عمران خان کا مظفر آباد میں خطاب: نریندر مودی کشمیریوں کو انتہاپسندی کی جانب دھکیل رہے ہیں

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ MIRZA AURANGZEB JARRAL

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نوجوان کنٹرول لائن کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں کہ لیکن یہ کام کب کرنا ہے اس کا فیصلہ وہ کریں گے۔

جمعے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ انھیں عالمی دنیا کے سامنے کشمیر کا معاملہ اٹھانے دیا جائے جس کے بعد وہ بتائیں گے کہ ایل او سی کا رخ کب کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'پہلے مجھے کشمیر کا کیس دنیا کو بتانے دو، جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بات کرنے دو، اس کے بعد میں آپ کو بتاؤں گا کہ ایل او سی کی طرف کب جانا ہے۔'

عمران خان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 'خود مختار کشمیر' کے حامی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے ایک دھڑے کے کارکنان نے ایل او سی پر تیتری نوٹ کراسنگ کی جانب 'آزادی مارچ' کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

لائن آف کنٹرول پر دھرنا کیوں جاری ہے؟

کشمیر: کسی کے لیے پرامن، کسی کے لیے آتش فشاں

کشمیر ڈائری: کیا شناخت چھینی یا مٹائی جا سکتی ہے؟

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے؟

تاہم پولیس نے ان مظاہرین کو لائن آف کنٹرول تک نہیں جانے دیا تھا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں 20 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اپنی تقریر میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ بطور سفیر دنیا بھر میں جا کر کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے۔

سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے اس سے انڈیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جس طرح انھوں نے کشمیر میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، اسی طرح اب مسلمانوں کے لیے بھی انڈیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ان کے مطابق 'نریندر مودی لوگوں کو انتہاپسندی کی جانب دھکیل رہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ MIRZA AURANGZEB JARRAL

ان کا کہنا تھا کہ: ’بطور سفیر کشمیر دنیا بھر میں جاؤں گا اور کشمیر کا معاملہ اٹھاؤں گا۔ میں نے جب دنیا میں کشمیر کا سفیر بننے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ میں ایک پاکستانی، ایک مسلمان اور ایک انسان ہوں، کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، 40 دنوں سے ہمارے کشمیری، بھائی، بہنیں اور بچے جیل میں قید ہیں۔'

عمران خان نے کہا کہ وہ خاص طور پر نریندر مودی کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ’ایک بزدل انسان صرف ایسا ظلم کرتا ہے جو آج کشمیریوں پر انڈیا کی فوج کر رہی ہے، مودی جس میں انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا، بہادر انسان کبھی بھی عورتوں اور بچوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘

عمران خان نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی جتنا مرضی ظلم کر لیں کامیاب نہیں ہو گے کیونکہ کشمیر کے عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں۔

انڈیا کی ہندو تنظیم آر ایس ایس کی تاریخ بتاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں اور یہ وہ جماعت ہے جس کے اندر مسلمانوں کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے، اس جماعت کے بنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ انڈیا صرف ہندوؤں کے لیے ہے، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا کے 58 ممالک نے پاکستانی مؤقف کی تائید کی کہ کشمیر میں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے، 50 سال میں پہلی بار کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھا، او آئی سی نے بھی انڈیا سے اپنے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIRZA AURANGZEB JARRAL

ان کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹرزنے بھی امریکی صدر ٹرمپ کو خط لکھا ہے کہ آپ کشمیر کے معاملے میں مداخلت کریں، برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھی پہلی مرتبہ کشمیر پر بات ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اگلے ہفتے نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جا رہے ہیں جہاں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیریوں کو مایوس نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا پر کشمیریوں سے متعلق بات کروں گا اور دنیا کو بتاؤں گا کہ انڈیا کی ہندو تنظیم آر ایس ایس کی اصلیت کیا ہے، تنظیم آر ایس ایس کے بانی ہٹلر کو اپنا رول ماڈل مانتے تھے، وہ بھی چاہتے تھےکہ مسلمانوں کو انڈیا سے نکالا جائے۔

وزیراعظم پاکستان نے الزام عائد کیا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ آر ایس ایس کے نظریے پر ہو رہا ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی نے ہی گاندھی کا قتل کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہو رہا ہے یہ دنیا بھر کے مسلمان دیکھ رہے ہیں اور وہاں کرفیو ختم ہونے کے بعد وہاں کے لوگوں کا ردعمل آئے گا۔اور انھیں علم ہے تب انڈیا نے سرحد پار دہشت گردی کرانے کا الزام پاکستان پر عائد کر دینا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جوش خطابت میں عمران خان نے انڈیا کے وزیر اعظم کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے انڈین پائلٹ کو اس لیے رہا کیا تھا کیونکہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن انڈیا میں لوگوں کو بتایا گیا کہ پاکستان ڈر گیا ہے، نریندر مودی کان کھول کر سن لو، ایمان والوں کو موت سے ڈر نہیں لگتا، یہ وہ قوم ہے جو آخری سانس تک لڑنا جانتی ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ ' اگر انڈیا نے کوئی جارحیت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔'

امریکی سینیٹرز کا صدر ٹرمپ کو خط

دوسری جانب چار امریکی سینٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا ہے کہ وہ انڈیا پر دباؤ ڈالیں کہ کشمیر میں مواصلاتی سروسز کو بحال کی جبکہ حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔

ریپبلکن سینیٹر لنڈزے گراہم اور ٹاڈ ینگ کے علاوہ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولر اور بین کورڈین نے کشمیر میں انسانی حقوق سے جڑے حالات کے سلسلے میں امریکی صدر کو خط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان سینیٹرز نے اپنے خط میں کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیر کے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں اس لیے انڈین وزیر اعظم مودی سے مواصلاتی نظام کی بحالی، کرفیو ہٹانے اور حراست میں لیے گئے کشمیریوں کو رہا کرنے کی درخواست کی جائے۔

تاہم ان سینیٹرز نے پاکستان کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کی حمایت بند کرے اور ایسے قدم نہ اٹھائے جس سے کشمیر میں گڑبڑی پھیلے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے بھی کچھ ممبران نے کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں انڈین نژاد پرمیلا جے پال اور روہت کھنا بھی شامل ہیں۔

پیلٹ گن کا شکار کشمیری خاتون

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پیلٹ گن کا شکار بننے والی ایک خاتون نے بی بی سی کے ماجد جہانگیر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 8 اگست کی شام وہ اپنے شوہر کے ساتھ سبزی لینے کے لیے گھر سے باہر نکلیں۔ وہ ابھی گھر کے گیٹ پر ہی تھیں جب انھوں نے لڑکوں کے ایک ہجوم کو اپنی جانب بھاگتے دیکھا۔

بی بی سی اردو کے خصوصی پروگرام نیمروز میں ان کا کہنا تھا کہ اس ہجوم کے ساتھ ایک سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ بتاتی ہیں کہ وہ اپنے گھر کے دروازے پر ہی کھڑی تھیں، جب انھوں نے اس سکیورٹی اہلکارکو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ مت مارو لیکن پھر بھی اس نے بندوق چلائی۔

’میر ے شوہر نے مجھے کور کیا اور ان کی پیٹھ پر سارے پیلٹ لگ گئے۔ پانچ چھ میری بائیں آنکھ، ناک، چہرے، سر اور ہاتھ میں لگ گئے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ پیلٹ سے زخمی ہونے کی وجہ سے وہ اور ان کے شوہر ہر روز تکلیف میں گزار رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میرے ساتھ جو بھی ہوا بہت برا ہوا۔ ہم بہت کچھ کر رہے تھے۔ ہم سوچ رہے تھے کے آگے جا کر بہت کچھ کریں گے۔ لیکن جو بھی ہوا بہت غلط ہوا۔ ان لوگوں نے بہت غلط کیا۔ میں اپنے ہاتھوں سے کماتی تھی، میرے شوہر اور میں دونوں کام کرتے تھے۔ سوچا تھا اپنے لیے گھر بنائیں گے لیکن وہ بھی ختم ہو گیا۔‘

یہ جو پیلٹ گن چل رہا ہے یہ سب ختم ہونا چاہیے، کافی لڑکوں اور لڑکیوں کی زندگی خراب ہو گئی۔ میں تو ایک آنکھ سے دیکھ سکتی ہوں لیکن کئی کی تو دونوں آنکھیں ختم ہو گئیں۔‘

اسی بارے میں