آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا ہے؟

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں عمومی رائے یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا ہے

انڈیا میں عمومی رائے یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

اس رائے کو تقویت اس حکومتی دعوے سے بھی ملتی ہے کہ پانچ اگست کو کیے گئے فیصلے کے بعد سے وادی میں بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات رونما نہیں ہوئے ہیں۔ ان حکومتی دعوؤں کے بعد کوئی بھی شخص یہ مان سکتا ہے کہ وادی میں لوگوں نے انڈین حکومت کے اس بڑے فیصلے کو قبول کر لیا ہے۔

انڈیا کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ سمجھتا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ یہ ہے کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

کشمیری علیحدگی پسند اپنے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں اور گذشتہ تین دہائیوں سے وادی کو مسلح شورش کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں صحافیوں کے لیے کام کرنا ’تقریباً ناممکن‘

کشمیر ڈائری: کیا شناخت چھینی یا مٹائی جا سکتی ہے؟

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: ’ہمیں انسانیت نہیں کھونی چاہیے‘

دوسری جانب اگرچہ اقلیت میں ہی سہی لیکن وادی میں ہند نواز عناصر بھی ہیں جو ریاست کشمیر کے لیے خصوصی حقوق چاہتے ہیں مگر انڈین آئین کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جموں اور کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔

انڈین انڈیپینڈنٹ ایکٹ کے تحت بنائے گئے تقسیم کے منصوبے میں کشمیر کو یہ آپشن دیا گیا تھا کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں سے کسی کے ساتھ بھی انضمام کر سکتا ہے۔

کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ ابتدا میں چاہتے تھے کہ کشمیر آزاد حیثیت میں رہے مگر اکتوبر 1947 میں پاکستان کے قبائلی جنگجوؤں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کے عوض مہاراجہ نے انڈیا سے الحاق کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مہاراجہ ہری سنگھ نے اکتوبر 1947 میں پاکستان کے قبائلی جنگجوؤں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کے عوض انڈیا سے الحاق کا فیصلہ کیا

اس کے بعد جنگ شروع ہو گئی اور انڈیا نے اقوام متحدہ سے اس معاملے پر مداخلت کرنے کو کہا۔ اقوام متحدہ کی ایک قرارداد میں یہ تجویز دی گئی کہ انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے سوال پر ریفرینڈم کروایا جائے۔

جولائی 1949 میں انڈیا اور پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت اقوام متحدہ کی جانب سے بنائی گئی جنگ بندی لائن جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے، کا اعلان کیا گیا۔

سنہ 1956 میں انڈیا نے آرٹیکل 370 کو آئین کا حصہ بنایا۔ اس آرٹیکل کے تحت انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کو خصوصی حقوق دیے گئے۔ اب انڈیا نے اس خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔

انڈیا کا مؤقف ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ (حصہ) ہے اور اس مؤقف پر انڈین حکومت، حزبِ اختلاف اور عوام میں اتفاق ہے۔ انڈیا نے واضح کیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اس کے حالیہ اقدام کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

لداخ کے شہر لیہ میں اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جشن منایا گیا۔ کارگل میں بسنے والے ہمیشہ سے انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں مگر اس خصوصی حیثیت کے تحت جو آرٹیکل 370 میں دی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔

مگر کیا کشمیر میں بسنے والے 70 لاکھ افراد جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا؟ ہمیں ان کے خیالات کا تب ہی پتا چل پائے گا جب لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہو گا اور وادی سے سکیورٹی کا حصار ختم ہو گا۔

تاہم ایک بات بہت واضح ہے کہ کریک ڈاؤن کی وجہ سے انڈیا کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔

انڈین اخبار دی ہندو کے صحافی نیروپاما سوبرامانین نے کشمیر کی صورتحال پر وہاں سے براہ راست رپورٹنگ کرنے کے بعد ٹویٹر پر لکھا ’یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ انڈیا کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ جشن کے بادل چھٹنے کے بعد درپیش مسائل واضح ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption علیحدگی پسندوں کے نزدیک انھیں انڈین حکومت کے اس فیصلے سے کوئی سروکار نہیں ہے

حال ہی میں کشمیر کی رپورٹنگ کر کے واپس لوٹنے والے کشمیری صحافی راہل پنڈیتا سمجھتے ہیں کہ انڈین حکومت کا یہ اقدام کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی جانب پہلا ٹھوس قدم ہے۔

ان کا کہنا ہے ’دیکھیے یہ کشمیر کے مسئلے کا اختتام نہیں ہے مگر یہ اس مسئلے کے حل کی جانب انڈین حکومت کا پہلا ٹھوس قدم ہے۔‘

پانچ اگست کو کیے گئے انڈین حکومت کے اس اقدام کے بعد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال اور وہاں کے لوگوں کے تاثرات اور خیالات کے بارے میں بی بی سی بڑے مفصل انداز میں رپورٹنگ کر رہا ہے۔

وہاں کے لوگ اکثر ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جب وادی میں صورتحال نارمل ہو گی تو ان کے غصے کا واضح اظہار سامنے آئے گا جسے فی الوقت طاقت کے زور سے دبایا گیا ہے۔

اسی طرح کے خیالات کا اظہار ہند نواز لوگوں نے بھی کیا۔ ان کی شکایت یہ ہے کہ انڈین حکومت نے اس فیصلے سے قبل، جس نے ان کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، ان سے مشورہ نہیں کیا۔ وہ وادی میں ہمیشہ انڈیا کے ساتھ کھڑے ہوئے مگر حکومتی فیصلے سے وہ ایسا محسوس کر رہے ہیں جیسے ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہو۔

علیحدگی پسندوں کے نزدیک انھیں انڈین حکومت کے اس فیصلے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

ان کا اصرار ہے کہ وہ ’آزادی‘ کے لیے لڑ رہے ہیں اور ان کی آزادی کی خواہش پر انڈین حکومت کے کسی فیصلے کا کوئی اثر نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر اب مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

کشمیری صحافی راہل پنڈیتا کی دلیل یہ ہے کہ گذشتہ 70 برسوں کے دوران بیشتر انڈین حکومتوں نے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں لیکن ’کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کا دعوی یہ ہے کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے

ان کا مزید کہنا تھا ’70 برسوں میں کشمیری قیادت وادی میں ایک زبان جبکہ دلی میں دوسری زبان بولتی آ رہی ہے جس کے باعث وہاں بسنے والے الجھن کا شکار ہیں۔ اس الجھن کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جا سکتا۔ انڈیا میں برسراقتدار رہنے والی حکومتیں اس کی ذمہ دار ہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں کشمیر پر فوری ردعمل دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ انڈین اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’یہ انڈیا کا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ اب اگر انڈیا سنجیدہ ہے تو پھر اسے کشمیر کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بسنے والوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ دنیا بھر میں کشمیر کے سفیر بنیں گے اور کشیمریوں کے لیے آخر دم تک لڑتے رہیں گے۔

انڈیا میں عام تاثر یہی ہے کہ اب خراب معیشت اور بین الاقوامی حمایت سے محرومی کے باعث پاکستان کشیمریوں کے لیے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ ان کی حکومت کے پاس اب بھی آپشنز موجود ہیں۔

’ہم نے پہلے سے ہی بہت سارے آپشنز تیار کر رکھے ہیں۔ ہم سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے حقِ خود ارادیت پر کام کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں عام تاثر یہی ہے کہ اب خراب معیشیت اور بین الاقوامی حمایت سے محرومی کے باعث پاکستان کشمیریوں کے لیے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے

ان کا کہنا ہے کہ جب تک انڈیا کشمیر پر اپنا غیر قانونی تسلط، کرفیو کا خاتمہ اور افواج کو کشمیر سے نکال کر واپس بیرکوں میں نہیں بھیجتا اس وقت تک انڈیا سے مذاکرات کا دروازہ بند رہے گا۔

پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے سامنے اٹھایا ہے۔ شمشاد احمد خان کے مطابق عمران خان اقوام متحدہ میں اپنی 27 ستمبر کو ہونے والی تقریر میں کشمیر کے مسئلے پر زور شور سے آواز اٹھائیں گے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس موقع پر وہاں موجود ہوں گے۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی اپنی تقریر میں کشمیر کے مسئلے پر بات کریں گے۔ بین الاقوامی برادری اور قابل قدر عالمی طاقتیں کشمیر میں بہت ہی کم دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کا پاکستان اور انڈیا دونوں کو ہی یہ مشورہ ہے کہ وہ باہمی بات چیت سے اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔

برطانیہ نے انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر خاص تشویش کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تاہم برطانیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق تمام الزامات کی فوری طور پر صاف، شفاف اور جامع تحقیقات ہونی چائییں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب کا برطانوی پارلیمان سے خطاب میں کہنا تھا کہ انھوں نے سات اگست کو اپنے انڈین ہم منصب جے شنکر کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ صورتحال کا جائزہ لیتا رہے گا۔

اس کے علاوہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو سری لنکا میں منعقد ہونے والی یونیسف کانفرنس میں بھی اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ چین، ملائشیا اور ترکی نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی جبکہ امریکہ کے صدارتی امیدوار اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن برنی سینڈرز نے بھی کشمیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، اب انڈیا کو بھی اس غلطی کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔

حتیٰ کے انڈین مؤقف کے اعتبار سے بھی مسئلہ کشمیر ابھی حل نہیں ہوا ہے۔ انڈیا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ جلد انڈین سپریم کورٹ اس پر سماعت کا آغاز کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption علیحدگی پسندوں کے مطابق آرٹیکل 370 کا خاتمہ ان کی ’آزادی‘ کی خواہش پر اثر انداز نہیں ہو گا

راہل پانڈیتا کی رائے میں پارلیمنٹ کے فیصلے کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے ’میرے خیال میں اب کشمیر کے مسئلے پر کوئی یوٹرن نہیں لیا جائے گا۔‘

انڈین وزیر داخلہ امت شاہ کو یہ امید ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اس فیصلے کو قانونی تائید بھی حاصل ہو گی۔

دوسرا چیلنچ وادی کشمیر کی عوام کے دلوں اور ذہنوں کو جیتنا ہو گا جو کہ انڈیا کے خلاف کشمیریوں کا غم وغصہ دیکھ کر ایک انتہائی مشکل کام دکھائی دیتا ہے۔

اس سب کے باوجود مسئلہ کشمیر حل طلب ہی رہے گا جب تک کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر کوئی پیشرفت ممکن نہیں ہوتی کیونکہ انڈیا اسے بھی اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے۔

راہل پانڈیتا کہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کو عملیت پسندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی رائے میں دونوں ممالک کو لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرلینا چاہیے۔ یہ تجویز پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان زیر غور رہی لیکن بعد میں اس پر کام روک دیا گیا۔

شمشاد احمد خان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اب پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ معاملہ بن چکا ہے۔ ان کے خیال میں کشمیر کا ایک ہی حل ہے کہ پاکستان اور انڈیا کشمریوں کو ساتھ لے کر مذاکرات کی میز پر آ جائیں اور اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر لیں۔

ان کا کہنا ہے ’ایسا ممکن ہے۔‘ مگر یہ وہ تجویز ہے جسے شاید انڈیا میں زیادہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکے۔

اسی بارے میں