وجود کو کُرید رہے تھے۔ کیا شناخت چھینی یا مٹائی بھی جاسکتی ہے؟ یہ سوال کشمیری ہونے کی حیثیت سے تکلیف دہ تو ہے ہی، لیکن ایک انسان ہونے کی حیثیت سے یہ میرے دل میں ہزار سوئیاں چبھو رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرینگر کے علاقے صورہ میں 31 اگست کو ہوئے احتجاج کا منظر (فائل فوٹو)

میں سوچنے لگی کہ اگر محض ایک رشتہ قائم کرنے کی میری چوائس سماج کو منظور نہیں، تو کیا میری بھی شناخت مٹائی جائے گی؟

تاریخ کا سخت ترین کرفیو تھا لیکن کھانے پینے کی کوئی قلت محسوس نہیں ہوئی۔ دکاندار پچھلے دروازے سے اشیا بیچ رہے تھے، دُودھ والا ہماری ہی طرح بیشتر علاقوں میں جا رہا تھا۔لیکن میں سوچتی رہی کہ کھانا پینا بند کر دیتے، مگر ٹیلی رابطوں کو بخش دیتے۔

حکومت بار بار کہتی ہے سب نارمل ہے۔ حکومت کا مطلب ہے سڑکوں پر گاڑیاں چلنا، سبزی اور دُودھ کا ملنا، بجلی اور پانی مہیا ہونا، محدود پیمانے پر ہی صحیح لیکن ایمرجنسی کے وقت آنے جانے کی آزادی۔ آپ دلوں کے اندر جھانکنےکا کوئی آلہ ایجاد کریں، پھر دیکھیں کہ کیا کیا نارمل ہے یہاں۔

قید میں پڑے یا قبروں میں سوئے بیٹوں کی ماؤں کا درد میں جانتی ہوں، لیکن اسے محسوس نہیں کرسکتی۔ ہر کشمیری کا دل زخمی ہے، ہر دل کو ان بندشوں نے معذور کر کے رکھ دیا ہے۔ جب بھی حالات کشیدہ ہوتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اب ٹیلیفون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہو جائے گی، میرا دل گویا بیٹھ ہی جاتا ہے۔

میں کئی سال سے سوچ رہی تھی کہ میں جسے چاہتی ہوں وہ اگر واقعی میرا ہوا تو مجھے ’خصوصی حیثیت‘ حاصل ہو جائے گی۔ لیکن جب قوم کی خصوصی حیثیت ہی ختم ہو گئی تو میرے پیروں تلے کی زمین کھسک گئی۔

اسی بارے میں