پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان: چین نے کبھی ایسا مطالبہ نہیں کیا جو قومی مفاد کے خلاف ہو

وزیر اعظم عمران خان اور چینی صدر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے وزیر اعظم نے کشمیر کے حوالے سے چین کے اصولی موقف کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ان خیالات کا اظہار عمران خان نے بدھ کو چین کے صدر شی جن پنگ سے ایک ملاقات میں کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے چینی صدر کے ساتھ پاکستان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان مشکل معاشی حالات سے نکل آیا ہے اور اس حوالے سے چین کے مالی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چین نے کبھی بھی پاکستان کی مدد کے عوض کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جو پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف ہو اور اس نے پاکستان کی مدد بغیر کسی شرط کے کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: ’چین کا ردعمل توقعات کے عین مطابق ہے‘

کشمیر میں چین کا کوئی کردار نہیں: انڈیا کا چین کو جواب

’چین پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ نہیں چاہتا‘

ریڈیو پاکستان کے مطابق عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چینی وزیر خارجہ کی تقریر کا خاص طور پر ذکر کیا اور اپنے میزبان کا شکریہ ادا کیا۔

صدر شی جن پنگ نے پاکستانی وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں پاکستان اور چین کے مابین دوستانہ تعلقات کو سراہا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا مسئلہ

پاکستانی وزیر اعظم اور چینی صدر کی ملاقات کے دوران کشمیر کے معاملے پر گفتگو کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انڈیا کے سرکاری ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کا ہمیشہ سے یہ واضح موقف ہے کہ جموں و کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے اور چین کو ہمارے موقف کے بارے میں بخوبی علم ہے‘۔

اس سے قبل چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NARENDRA MODI/TWITTER
Image caption چینی صدر شی جن پنگ 11 اور 12 اکتوبر کو دو روزہ دورے پر انڈیا جارہے ہیں

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان چین کے دورے پر ہیں اور اس کے بعد چین کے صدر انڈیا کے دورے پر جانے والے ہیں۔ اس موقع پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان سے معمول کی پریس کانفرنس کے دوران کشمیر کے بارے میں سوال کیے گئے۔

پریس کانفرنس میں وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا ’مسئلہ کشمیر پر چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہمارا موقف بہت واضح ہے۔ ہم انڈیا اور پاکستان سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر سمیت تمام دو طرفہ مسائل کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اس سے دونوں ممالک کے مابین باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور ان کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ اس سے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ہی مسائل حل ہوں گے۔‘

اس سے پہلے چین کے کشمیر کے بارے میں پالیسی بیانات میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور باہمی مذاکرات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں کشمیر کے بارے میں سوال کے جواب میں یہ کہا گیا کہ چین کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن انڈیا میں کچھ حلقوں میں اس بات کو بہت اہمیت دی گئی کہ اس بار ’جواب میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر نہیں تھا‘۔

چینی صدر شی جن پنگ 11 اور 12 اکتوبر کو دو روزہ دورے پر انڈیا جارہے ہیں۔ اس سے قبل چین نے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر کہا تھا کہ انڈیا کو جموں و کشمیر کی حیثیت سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔ جب پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا تو وہاں بھی اسے چین کی حمایت حاصل تھی۔

صرف یہی نہیں بلکہ ابھی کچھ ہی روز قبل پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جِنگ نے کہا تھا کہ چین تنازع کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین نے ہماری مدد کسی شرط کے بغیر کی ہے : عمران خان

یاؤ جِنگ نے یہ بھی کہا کہ 'ہم کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق اور انصاف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں گینگ شوانگ نے پاکستان کو چین کا ایک ’اہم سٹریٹجک پارٹنر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے مابین قریبی بات چیت کی روایت رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ہمارا سٹریٹجک اور باہمی اعتماد مضبوط اور عملی ہے۔‘ اسی کے ساتھ گینگ شوانگ نے انڈیا کو بھی چین کا ایک اہم پڑوسی قرار دیا۔

انھوں نے کہا ’انڈیا اور چین دونوں ترقی پذیر ممالک ہیں۔ دونوں ترقی پذیر بازار ہیں۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھے ہیں اور اختلافات کو حساس طور پر حل کر رہے ہیں۔'

جبکہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے بارے میں گینگ شوانگ نے کہا ’وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین کے لیے بہت اہم ہے۔ صدر شی جن پنگ، وزیر اعظم لی کیچیانگ اور چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے سرکردہ رہنما لی ژانگ شو عمران خان سے ملاقات کریں گے جس میں دونوں فریق باہمی دلچسپی کے معاملات پر تفصیلی دو طرفہ تبادلہ خیال کریں گے۔‘

گینگ شوانگ نے کہا ’انڈیا اور چین کے متعلقہ محکمے بھی دونوں فریقین کے تعاون کے لیے ضروری معاہدوں پر دستخط کریں گے۔‘

چینی وزارت خارجہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان بین الاقوامی باغبانی کی نمائش کی اختتامی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

ادھر انڈیا میں چینی سفیر سن ویی ڈونگ نے انڈیا کو وجے دشمی تہوار کی مبارکباد پیش کی ہے۔

ایک دوسری ٹویٹ میں ویی ڈونگ نے پانچ نکاتی نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ’بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال میں ہندوستان اور چین کو بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر باہمی تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔ جس طرح ہم نے کبھی پرامن بقائے باہمی کے پانچ نکاتی معاہدے پر دستخط کیے تھے جو کہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کہلاتے ہیں۔‘

انڈیا کے لیے چین کی جانب سے کشمیر سے متعلق سب سے ’پریشان کن‘ بیان پاکستان میں چینی سفیر کا رہا ہے جس پر انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ’انڈیا نے سنیچر کو چین کو شکایت کی ہے‘۔

اسی بارے میں