عراق: سامرہ کے مظلوم روضہ عسکرین کی داستان جسے متعدد بار دولت اسلامیہ نے نشانہ بنایا

سامرا تصویر کے کاپی رائٹ Sana Batool

عراق کے صوبے صلاح الدین کے دارالخلافہ سامرہ میں قدم قدم پر سکیورٹی چیک پوسٹیں ہیں جبکہ عراقی پرچم لہراتے بکتر بند ٹینک، گولیوں اور راکٹوں کی زد میں آئیں عمارتیں اور دیواریں اور جلی ہوئی بسیں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔

بغداد سے 124 کلومیٹر دور دریائے دجلہ کے مشرق میں واقع یہ شہر ہر گزرتے زائر کے لیے تباہی و ویرانی کا منظر پیش کرتا ہے۔

یہاں ریت و بارود سے اُڑی بوسیدہ اور تباہ شدہ عمارتیں ہیں جن پر گذشہ برسوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے آثار آج بھی نمایاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کربلا اور نجف توجہ کے طالب

کیا داعش افغانستان میں دوبارہ فعال ہو رہی ہے؟

کیا دولتِ اسلامیہ برصغیر میں قدم جما رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Sana Batool

سامرہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موصل، تکریت اور شنگال کی طرح ان کے شہر کا ہر گلی کوچہ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے ہاتھوں انسانیت پر گزرنے والے مظالم کی منہ بولتی تصویر ہے۔

ظفر عباس جو عراق میں دینی تعلیم کی غرض سے کئی سال مقیم رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’2005 سے قبل اس شہر میں اہل تشیع زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ یہ شہر عراق کے زیارتی شہروں کربلا، نجف اور کاظمین کی طرح دنیا بھر کے زائرین کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sana Batool

ظفر عباس دینی حوالے سے روضہ عسکرین سے وابستہ ہیں۔

سامرہ کی تاریخی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ شہر ہزاروں سال پرانا ہے اور خلافتِ عباسیہ کے دور میں اسے عراق کا دارالخلافہ اور خُلفا کی جائے رہائش بنایا گیا تھا۔

’اس شہر کی اہمیت اس کی روحانیت میں پوشیدہ ہے جس کی وجہ یہاں پر موجود روضہ عسکرین ہے جس میں اہل تشیع کے دو امام۔۔ امام علی النقی اور امام حسن عسکری مدفون ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 22 فروری 2006 کو القاعدہ نے روضہ عسکرین کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ہزار سال پرانا سنہرا گنبد منہدم ہو گیا اور روضے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sana Batool

اہل سنت کی اکثریت

سامرہ عراق کے ان شہروں میں سے ہے جہاں اہل سنت کی اکثریت ہے لیکن اہل تشیع کے لیے یہ شہر مذہبی اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔

عراق کے شہر نجف میں رہائش پذیر ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ’2006 کے حملے کے بعد سامرہ میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی نئی لہر دوڑی۔ ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ سامرا نہ جاؤ، وہاں خطرہ ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ سامرہ کے راستے کئی برسوں تک زائرین کی آمد و رفت کے لیے بند رہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد 13 جون 2007 میں دوبارہ روضہ عسکرین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ’جب روضے پر دوسری بار حملہ ہوا تو پورے عراق میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ 200 سے زیادہ مساجد پر حملے اور ہزاروں کی تعداد میں عراقی اہل تشیع قتل کئے گئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sana Batool

انھوں نے بتایا کہ سامرہ میں ایسے خاندان بھی ہیں جنھیں اپنے پیاروں کی قبروں کا علم نہیں کیونکہ ’لوگوں کو راتوں رات ان کے گھروں سے لے جا کر مار دیا گیا تھا اور ان کی لاشیں دریا میں پھینک دی گئیں تھیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گھر تباہ ہو جانے کے باعث کئی سال یہاں لوگ کچرے دانوں میں رہے کیونکہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی موجودگی میں وہ نہ تو یہاں سے باہر جا سکتے تھے اور نہ ہی کوئی ان کی مدد کے لیے آ سکتا تھا۔

’ان خاندانوں میں سامرہ کے مشہور و معروف ڈاکٹرز اور انجینئرز تھے جن کو حالات نے اس نہج پر لا کھڑا کیا۔‘

ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے زیر اثر علاقوں میں گِرجا گھروں، مساجد اور اولیا کی قبروں کو نشانہ بنایا گیا۔

’ان شہروں کے قبرستانوں میں قبروں پر درج تاریخِ شہادت اس بات کی گواہ ہے کہ ایک دن میں درجنوں لوگ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ بھی پڑھیے

عراق میں شیعہ زائرین پر حملہ، 77 افراد ہلاک

باب العلم کے روضے کے اطراف میں لائبریری نہ ملی

موصل کا معرکہ: ’داعش صرف داڑھیاں ہیں‘

ابوبکر البغدادی کو پکڑنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

چھپ کر روضے کی زیارت

سنہ 2014 میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے روضہ عسکرین کو تیسری بار نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔

متعدد بار عراق کی زیارت کے لیے جانے والے پاکستانی انجینئر علی رضا کا کہنا کہ انھوں نے سامرہ جانے کا ارادہ 2013 میں کیا جب زائرین کی آمد و رفت مکمل طور پر بند تھی لیکن کچھ زائرین اپنی مدد آپ پرائیویٹ گاڑیوں میں چھپ کر روضے کی زیارت کے لیے جاتے تھے۔

’جب ہماری گاڑی شہرِ بلد کے قریب پہنچی تو خبر ملی کے نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے ایرانی زائرین کی بس پر راکٹ حملہ کیا ہے۔ خبر ملتے ہی ہم واپس پلٹنے کے بجائے روضہ عسکرین پہنچے اور رات وہیں گزاری۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sana Batool

ان مشکل حالات میں زیارت کے امتحان کے بارے میں علی رضا بتاتے ہیں کہ ’وہاں پر موجود عراقی سکیورٹی کی جانب سے سخت ہدایات تھیں کہ رات میں واپسی کا سفر نہ کریں کیونکہ زائرین کی سواریوں کو رات میں ان دنوں زیادہ نشانہ بنایا جارہا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں متعدد ایرانی زائرین ہلاک ہوئے تھے جبکہ روضہ عسکرین کا آدھا گنبد اور مینار منہدم ہوچکے تھے اور یہ علاقہ بربادی کا منظر پیش کررہا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روضہ عسکرین کی جانب جانے والا بازار بھی پوری طرح سے تباہ ہو چکا تھا۔

حال ہی میں سامرہ جانے والے ایک زائر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک وقت تھا کہ ہم روضہ عسکرین کی زیارت کو ترستے تھے۔ ’اب بھی حالات مکمل طور پر بہتر تو نہیں لیکن پھر بھی آنے والے آتے ہیں اور یہاں حاضری دیتے ہیں۔‘

سال 2017 میں عراقی حکومت نے مکمل طور پر کے خاتمے کا اعلان کیا تھا جس کہ بعد سامرہ میں یونیسکو اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے روضہ عسکرین کی مکمل تعمیر و مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے۔

اب زائرین کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی بحالی کی طرف گامزن ہے لیکن بکتر بند گاڑیاں اور اسلحے سے لیس سکیورٹی پر معمور عراقی ملٹری اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خطرے کی لہر نے آج بھی اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں