آر ایس ایس : لنچنگ انڈیا اور ہندو سماج کو بدنام کرنے کی سازش

موہن بھاگوت تصویر کے کاپی رائٹ ANI
Image caption آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگھوت نے کہا ہے کہ ' لنچنگ ' ایک غیر ملکی لفظ ہے

انڈیا کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگھوت نے کہا ہے کہ ' لنچنگ ' ایک غیر ملکی لفظ ہے اور کچھ لوگ اس کی آڑ میں ملک اور ہندو سماج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہندوؤں کے اہم تہوار 'وجے دشمی ' کے موقع پر اپنی تقریر میں موہن بھاگوت نے مسیحیوں کی مذہبی کتاب انجیل کی ایک کہانی کا حوالہ دیا جس میں ایک ہجوم ایک عورت کو سنگسار کرنے کے لیے جمع ہوا تھا۔

آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ماب لنچنگ یا ہجومی تشدد ایک غیر ملکی تصور ہے اور یہ انڈیا میں کبھی نہیں ہوا۔ کچھ لوگ 'لنچنگ ' کے نام پر ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

گائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘

آر ایس ایس کے 'ہندو راشٹر' میں جمہوریت کا بگل

آر ایس ایس کا فوج کھڑی کرنے کا خواب

ملک کے کئی سرکردہ دانشوروں اور فنکاروں نے ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم کو جولائی میں ایک خط لکھا تھا۔

اس خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا ' وہ کہتے ہیں کہ ایک برادری کے لوگوں نے دوسری برادری کے ایک شخص کو مار ڈالا۔ جب کہ اس طرح کے واقعات دونوں جانب سے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سو میں ایک دو ہوئے ہوں گے ۔ یہ بھی نہیں ہونے چاہئیں۔ لیکن کچھ طاقتیں انہیں دوسری شکل میں پیش کرتی ہیں۔ وہ ان واقعات کے لیے آر ایس ایس کا نام لیتے ہیں۔ جبکہ سب کو پتہ ہے کہ آر ایس ایس یہ سب نہیں کرتی۔ یہ ہمارے خلاف ایک سازش ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ @RSSORG

لنچنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سبھی کو معلوم ہونا چاہئیے کہ قانون اور آئین پر سختی سے عمل کیا جانا ہے ' کسی کو بھی مقررہ حد نہیں پار کرنی چاہئيے۔ تشدد نہیں ہونا چاہئیے۔ اگر موجودہ قوانین سزا کے لیے کافی نہیں ہیں تو نئے قوانین بنانے چاہئیں۔'

کانگریس پارٹی کے رہنما ششی تھرور نے موہن بھاگوت کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'ہجومی تشدد ملک میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک بیماری بن چکا ہے۔ وزیر اعضم نریندرمودی کو اس پر قابو پانے کے لیے اس کے خلاف بولنا چائیے۔ اگر وہ خاموش رہے تو اس جمہوریت کا بس خدا ہی مالک ہے۔ '

یہ بھی پڑھیے

مودی سرکار: نعرے بہت مگر کارکردگی؟

انڈیا یا لِنچستان؟

انڈیا: 'آر ایس ایس کے سکولوں میں عدم رواداری کا سبق'

ششی تھرور نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ماب لنچنگ پر تشویش ظاہر کرنے والے دانشوروں کے خلاف غداری کم مقدمہ درج کیے جانے پر وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کے بارے میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ @RSSORG

تھرور نے اس خط میں لکھا ہے کہ ' ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ملک کے 49 سرکردہ شہریوں نے ایک خط لکھا تھا۔ ان کے خلاف بہار میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس سے ہم سبھی صدمے میں ہیں۔ ہجومی تشدد مذہبی نفرت کے نام پر ہو یا بچہ چوری کے نام پر کی جارہی ہو، یہ ملک میں ایک بیماری کی طرح پھیل رہی ہے۔ ان شہریوں نے آپ کی توجہ اس طرف دلا کرصحیح کام کیا تھا ۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'اس ملک کے شہری کی حیثیت سے مجھے یہ امید ہے کہ ہم سبھی بے خوف وخطر قومی اہمیت کے معاملات کی طرف آپ کی توجہ دلا سکتے ہیں تاکہ آپ مناسب قدم اٹھا سکیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اظہار کی آزادی کے حق کی حمایت کریں گے۔'

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات نے بھی موہن بھاگوت کے بیان پر نکتہ چینی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لنچنگ اگر غیر ملکی تصور ہے تو پھر آر ایس ایس اور ہندوتوا کی تنظیمں اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتیں ۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی پشت پناہی کے سبب ہجومی تشدد کے مرتکبین قانون کی گرفت میں نہیں آتے جس کے سبب ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں