اویغوروں سے’بدسلوکی‘: 28 چینی کمپنیاں بلیک لسٹ کرنے کے بعد امریکہ کا ویزوں پر بھی پابندی کا اعلان

Uighur protesters demonstrating in the US in February تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں سے مبینہ بدسلوکی میں ملوث چینی حکام پر ویزے کی پابندیاں عائد کرے گا۔

ویزے پر پابندی کا اطلاق چینی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداران کے علاوہ ان کے اہلخانہ پر بھی ہو گا۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ چینی حکومت ’انتہائی جابرانہ مہم‘ چلاتی رہی ہے جبکہ چین نے ان الزامات کو بےبنیاد قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں مائیک پومپیو نے چینی حکومت پر اویغور، قازق اور کرغز مسلمانوں اور دیگر مسلم اقلیتوں سے سلسلہ وار بدسلوکی کے الزامات لگائے۔

بیان کے مطابق ان بدسلوکیوں میں ’حراستی مراکز میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی قید، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی، مذہبی شناخت اور ثقافت کے اظہار پر پابندیاں اور بیرونِ ملک سے واپس آنے والے افراد پر دباؤ شامل ہیں۔‘

چین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو کہا تھا کہ امریکہ نے ’حقوقِ انسانی کے جن نام نہاد مسائل‘ کا ذکر کیا ان کا وجود ہی نہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے یہ الزامات اس کی جانب سے چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا علم نہیں‘

’عمران انکل میری امی اور بھائی کو واپس لا دیں‘

امریکی پابندیوں کے بعد ہواوے کے روس سے معاہدے

ہواوے کے فونز سے گوگل کی بعض سروسز معطل

امریکہ کی جانب سے چینی حکام کو ویزے نہ دینے کا اعلان ’بدسلوکی‘ میں ملوث 28 چینی اداروں کو ’بلیک لسٹ‘ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بیجنگ اکثریتی طور پر مسلمان اویغور افراد کو حراستی کیمپوں میں قید کر رہا ہے

اب یہ ادارے ’اینٹٹی لسٹ‘ کہلانے والی فہرست میں شامل کر دیے گیے ہیں اور یہ اب وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر امریکی کمپنیوں سے مصنوعات نہیں خرید سکیں گے۔

ان 28 اداروں میں سرکاری ادارے اور نگرانی کے آلات کی تیاری میں مہارت رکھنے والی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ امریکہ نے چینی اداروں پر تجارتی پابندی عائد کی ہے۔

اس سے پہلے مئی میں ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنیوں میں سے ایک ہواوے کو بھی اس کی مصنوعات کے حوالے سے سکیورٹی خدشات پر اینٹٹی لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔

امریکہ کے محکمہ تجارت کی ایک دستاویز کے مطابق یہ ادارے ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور استحصال میں ملوث ہیں۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بیجنگ اکثریتی طور پر مسلمان اویغور افراد کو حراستی کیمپوں میں قید کر رہا ہے۔ دوسری جانب چین انھیں انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ’ہنرمندوں کے تربیتی مراکز‘ کہتا ہے۔

امریکہ نے کیا کہا ہے؟

محکمہ تجارت نے اپنے پیر کے فیصلے میں کہا کہ یہ 28 ادارے ’اویغور، قازق اور دیگر مسلم اقلیتی گروہوں کے خلاف چین کی جبر، وسیع پیمانے پر غیر قانونی حراست اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی مہم کا حصہ ہیں۔‘

سنکیانگ صوبے کا پبلک سکیورٹی بیورو دیگر 19 چھوٹے حکومتی اداروں کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ ہِک وژن، داہوا ٹیکنالوجی اور میجوی ٹیکنالوجی ان آٹھ کمرشل گروپس میں سے ہیں جنھیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ تمام کمپنیاں چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی میں خصوصی مہارت رکھتی ہیں۔ ہِک وژن نگرانی کے آلات تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رواں سال کے اوائل میں ہواوے پر امریکہ نے پابندیاں عائد کی تھیں

امریکہ اور چین فی الوقت ایک تجارتی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں اور اس ہفتے اس کشیدگی میں کمی کے لیے واشنگٹن میں چینی وفود بھی آئے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی ماہر کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

کرشمہ واسوانی، نامہ نگار بی بی سی ایشیا بزنس

یہ اقدام بلاشبہ چین کے ٹیکنالوجی سے منسلک عزائم کو مختصر مدت کے لیے ہی سہی مگر نقصان پہنچائے گا۔

جن کمپنیوں کو ہدف بنایا گیا ہے وہ مصنوعی ذہانت میں مہارت رکھنے والی چین کی سب سے بڑی کمپنیاں ہیں اور چین اپنے مستقبل کے لیے اسی صنعت پر منحصر ہے۔

مگر مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کی تربیت میں استعمال ہونے والے آلات فی الوقت صرف انٹیل، موویڈیئس اور اینویڈیا جیسی امریکی کمپنیاں بناتی ہیں۔

لیکن چین کی جانب سے امریکی ٹیکنالوجی کی چینی کمپنیوں کو فروخت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے چین خود انحصاری کی اپنی خواہش میں تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔

مثال کے طور پر جب امریکہ نے اس سال کے اوائل میں ہواوے کو اینٹٹی لسٹ میں شامل کیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ گوگل جیسی کمپنیوں کو اب ہیواوے کو (سافٹ ویئر) فروخت کرنے سے قبل واشنگٹن سے برآمدی لائسنس لینا ہوگا۔

مگر ردِعمل میں ہواوے نے کہا کہ وہ اپنے فونز میں استعمال کے لیے اپنا سافٹ ویئر تیار کرنا شروع کر رہی ہے۔

دیگر امریکی ٹیکنالوجی کا بھی چینی متبادل تیار کیا جا رہا ہے۔

اب جب چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ ٹیکنالوجی پر جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے تو صارفین کو بالآخر مکمل طور پر چینی یا مکمل طور پر امریکی مصنوعات میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

سنکیانگ میں صورتحال کیا ہے؟

چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے لوگ انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ’اصلاحی و تربیتی مراکز‘ میں رکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چین: سنکیانگ میں لمبی داڑھی اور پردے پر پابندی

’مسلمان بچوں کو والدین سے جدا نہیں کیا جا رہا‘

'چینی کیمپ میں میری بیوی کو برہنہ کیا گیا'

مگر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ چین دس لاکھ اویغور اور دیگر مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں قید کیے ہوئے ہے۔

سنکیانگ میں چین کے اقدامات کی امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔

Image caption اویغور نسلی اعتبار سے وسط ایشیائی مسلمان ہیں اور چین کے صوبہ سنکیانگ کی آبادی کا 45 فیصد ہیں

گذشتہ ہفتے امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ویٹیکن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا چین اپنے شہریوں سے خدا کے بجائے حکومت کی پرستش کا مطالبہ کرتا ہے۔

جولائی میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 20 سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کیے جس میں چین کے اویغور اور دیگر مسلمانوں سے سلوک پر تنقید کی گئی تھی۔

اویغور کون ہیں؟

اویغور نسلی اعتبار سے وسط ایشیائی مسلمان ہیں۔ یہ چین کے سنکیانگ خطے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں جبکہ یہاں 40 فیصد ہن نسل کے چینی باشندے بھی آباد ہیں۔

چین نے 1949 میں مختصر عرصے کے لیے قائم ہونے والی ریاست مشرقی ترکستان کو ختم کرتے ہوئے یہاں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا تھا۔

تب سے اب تک یہاں چین کے دیگر علاقوں سے ہن چینی بڑی تعداد میں آباد ہوئے ہیں اور اویغور برادری کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی ثقافت ختم ہونے جا رہی ہے۔

چین میں سنکیانگ کو سرکاری طور پر جنوبی خطے تبت کی طرح خودمختار حیثیت حاصل ہے۔

اسی بارے میں