ایسٹ انڈیا کمپنی کی افیون کی تجارت نے انڈین کاشتکاروں کو غربت میں دھکیل دیا

افیون فیکٹری کے مناظر تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive
Image caption کنگا دریا پر قائم دو افیون فیکٹریوں میں کئی ہزار لوگ کام کرتے ہیں

امیتاو گھوش کا مشہور ناول ’سی آف پوپیز‘ میں ایک خاتون کردار ہے جس کا تعلق شمالی انڈیا کے ایک ایسے گاؤں سے ہے جہاں افیون کی کاشت ہوتی تھی۔ اس کا افیون کے بیج کو پہلی بار دیکھنے کا تجربہ اس کی یاداشت میں اب تازہ ہے۔

جب وہ افیون کے بیج کو ایسے دیکھتی ہے جیسے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو اور پھر اسے اچانک سمجھ آتی ہے کہ یہ کسی اور سیارے سے نہیں آیا بلکہ یہ بذات خود ایک چھوٹا سا کُرّہ ہے جو بہت خوبصورت، بہت رحم دل لیکن اتنا ہی تباہ کن اور انتہائی منتقم بھی ہے۔

ناول کا دور وہ ہے جب شمالی انڈیا میں تیرہ لاکھ کاشتکار افیون کاشت کرتے تھے۔ ان کاشتکاروں کی آمدن کا پچیس سے پچاس فیصد افیون سے حاصل ہوتا تھا۔ انیسویں صدی کے اختتام تک موجودہ انڈیا کی ریاست اترپردیش اور بہار کی ایک کروڑ آبادی افیون کی کاشت سے متاثر ہو رہی تھی۔

گنگا پر قائم دو افیون فیکٹریوں میں کئی ہزار لوگ کام کرتے جہاں وہ اس سفید رنگ کے مائع کو سوکھاتے اور ان کے چھوٹے کیک بنا کر انھیں لکڑی کے ڈبوں میں بند کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

'اوپیئم وار'چینیوں کو یاد ہے‘

'انگریزوں کو میرا جسم نہیں ملنا چاہیے'

جلیانوالہ باغ: برطانیہ سے معافی کا مطالبہ

افیون کی تجارت کا اختیار صرف ایسٹ انڈیا کمپنی کو تھا جسے برطانیہ کے شاہی چارٹر کے تحت ایشیا میں تجارت کی اجارہ داری حاصل تھی۔ حکومت کی تحویل میں چلنے والا افیون کا کاروبار چین کے ساتھ دو جنگوں کے بعد عروج کو پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive
Image caption شمالی انڈیا میں ایک افیون فیٹکری کے مناظر

کچھ تاریخ دانوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ افیون کا کاروبار انڈیا کی دیہی معیشت کے لیے فائدہ مند تھا جس سے کاشتکار خوش تھے لیکن ایک تازہ تحقیق میں اس موقف کو رد کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ویانا کے پروفیسر ڈاکٹر رولف باور نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ افیون کی کاشت انڈین کاشتکاروں کے لیے منافع بخش نہیں تھی اور وہ اس سے خوش نہیں تھے۔

ڈاکٹر باور نے ایسے افیون کے کاروبار سے متعلق دستاویزات کا برسوں مطالعہ کیا۔ انھوں نے رائل کمیشن آف اوپپئم کی سات جلدوں میں شائع ہونے والی رپورٹ کا بھی مطالعہ کیا ہے۔

اس رپورٹ میں اٹھائیس ہزار سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں انڈیا میں افیون کے استعمال کے بارے میں ہزاروں گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے اور ایسی دستاویزات کا مطالعہ کیا گیا کہ کس طرح نوآبادیاتی طاقت افیون کی پیداوار اور استعمال کو کنٹرول کرتی تھی۔

ڈاکٹر باور نے اپنی تحقیق کو ’دی پیزنٹ پروڈکشن آف اوپیئم ان نائنٹین سنچری انڈیا‘ میں شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر باور کی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ افیون کا کاروبار کافی حد تک استحصالی تھا جس نے انڈین کاشتکاروں کو غربت میں دھکیل دیا۔

ڈاکٹر باور نے بی بی سی کو بتایا کہ کاشتکاروں کے لیے افیون کی کاشت منافع بخش نہیں تھی اور اگر ابھیں افیون کاشت کرنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو ان کی مالی حالت بہتر ہوتی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کو افیون کے کاروبار پر اجارہ داری حاصل تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے افیون کی پیدوار کے لیے اوپیئم ایجنسی نامی ایک ادارہ قائم رکھا تھا جس کے دس مختلف دفاتر میں ڈھائی ہزار کلرک کام کرتے تھے۔

اوپیئم ایجنسی کے کلرک کاشتکاروں سے زبردستی افیون کی کاشت کے معاہدے کرتے تھے۔ اوپیئم ایجنسی کے ملازمین کا رویہ پولیس اہلکاروں جیسا ہوتا تھا۔

کاشتکاروں کو ایک سیر (تول کا نظام) افیون پیدا کرنے پر کمیشن ملتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

'اوپیئم وار'چینیوں کو یاد ہے‘

افغانستان میں پوست کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ

طالبان کے پاس کتنی دولت ہے؟

Image caption افیون کی فیکٹری کا اندرونی منظر

حکومتی کنٹرول میں یہ کاروبار خوب پھلا پھولا اور جہاں انیسویں صدی کے اوئل میں افیون کے صرف چار ہزار صندوق پیدا ہوتے تھے وہ 1880 میں بڑھ کر 60 ہزار صندوق ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر باور کہتے ہیں کہ انیسویں صدی میں افیون برطانوی ریاست کی آمدن کا دوسرا بڑا ذریعہ تھا۔ برطانوی راج کو افیون سے زیادہ آمدن صرف ٹیکسوں سے ہوتی تھی۔

انڈیا آج بھی دوا سازی کے لیے ضروری افیون کی پیداوار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

ڈاکٹر باور کہتے ہیں کہ افیون کی کاشت کا لاکھوں افراد کی زندگیوں پر منفی اثر پڑا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی افیون کے کاشتکاروں کو بغیر سود کے قرضے جاری کرتی تھی اور کاشتکار کسی اور ذریعے سے رقم حاصل کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

عالمی مارکیٹ کی پیدوار کے لیے ایسا کرنا کوئی برا عمل نہیں تھا لیکن ڈاکٹر باور کے مطابق جو چیز بری تھی وہ افیون کی پیداوار کے لیے درکار ضروری چیزیں، جس میں مزدوری، کرایہ، کھاد، آبپاشی کی بہت زیادہ قیمت وصول کی جاتی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ کاشتکار کو افیون کی فروخت میں جنتا منافع ہوتا تھا اس سے زیادہ وہ اس کی پیداوار پر خرچ کر چکا ہوتا تھا اور پھر قرض کے ایسے جال میں پھنس جاتے تھے جہاں سے نکلنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rischgitz
Image caption برطانیہ نے چین میں افیون کی تجارت کے حقوق حاصل کرنے کے لیے چین کے ساتھ جنگیں لڑیں

اوپیئم ایجنسی کاشتکاروں کے لیے افیون کی کاشت کے ٹارگٹ مقرر کرتی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ چھوٹے کاشتکار کے پاس یہ سہولت موجود ہی نہیں تھی کہ وہ افیون کی کاشت کو روک کر دوسری منافع بخش فصلوں کو اپنا سکے۔

کاشتکاروں کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنی زمین اور مزدوری کا ایک حصہ حکومتی برآمدات کے لیے مختص کریں۔

مقامی زمیندار اپنے بے زمین ہاریوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ افیون کی کاشت کریں اور جو ان احکامات سے روگردانی کی کوشش کرتا تو اس کو اغوا، گرفتاری یا فصلوں کو تباہی جیسے خطرات لاحق ہو جاتے تھے۔

ڈاکٹر باور کہتے ہیں کہ کاشتکاروں کو افیون کی کاشت پر مجبور کرنے کا ایک جابرانہ نظام تھا۔

اس وقت افیون کی سب سے بڑی مارکیٹ چین سے تجارت 1915 تک ختم ہو چکی تھی لیکن افیون کی کاشت پر برطانیہ کی اجارہ داری انڈیا کی آزادی تک برقرار رہی۔

لیکن جو چیز ڈاکٹر باور کے لیے حیران کن ہے وہ یہ کہ ’کس طرح چند ہزار کلرکوں نے لاکھوں کاشتکاروں کو ایسی فصل کاشت کرنے پر مجبور کیا جس سے اصل میں ان کا نقصان ہوتا تھا‘

جو ایک ایک اہم سوال ہے۔۔۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں