نیشنل کانفرنس کے رہنما جسٹس مسعودی: ’ہم انڈیا سے رشتوں کا جو جواز پیش کرتے تھے اس پر ایک سوالیہ نشان لگا ہے‘

نیشنل کانفرنس، انڈیا، کشمیر
Image caption جسٹس حسنین مسعودی سوال اٹھاتے ہیں کہ جب انڈیا کے ساتھ الحاق کی شرائط ہی ختم کر دی گئی ہیں تو ان کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سب سے پُرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس فی الوقت تاریخ کے مشکل ترین موڑ پر کھڑی ہے۔

انڈیا کے آئین کی شق 35 اے اور شق 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات ہی وہ ڈھال تھی جس کا حوالہ دے کر نیشنل کانفرنس کشمیریوں کے سامنے انڈین حاکمیت تسلیم کرنے کا جواز پیش کرتی رہی ہے۔

پانچ اگست کو جب انڈین پارلیمنٹ نے یہ آئینی دیوار گرا دی تو فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ سمیت پارٹی کے بیشتر رہنماؤں کو قید کرلیا گیا اور پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا جس کی کشمیریوں نے انسانی اور اقتصادی قیمت چکائی ہے۔

اگست کے آغاز میں انڈین پارلیمنٹ نے ریاست کی تنظیم نو کا بل منظور کیا تھا، جس کی رُو سے جموں و کشمیر الگ یونین ٹیریٹری اور لداخ علیحدہ طور مرکز کے زیرانتظام خطے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟

’کشمیری سوچ رہے ہیں کیا انڈیا سے ملنا درست تھا؟‘

’کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے‘

بی بی سی نے اس حوالے سے پارٹی کے نومنتخب رکن پارلیمان ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی سے خصوصی گفتگو کی ہے۔

جسٹس مسعودی کہتے ہیں کہ یہ یکطرفہ فیصلہ ہے اور سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا جاچکا ہے۔

اُنھیں انڈیا کی سپریم کورٹ سے انصاف کی اُمید تو ہے مگر ان کا سوال ہے کہ جب انڈیا کے ساتھ الحاق کی شرائط ہی ختم کر دی گئی ہیں تو ان کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟

اپنے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ انڈیا نے کشمیر کی خودمختاری کی آخری علامت کو ختم کر کے ریاست کے ساتھ انڈیا کے سبھی رشتوں کو ختم کردیا ہے جس کے بعد اب نیشنل کانفرنس پھر ایک بار رائے شماری کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہے۔

جسٹس مسعودی کہتے ہیں کہ ’مہاراجہ ہری سنگھ اور جواہر لعل نہرو کے درمیان جو الحاق ہوا، اُس کی کچھ شرائط تھیں۔ انڈیا نے مان لیا تھا کہ کشمیر ایک الگ ملک ہے اور انڈیا کے ساتھ مشروط الحاق کرے گا۔ ان شرائط میں انڈین حکومت کا دائرہ اختیار صرف خارجی امور، کرنسی اور مواصلاتی نظام تک محدود تھا۔ ہماری ریاست کا اپنا پرچم، اپنا صدر، اپنا وزیراعظم اور قانون سازی کے اختیارات تھے۔ جب یہ سب ختم ہوجائے تو ظاہر ہے کشمیر کو 1947 سے پہلے والی پوزیشن کی طرف دھکیل دیا گیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پانچ اگست کو یہ جو بڑا حملہ ہوا ہمارے تشخص پر، اور ہماری خود مختاری پر، اس نے ہم سے ہماری بنیاد چھین لی ہے۔ 1975 میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس میں بھی یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ وقت کے ساتھ خود مختاری کو مستحکم کیا جائے گا نہ کہ ختم کیا جائے گا۔‘

’ہمارے قائد نے 22 سال تک رائے شماری کی تحریک چلائی اور 1975 میں ایک اور معاہدہ ہوا جس میں یقین دلایا گیا کہ ریاست کی خصوصی آئینی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی۔ اب نئی دہلی نے ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں چھوڑا۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ رائے شماری اور ریفرینڈم کے مطالبات اٹھیں۔

’ظاہر ہے کہ جب یہ سارے راستے محدود کر دیے گئے تو ریفرینڈم اور رائے شماری کی بات آ سکتی ہے اور یہاں ہوا بھی ہے۔ اگر آپ یہاں کی تاریخ دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ جو لوگ کبھی مین سٹریم کا حصہ تھے انھی معاملات کی وجہ سے انھوں نے دوسرا رخ اختیار کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک سکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ پانچ اگست کے اقدامات سے نیشنل کانفرنس کی روزِ اول سے جو سیاست رہی ہے اور جو اس کا تسلسل رہا ہے، اس پر سوالیہ نشان لگا ہے۔

’پانچ اور چھ اگست کو یہاں کے تشخص اور خودمختاری پر جو حملہ کیا گیا اس سے ان ساری قدروں کی نفی ہوتی ہے جنھیں نیشنل کانفرنس آگے بڑھاتی تھی یا جنھیں لے کر وہ عوام کے پاس جاتی تھی۔ جہاں یکجہتی اور سیکولرازم کی بات ہوتی تھی اور جو ہم ملک کے ساتھ رشتوں کا جواز پیش کرتے تھے اس پر ایک سوالیہ نشان لگا ہے۔‘

انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ان اقدامات سے کشمیر آئینی طور پر اس وقت انڈیا کا حصہ ہے لیکن جسٹس مسعودی کہتے ہیں کہ پہلے تو یہی بات طے کرنے کی ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان رشتہ باقی رہا بھی ہے یا نہیں؟

’جن شرائط پر الحاق ہوا تھا جب انھیں ہی یکطرفہ طور پر ختم کیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ پھر یہ رشتے بھی قابل بحث رہیں گے۔ جب آپ نے وہ شرائط ختم کر دیں تو کیا وہ رشتہ باقی رہا؟ انڈیا کی جو حکومت ہے، کشمیر اس کے زیرِ انتظام ہے لیکن جو رشتہ الحاق میں ہوا تھا مجھے لگتا ہے کہ وہ اب نہیں رہا کیونکہ آپ اسے اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتے۔‘

’آپ یہ نہیں کر سکتے کہ نہیں جی اس معاہدے کا مرکزی حصہ تو باقی رہے گا مگر جو شرائط تھیں وہ ختم کر دی گئی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر آپ یہاں کی تاریخ دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ جو لوگ کبھی مین سٹریم کا حصہ تھے انھی معاملات کی وجہ سے انھوں نے دوسرا رخ اختیار کیا: جسٹس مسعودی

جسٹس مسعودی کا کہنا ہے کہ اُن کی پارٹی تب تک کسی بھی سیاسی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جب تک یہ یکطرفہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا۔

’جب تک 53 سے پہلے والی پوزیشن بحال نہ ہو تب تک اس معاملے کا حل نہیں ہوگا، جو اندرونی معاملے ہیں پہلے ان کا حل ہوگا اس کے بعد سہہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔‘

یاد رہے انڈین پارلیمان میِں منظور شدہ جموں و کشمیر کی تنظیم نو کا بل 31 اکتوبر سے باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔

اسی بارے میں