جوہری معاہدہ: ایران کا یورینیم افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز تیار کرنے کا اعلان

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران نے جوہری معاہدے کے تحت عائد پابندی پر جوہری تحقیق اور ترقی کے وعدے سے دستبردار ہوتے ہوئے یورینیم افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ سے ایران یورینیم افزودگی میں تیزی لانے کے لیے سینٹری فیوجز تیار کرنا شروع کر دے گا۔

یہ عالمی طاقتوں کے ساتھ سنہ 2015 میں کیے گیے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں سے دستبرداری کا تازہ ترین اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے سے جنگ کا خطرہ‘

امریکہ ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا: ایران

’صدر ٹرمپ سے ملاقات کا سوچا بھی نہیں جا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ سے ایران یورینیم افزودگی میں تیزی لانے کے لیےسینٹرفیوجس تیار کرنا شروع کردے گا

یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ایران کا کہنا تھا کہ یورینیم افزودگی کا مقصد ریکٹر کے لیے ایندھن پیدا کرنا ہے تاہم امریکہ اور یورپ کا ماننا ہے کہ ایسا جوہری پروگرام کی بڑھوتری کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔

گذشتہ برس امریکہ نے سنہ 2015 کے معاہدے سے کنارہ کشی اختیار کی تھی اور ایران کے خلاف پابندیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ جس کے جواب میں ایران جولائی میں جوہری معاہدے کے تحت دو دیگر اہم وعدوں کو ترک کیا تھا۔

ایران نے اپنے کم افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں 300 کلو گرام حد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خالص یورینیم افزودگی کی 3.67 فیصد حد سے تجاوز کیا تھا۔

اسی بارے میں