انڈیا: پولیس کے تشدد سے ایک خاتون کا ’حمل ضائع‘ ہو گیا

فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption الزآم ہے کہ تھانے میں لڑکیوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

ریاست آسام کے درنگ ضلع میں مبینہ طور پر ایک حاملہ عورت اور ان کی دو بہنوں پر جسمانی تشدد کرنے کے معاملے میں پولیس چوکی کے انچارج اور ایک خاتون کانسٹیبل کو معطل کر دیا گیا ہے۔

دراصل یہ معاملہ آٹھ ستمبر کا ہے کارروائی ہونے کے بعد جب متاثرہ عورت نے میڈیا کے سامنے اپنی آپ بیتی سنائی تو انتظامیہ حرکت میں آئی۔

متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ دو ماہ کی حاملہ تھیں اور تھانے میں ان کے ساتھ مارپیٹ کی وجہ سے ان کا حمل ضائع گیا۔

انڈیا: ’لڑکا مسلمان ہے، تم کیس کر دو‘

'ڈرائیور مسلمان تھا تو بکنگ کینسل کرا دی'

مسلمان عید پر کالی پٹیاں کیوں باندھیں گے؟

گائے لے جانے پر مسلمان شہری کے قتل کے ملزم بری

تصویر کے کاپی رائٹ DILIP SHARMA
Image caption متاثرہ لڑکیوں کے والد غیاص الدین علی

متاثرہ خاتون کی ایک بہن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ' میری بڑی بہن حاملہ تھیں پولیس کی مار پیٹ سے ان کی بلیڈنگ شروع ہو گئی کیونکہ ان کی کمر اور پیروں میں ڈنڈے مارے گئے تھے۔ بعد میں جب انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کا حمل ضائع ہو گیا ہے۔

اس دوران پولیس نے متاثرہ خاتون کی جانب سے شکایت کے بعد کیس درج کر لیا ہے اس کے علاوہ ریاستی وزیراعلیٰ سربانند سونو وال نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

درنگ ضلع کے ایڈیشنل پولیس کمشنر اُجول بروا نے بی بی سی کو معاملے کی تفصیل بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل گوہاٹی کی جن خواتین کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا ان کے بھائی رؤف علی پر ایک لڑکی کے اغوا کا کیس درج ہوا تھا۔

مسٹر بروا کا کہنا ہے کہ پولیس رؤف علی کی تلاش میں ان کی بہن کے گھر گئی تھی اور گھر کے کچھ لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے لےکر گئی تھی۔ان عورتوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی ہے۔

مسٹر بروا نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی ان الزامات کی حقیقت سامنے آئے گی۔

انھوں نے کہا کہ شکایت کے پیشِ نظر ہم نے پولیس اہلکاروں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور اب تحقیقات ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @SARBANANDSONWAL
Image caption ریاستی وزیر اعلیٰ سربانند سونو وال نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے

متاثرہ خاتون کے ایک رشتے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم 8 ستمبر کو رات ایک بجےان تین بہنوں اور ان میں سے ایک کے شوہر کو اپنے ساتھ تھانے لے گئی تھی اور پوچھ گچھ کے نام پر رات بھر ڈنڈوں سے ان کی پٹائی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں چھپنے والی تصاویر میں دیکھیں تو ان کے جسم پر زحموں کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ انہیں کس بے رحمی سے پیٹا گیا ہے۔

ان عورتوں نے پولیس کو اپنے زخم دکھائے تھے اور دس ستمبر کو ضلع کے ایس پی سے تحریری شکایت بھی کی تھی لیکن اتنے دنوں تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی لیکن جب یہی معاملہ میڈیا کے سامنے رکھا گیا تو کارروائی شروع ہوئی۔

متاثرہ لڑکیوں کے والد غیاص الدین علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میرے بیٹے پر دوسری ذات کی لڑکی کو اغوا کرنے کا الزام لگایا گیا ہے اور پولیس میری بیٹیوں کو پکڑ کر تھانے لے گئی ان کے ساتھ اتنی مار پیٹ کی گئی کہ میری ایک بیٹی کا دو ماہ کا حمل گر گیا اس دوران انہیں پانی تک نہیں دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ DILIP SHARMA
Image caption پولیس سٹیشن میں لڑکیوں کے ساتھ تشدد کیا گیا

غیاص الدین علی کا کہنا تھا کہ 'میری بیٹیوں کے ساتھ اس لیے تشدد کیا گیا کیونکہ ہم مسلمان ہیں ان کا کہنا تھا کہ بجرنگ دل کے کچھ لوگوں کے کہنے پر پولیس نے یہ سب کچھ کیا ان لوگوں کو سزاملنی چاہیے'۔

آسام کے اقلیتی طلبا کی یونین کے صدر آئین الدین احمد نے کہا کہ انتظامیہ نے اس معاملے میں شامل پولیس اہلکاروں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا ہے اور اگر 24 گھنٹے کے اندر گرفتاری نہیں ہوئی تو وہ ریاست گیر مہم چلائیں گے۔

درنگ ضلع کے پولیس افسر نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'یہ پورا معاملہ ایک ہندو لڑکی کے اغوا سے شروع ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رؤف علی نے خود کو ہندو ظاہر کرتے ہوئے ایک ہندو لڑکی کو اپنی محبت میں گرفتار کیا جبکہ وہ پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور ایک بچے کا باپ ہے۔

رؤف ڈرائیور ہیں اور لڑکی ان کی گاڑی میں سفر کرتی تھی اس طرح دونوں کی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ بعد میں جب وہ لڑکی کے ساتھ بھاگ گیا تو لڑکی کے گھر والوں نے اغوا کی رپورٹ درج کروائی اور پولیس رؤف کی بہنوں کے گھر جا پہنچی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں