Rafale#: فرانس نے پہلا رفال جنگی طیارہ انڈیا کے حوالے کر دیا

راج ناتھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راج ناتھ سنگھ نے طیارے پر ناریل اور لڈو چڑھائے

فرانس نے منگل کو پہلا رفال جنگی طیارہ انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حوالے کر دیا ہے۔

انڈیا کو جنگی طیارہ ملنے کے بعد راج ناتھ سنگھ نے اس طیارے پر 'شستر پوجا' یعنی اسلحہ پوجا کی۔

وزیر دفاع نے طیارے پر سِندور سے اوم لکھا، طیارے پر پھول ،ناریل اور لڈو چڑھائے۔ اس کے علاوہ طیارے کے پہیے کے نیچے دو لیموں بھی رکھے گئے۔

اس سب کے بعد راج ناتھ سنگھ نے اس طیارے میں سفر بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا رفال کیس کا فیصلہ مودی کی ’جیت‘ پر اثر انداز ہو گا؟

انڈیا میں رفال جیٹ پر سیاسی طوفان کیوں؟

اپنی ہی فوج پر تو شک نہ کریں: نریندر مودی

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فرانس میں کہا 'مجھے خوشی ہے کہ رفال کی ڈلیوری وقت پر ہو رہی ہے اور امید ہے کہ یہ ہماری فضائیہ کی طاقت میں اضافہ کرے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 'آج انڈیا اور فرانس کے سیاسی اشتراک کے ایک نئے دور میں رفال جنگجو طیارے میں پرواز کروں گا جو ایک اعزاز کی بات ہے'۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’رفال ایک فرانسیسی لفظ ہے جس کا مطلب آندھی ہے اور میں امید کرتا ہوں کے یہ اپنے نام کی طرح ہی انڈین فضائیہ کو مضبوط کرے گا‘۔

یہ جنگجو طیارے فرانس کی کمپنی داسا نے بنائے ہیں اور اس کی خریداری پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں۔

فرانس کے ساتھ انڈیا کا رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ متنازع رہا ہے اور انڈیا کی حزب اختلاف مطالبہ کرتی رہی ہے کہ فرانسیسی طیاروں کی خریداری میں مبینہ طور پر اربوں ڈالر کی بدعنوانی پر وزیراعظم نریندر مودی استعفیٰ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راج ناتھ سنگھ نے طیارے میں پرواز کی

یہ معاہدہ کب ہوا تھا؟

2010 میں انڈیا کی سابق حکومت نے فرانس سے یہ طیارے خریدنے کا عمل شروع کیا تھا اور2012 سے 2015 تک دونوں کے درمیان بات چیت چل رہی تھی کہ 2015 میں مودی حکومت اقتدار میں آگئی۔

2016 میں انڈیا نے فرانس کے ساتھ 36 رفال طیاروں کے لیے تقریباً 59 ہزار کروڑ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

دفاعی امور کے ماہر معروف رضا کہتے ہیں کہ ’رفال انڈیا کے لیے بہترین سودا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈین فوج میں کوئی بھی نیا اسلحہ بہت چھان بین کے ساتھ لیا جاتا ہے اور تحقیقات کے بعد ہی فوج اسے خریدنے کا مشورہ دیتی ہے‘۔

معروف رضا کہتے ہیں کہ ’رفال کے مقابلے کا جنگی طیارہ پورے برصغیر میں چاہے وہ چین ہو یا پاکستان کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ اسی لیے اس کے بارے میں بہت غلط پراپیگنڈہ کیا گیا لیکن ابھی تک کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DASSAULT
Image caption اس کی خریداری پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں

32 طیارے ’ناکافی‘ ہیں

معروف رضا کہتے ہیں کہ انڈیا کی دفاعی ضرورتیں ان 32 طیاروں سے پوری ہو جائیں گی۔

تاہم دفاعی امور کے ایک اور ماہر راہل بیدی کی رائے اس کے برعکس ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی ضرورتوں کے مطابق یہ 32 طیارے ناکافی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان طیاروں سے انڈین ائر فورس کی طاقت بڑھے گی ضرور لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ 32 رفال تو امبالہ اور مغربی بنگال کے ہاسی مارا سکوارڈن میں ہی کھپ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے لیے دو سکوارڈن نہیں بلکہ 42 سکوارڈنز کی ضرورت ہے۔ ہمیں کوالٹی کے ساتھ ساتھ اچھی تعداد کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ چین یا پاکستان کا مقابلہ کر رہے ہیں تو آپ کو لڑاکا طیاروں کی تعداد بھی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DASSAULT
Image caption کچھ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ 32 طیارے انڈین فضائیہ کے لیے ناکافی ہیں

رفال کس طرح کی خوبیوں سے لیس ہے؟

رفال جوہری میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں دو طرح کے میزائل ہیں۔ ایک کی رینج ڈیڑھ سو جبکہ دوسرے کی تقریباً تین سو کلومیٹر ہے۔

جوہری اسلحے سے لیس رفال فضا میں ڈیڑھ سو کلومیٹر تک میزائل داغ سکتا ہے جبکہ فضا سے زمین میں اس کی صلاحیت تین سو کلومیٹر تک ہے۔

یہ انڈین فضائیہ کی جانب سے استعمال ہونے والے میراج 2000 کی جدید شکل ہے۔ انڈین ایئر فورس کے پاس 51 میراج 2000 ہیں۔

داسا ایوی ایشن کے مطابق رفال کی رفتار 2020 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کی اونچائی پانچ اعشاریہ تیس میٹر اور لمبائی پندرہ اعشاریہ تیس میٹر ہے۔ اس طیارے میں فضا میں بھی تیل بھرا جا سکتا ہے۔

رفال کو اب تک افغانستان، لیبیا، مالی، عراق اور شام جیسے ممالک میں استعمال کیا جا چکا ہے۔

رفال اوپر، نیچے، دائیں بائیں ہر طرف نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی اس کی وِزیبلٹی 360 ڈگری ہے۔

کئی طرح کی خوبیوں سے لیس رفال کو بین الاقوامی معاہدوں کے سبب جوہری اسلحے سے لیس نہیں کیا گیا تاہم کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میراج 2000 کی طرح رفال کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال لے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ DASSAULT
Image caption کہا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ کئی طرح کی خوبیوں سے لیس ہے

’رفال کی صلاحیتوں پر کوئی شبہ نہیں‘

انڈین فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’رفال ایک بہترین اور با صلاحیت جنگی طیارہ ہے۔‘ سابق وزیر دفاع منوہر پاریکھ کا کہنا تھا کہ ’رفال کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا‘۔

معروف رضا کہتے ہیں رفال کی خصوصیات کی وجہ سے اسے ’فورس ملٹی پلایئر‘ کہا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رفال کی فلائنگ رینج عام جنگی طیاروں سے کہیں زیادہ ہے۔

رضا بتاتے ہیں ’اس کی آپریشنل صلاحیت 65 سے 70 فیصد تک ہے جبکہ جنگی طیارے سخوئی کی 50 فیصد ہے۔‘

رضا بتاتے ہیں ’یہ پہاڑی اور چھوٹے مقامات پر اتر سکتا ہے اس کے علاوہ سمندر میں چلتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز پر بھی اتر سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں