آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کشمیر میں محبت بھرے خطوط اور لینڈ لائن فون کی واپسی

کشمیر میں بندشیں تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مواصلات کے بیشتر ذرائع منقطع ہیں اور اس صورتحال میں لوگ رابطوں کے لیے پرانے طریقہ کار اپنانے پر مجبور ہو گئے ہیں

کشمیر کی خصوصی آئینی حثیت کے خاتمے کے بعد سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مواصلات کے بیشتر ذرائع منقطع ہیں۔ اس صورتحال میں لوگ رابطوں کے لیے پرانے طریقہ کار اپنانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

دہلی کی ایک خاتون جو جولائی میں کشمیر میں چھٹیاں گزار کر واپس آئی تھیں، وہ کشمیر میں اپنے دوستوں سے رابطے کرنے میں ناکامی کے بعد رابطوں کے پرانے طریقے یعنی خط لکھنے پرمجبور ہوئی ہیں۔

انھوں نے اپنےخط میں لکھا کہ ’افسوس ہم ظالمانہ دور سے گزر رہے ہیں۔ ہر طلوع سے پہلے رات تاریک ترین ہوتی ہے۔ اور ابھی صبح نہیں ہوئی ہے۔ میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

’کشمیر پر کوئی سودے بازی ہوئی نہ ہو گی‘

‘انڈیا کشمیری مسلمانوں کو اقلیت بنانا چاہتا ہے‘

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے؟

ان کا دل ٹوٹنے کی وجہ واضح ہے۔

اطلاعات کا بلیک ہول

کشمیر میں ایک کروڑ کے لگ بھگ لوگ بستے ہیں۔ نریندرا مودی کی حکو مت نے پانچ اگست کو جموں کشمیر کی خود مختاری کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی منفرد آئینی حیثیت کو ختم کر دیا تھا اور تب سے ذرائع مواصلات منقطع ہیں۔

لینڈ لائن فون، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سروس کو معطل کر دیا گیا ہے جسے ایک مقامی اخبار کے ایڈیٹر نے ’اطلاعات کا بلیک ہول‘ قرار دیا ہے۔

کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کو اب ایک مہینے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، ماسوائے اس حکومتی دعوے کہ اسی فیصد لینڈ لائن ٹیلیفون بحال کر دیے گئے ہیں، باقی تمام بندشیں اپنی جگہ موجود ہیں۔

دہلی کی اس خاتون کو کشمیر میں اپنے دوستوں کو خط لکھنے کا خیال اس وقت آیا جب انھوں نے فیس بک پر ایک کشمیری صحافی کی ایک پوسٹ دیکھی۔ کشمیری صحافی نے فیس بک پر اپنی پوسٹ دہلی کے دورے کے دوران لکھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABID BHAT
Image caption کشمیری تاجر اپنے کسٹمرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

وقار سید ایک فری لانس صحافی ہیں۔ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وقار سید نے دہلی کا سفر کیا جہاں انھوں نے مختلف اخباری اداروں کو خبروں کے مختلف آئیڈیاز دیے۔

وقار سید کو اچانک خیال آیا اور انھوں نے فیس بک پر ایک اور پیغام پوسٹ کر دیا۔ اس پیغام میں انھوں نے کشمیر میں اپنے ضلعے کے لوگوں کو لکھا کہ اگر وہ اپنوں تک پیغام پہچانا چاہتے ہیں تو اپنے ایڈریس کے ساتھ پیغام انھیں بھجوا دیں اور وہ واپس کشمیر جا کر اپنی پوری کوشش کریں گے کہ ان کا پیغام ان کے گھروں والوں تک پہنچ جائے۔

وقار سید دو روز بعد دہلی سے سرینگر کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے پاس دنیا کے مختلف کونوں سے آئے ہوئے سترہ پیغامات تھے۔ یہ پیغامات انھوں نے کشمیر میں رہنے والے رشتہ داروں کو پہنچانے تھے۔ ان میں بعض نے انھیں ڈیجیٹل پیغامات بھیجے تھے جبکہ کچھ نے تحریری پیغامات کی تصاویر بنا کر انھیں فیس بک مسینجر کے ذریعے بھیجے تھے۔

دہلی کی خاتون نے کشمیر میں اپنے دوست کو پیغام میں لکھا کہ 'ٹیلیفون نمبر ڈائل کر کر کے میری انگلیاں سوج گئی ہیں۔'

واپس کشمیر پہنچ کر وقار سید نے سرینگر سے باہر سفر کر کے ان پتوں پر بذات خود پہنچ کر وہ پیغامات لوگوں تک پہنچائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABID BHAT
Image caption 'میں نے تمام پتوں کو ڈھونڈ کر دروازوں پر دستک دی اور اپنے فون پر وہ پیغامات ان لوگوں کو دکھائے۔ زیادہ تر اچھی خبریں تھیں'

وقار سید کہتے ہیں کہ ’میں نے تمام پتوں کو ڈھونڈ کر دروازوں پر دستک دی اور اپنے فون پر وہ پیغامات ان لوگوں کو دکھائے۔ زیادہ تر اچھی خبریں تھیں۔'

'جب میں نے چندی گڑھ میں زیرِ تعلیم ایک کشمیری نوجوان کا یہ پیغام ان کے والدین تک پہنچایا کہ اس نے امتحان میں دوسری پوزیشن لی ہے، تو اس کی ماں مجھے گلے لگا کر رونے لگیں۔ انھوں نے مجھے کہا تم میرے بچے کی طرح ہو۔'

مواصلات پر قدغنوں کی وجہ سے پرانی عادتیں دوبارہ واپس آنا شروع ہو چکی ہیں۔ کشمیر میں خط لکھنے کا رواج واپس آ رہا ہے۔

چھبیس سالہ عرفان احمد کو اپنے محلے کی ایک لڑکی سے محبت تھی۔ اپنی دوست سے رابطے کے لیے وہ ماضی میں خط تحریر کرتے اور ان خطوط کو اپنی مجبوبہ تک پہنچاتے اور پھر وہاں سے تحریری جواب بھی موصول ہو جاتا۔

عرفان احمد کہتے کہ حالیہ بندشوں کے بعد فون پر ہمارے رابطے ختم ہو گئے تو پھر ہم نے خط لکھنے شروع کر دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABID BHAT
Image caption عرفان احمد کہتے کہ حالیہ بندشوں کے بعد فون پر ہمارے رابطے ختم ہو گئے تو پھر ہم نے خط لکھنے شروع کر دیے‘

لینڈ لائن فون کی واپسی

انڈیا میں ڈیجیٹل مارکیٹ انتہائی تیزی سے ترقی کر رہی ہے جہاں ایک ارب سے زیادہ موبائل فون کے صارفین ہیں اور 56 کروڑ انٹرنیٹ کے صارفین ہیں۔ اس کےمقابلے میں لینڈ لائن فون کی تعداد صرف 23 ملین ہے۔

لیکن کشمیر میں لوگ اب لینڈ لائن فون کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں یا ان لینڈ لائن فونز کو بحال کرانے کی کوشش کر رہے جو عدم استعمال کی وجہ سے بند ہو چکے تھے۔

اب جب کشمیر میں بندشوں کا دوسرا مہینہ شروع ہو چکا ہے لینڈ لائن فون بحال ہو رہے ہیں۔ البتہ لوگوں کو اب بھی شکایت ہے کہ بظاہر کام کرنے والے فون سے بھی رابطے کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے بھی سڑکوں پر عارضی کال سنٹر قائم کر رکھے ہیں۔ یہ کال سنٹرز پلاسٹک کے ایک میز، چند کرسیوں اور ایک چینی ساختہ فون پر مبنی ہیں جہاں سے لوگوں کو فون کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ کچھ تھانوں میں بھی مفت فون کی سروس فراہم کی گئی ہے۔

کشمیر میں مواصلاتی بندشوں سے لوگوں کو جس قسم کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس کی ایک جھلک اسی طرح کے ایک ٹیلفون سنٹر پر ملتی ہیں جہاں منظور احمد اپنے گاہکوں سے رابطہ کرنے کوشش کر رہے ہیں۔

پچپن سالہ منظور احمد کشمیری شالوں کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ کشمیر سے باہر اپنےایسے گاہکوں کو فون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے ذمہ ان کی رقوم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABID BHAT

وہ بتاتے ہیں کہ 'انھوں نے مجھے چیک بھیجے ہیں۔ میں بینک گیا ( کچھ بینک کھلے ہیں) تو انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کے تمام رابطے منقطع ہیں اس لیے وہ اس چیک کی ادائیگی کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ اب میں سارے شہر میں فون کے لیے گھوم رہا ہوں تاکہ اپنے گاہکوں کو کہہ سکوں کہ وہ ادائیگیاں بینک ٹرانسفر کےذریعے کریں۔‘

مدد کا جذبہ

یاسمین مسرت سرینگر میں ایک کمرے کے دفتر سے ایک ٹریول ایجنسی چلاتی ہیں جہاں کچھ لینڈ لائنز بحال ہو چکی ہیں۔ یاسمین مسرت نے سوچا کہ اس موقع پر لوگوں کی کچھ مدد کریں۔

انھوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وسط اگست سےاپنا دفتر کھول کر وہاں ایک ہی لینڈ لائن سے لوگوں کو مفت فون کی سہولت مہیا کی۔ ان کے دفتر میں چھوٹے چھوٹے نوٹس لگے ہیں جن میں لوگوں سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ ضروری اور مختصر بات کریں۔ کچھ ہی دیر میں ان کے دفتر میں پانچ سو افراد پہنچ گئے جہاں سے روزانہ ایک ہزار مفت کال کی جا رہی ہیں۔

ان کال کرنے والوں میں ایک آٹھ سالہ بچی بھی تھی جو اپنی دادی کے ساتھ وہاں آئی تھی۔ آٹھ سالہ بچی اپنی ماں سے ممبئی میں بات کرنا چاہتی ہیں جن کا ممبی میں کینسر کا علاج ہو رہا ہے۔

جب یہ آٹھ سالہ بچی اپنی ماں کو بار بار کہتی ہے کہ ٹھیک ہو کر جلد واپس آ جاؤ، تو وہاں موجود لوگ سسکیاں لے رہے تھے۔ یاسمین مسرت بتاتی ہیں کہ ایک اور شخص نے کشمیر سے باہر مقیم اپنے بچے کو یہ بتانے کے لیے فون کیا کہ چند روز پہلے تمھاری دادی کا انتقال ہو گیا ہے۔

جب کشمیر سے انڈیا میں بسنے والوں کے لیے رابطے اتنے مشکل ہیں بیرون ملک بسنے والے کشمیری مختلف میڈیا اداروں کو اپنے پیغامات بھجوا رہے ہیں۔ دہلی کا سیٹلائٹ چینل 'گلستان نیوز' اپنے ہر بلیٹن کے ساتھ لوگوں کی طرف سے اپنے عزیزوں کو بھیجے گئے ویڈیو پیغامات چلا رہے ہیں۔ اس ٹیلیویژن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ شادی کی تقریبات کے منسوخ ہونے کے سینکڑوں اعلانات چلا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABID BHAT
Image caption 26 سالہ شعیب میر نے گلستان نیوز سے درخواست کی کہ وہ ان کے والد کو ڈھونڈنے میں مدد کریں

ایک روز ایک نوجوان اپنے والد کی تلاش کے لیے سرینگر میں گلستان نیوز کے دفتر جا پہنچا۔ 26 سالہ شعیب میر نے گلستان نیوز سے درخواست کی کہ وہ ان کے والد کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔

انھوں نے اپنے 75 سالہ والد کی تصویر اٹھا رکھی تھی۔ شعیب میر کے والد صبح کی سیر کے لیے گئے اور لیکن ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ شعیب میر کہتے ہیں کہ انھوں نے والد کو ہر طرف ڈھونڈا ہے لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی اور اگر چینل ان کا ویڈیو پیغام جاری کر دے تو شاید انھیں والد ڈھونڈنےمیں مدد مل سکے۔

یہ چینل لوگوں کو ملانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کا اپنا کام متاثر ہو رہا ہے۔ مواصلاتی بندشوں کی وجہ سے چینل کو خبروں کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ چینل کا ایک اہلکار ہر روز سری نگر سے دہلی جاتا ہے جہاں وہ تمام خبروں اور فوٹیج کو ایڈٹ کرنے کے بعد نشر کیا جاتا ہے۔

مقامی اخبارات جو عام طور پر سولہ سے بییس صفحوں پر مشتمل ہوتے تھے، اب گھٹ کر چھ سے آٹھ صفحوں تک آ گئے ہیں۔

ہفتوں سے کم از کم 200 صحافی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے انٹرنیٹ کے دس مراکز پر جمع ہوتے ہیں جہاں وہ خبریں اور تصاویر اپنے اداروں کو بھیج سکتے ہیں ۔ صحافتی اداروں کے اہلکار وہاں سے خبریں لے کراپنے دفتروں کو بھاگتے ہیں تاکہ اخبار کے خالی صفحوں کو بھرا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABID BHAT

یہاں موجود ایک فوٹو گرافر نے مجھے بتایا کہ یہ جگہ (انٹرنیٹ سنٹر) ہمارے صبر کا امتحان لیتی ہے۔ گذشتہ روز مجھے ایک تصاویر بھیجنے میں سات گھنٹے صرف ہوئے۔

شٹ ڈاؤن سے کبھی فائدہ نہیں ہوا؟

یہ پہلی بار نہیں کہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سہولت کو معطل کیا گیا ہو۔ انڈیا میں انٹرنیٹ کی بندش کی نگرانی والی ایک سائٹ کے مطابق کشمیر میں رواں برس 51 بار انٹرنیٹ کی سہولت کو معطل کیا جا چکا ہے۔

سنہ 2011 سے لے کر اب تک کشمیر میں 170 بار انٹرنیٹ کی سہولت کو معطل کیا جا چکا ہے جن میں سنہ 2016 میں چھ ماہ کی بندش بھی شامل ہے۔

کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انو رادھا بھسین نے کشمیر میں مواصلات کی بندش کے حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں اس بنیاد پر چیلنج کیا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا موقف ہے کہ شٹ ڈاؤن کا مطلب ہے کہ میڈیا خطے میں آنے والی تبدیلی کی رپورٹنگ نہیں کر سکتا اور کشمیر کے رہائشیوں کو ان اطلاعات تک رسائی کو روک دیا گیا ہے جو ملک کے باقی حصوں میں شہریوں کو مہیا ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABID BHAT
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اخبارات نے اپنے صفحات کی تعداد کم کر دی ہے کیونکہ خبروں کا حصول مشکل ہو گیا ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ خطے میں پرتشدد واقعات کو روکنے کے لیے اطلاعات تک رسائی کو محدود کرنا ضروری ہے۔ انڈیا پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستان جنگجوؤں کی مدد کرتا ہے جس سے خطے میں امن کا قیام عمل نہیں آ رہا ہے۔ پاکستان انڈین الزامات کی تردید کرتا ہے۔

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ’کوئی مجھے طریقہ بتائے کہ میں دہشتگردوں اور ان کے آقاؤں کے درمیان رابطے کو بھی توڑ دوں لیکن عام لوگوں کو انٹرنیٹ کی سہولت مہیا رہے۔‘

لیکن تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ایسی بندشیں پہلے سے زیادہ تشدد کا سبب بنتی ہیں۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جان ریدزیک کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پتا چلا ہے کہ ایسے واقعات پرامن اجتماع سے زیادہ اجتماعی تشدد سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

کشمیر کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مواصلات کی بندش کو کب ختم یا کم کیا جائے گا۔ لیکن امید کی کچھ کرنیں بھی ظاہر ہو رہی ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک صبح نیوز نیٹ ورک نے جس لینڈ لائن کو کرایے پر لے رکھا وہ اچانک بحال ہو گئی۔ اس پر چیف رپورٹر سید راؤف نے کہا ’شاید اب چیزین بہتر ہو جائیں۔ ہم امید پر زندہ ہیں۔‘

اسی بارے میں