کشمیر: لاک ڈاؤن کے دوران مقامی انتخابات کی تیاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیشنل کانفرنس کے ایک وفد نے فاروق عبداللہ سے حال ہی میں ان کی نظر بندی کے دوران ملاقات کی ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایسے وقت جب سیاستدانوں کی بڑی تعداد زیرحراست ہے اور ریاست میں مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے، مقامی انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے انڈیا کے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے یہ ریاست میں پہلی انتخابی سرگرمی ہو گی۔

پہلے مرحلے میں 24 اکتوبر کو دیہی علاقوں کے 310 بلاکس میں پنچائیت کونسل کے انتخابات کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ووٹوں کی گنتی انتخابات کے روز ہی ہو گی۔

ریاست کے تقریباً تمام نمایاں سیاستدان دو ماہ سے حکومتی حراست میں ہیں اور پوری ریاست میں انٹرنیٹ، موبائل ٹیلیفون اور مواصلات کے دوسرے ذرائع پر پابندیاں عائد ہیں۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے ان انتخابات کو جعل سازی اور جمہوریت کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ ریاست میں سیاسی خلاء کی وجہ سے کشمیریوں کا انڈیا سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے؟

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے؟

’کشمیر کی معیشت کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان‘

کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کے مشیر فاروق خان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ تمام کشمیری رہنماؤں کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ سیاستدانوں کی رہائی میں مزید کتنا وقت لگے گا۔

’ہمارے تمام سیاستدان گھروں میں نظربند ہیں'

جو سیاستدان گھروں میں نظر بند ہیں ان میں سابق وزائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ ہند نواز سیاستدان سجاد لون، شاہ فیصل اور کئی دیگر سابق ممبران اسمبلی شامل ہیں۔

انتظامیہ نے جموں کے علاقے میں سیاستدانوں کی نظر بندی کو ختم کر دیا ہے۔ جموں میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا انڈیا میں عمومی طور پر خیرمقدم کیا گیا ہے لیکن کشمیر کے مسلم اکثریت والے علاقے میں حالات جہاں عشروں سے مزاحمتی تحریک جاری ہے، اب بھی کشیدہ ہیں اور حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج بھی ہوا ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مواصلات کی مکمل بندش ہے اور انٹرنیٹ اور موبائل فون کے کنکشن اگست سے معطل ہیں۔

سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے کارکنوں سے رابطہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ کئی سیاسی کارکن گھروں سے غائب ہیں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر بند پڑے ہیں۔

کانگریس پارٹی کے رویندر شرما کا کہنا ہے: 'ہم اپنے امیدواروں کا انتخاب کیسے کریں گے جب ہم ان سے رابطہ تک نہیں کر سکتے۔ کانگریس پارٹی نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ رویندر شرما کہتے ہیں کہ انھیں پریس کانفرنس کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی پانچ اگست کے بعد سے نظر بند ہیں

کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے ہرش دیو سنگھ جنھیں 58 روز کی نظر بندی کے بعد چند روز پہلے ہی رہا کیا گیا ہے، کہتے ہیں کہ انتخابات کو قابل اعتبار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کو برابر کے مواقعے دیے جائیں۔ وہ کہتے ہیں ’یہ صرف دکھاوے کے انتخابات ہیں۔ یہ صرف دکھانے کے لیے ہیں کہ وادی میں انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔‘

نیشنل کانفرنس کے دیوندر رانا کا کہنا ہے کہ ریاست میں سب کچھ بند ہے، سیاست کی بات کرنا ہی نامناسب ہے۔ ’ایسی صورتحال میں سیاسی سرگرمیاں کیسے ہو سکتی ہے۔ جب سیاسی کارکن عوام سے مل نہ سکیں، ان کی خواہشات کو سمجھ نہ سکیں، یہ نظام کیسے چل سکتا ہے۔'

سیاسی خلا

سیاسی کارکن شہلا رشید جنہوں نے حال ہی جموں کشمیر پیپلز موومنٹ سے وابستہ ہوئی تھیں، کہتی ہیں کہ وہ سیاست چھوڑ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ' یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، جمہوریت نہیں ہے، بلکہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ اپنی کٹھ پتلیوں کو لانے کی کوشش ہے۔‘

البتہ بھارتیہ جنتا پارٹی پراعتماد ہے کہ وہ اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی اور کئی مقامات پر وہ آزاد امیدواروں کی حمایت کرے گی۔

بی جے پی کے رویندرا رائنا کہتے ہیں کہ کشمیر میں کوئی سیاسی خلاء نہیں ہے اور انتخابات سے کشمیر کی سیاست میں نئے لوگوں کو موقع ملے گا جہاں اس سے پہلے پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی اور نیشنل کانفرنس کا غلبہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماضی میں بھی کشمیری لوگ انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں

سینئر کشمیری سیاستدان فاروق عبداللہ کو ایک متنازعہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے جس پر انڈیا میں بہت بحث ہو رہی ہے۔ اس قانون کےتحت کسی بھی شخص کو بغیر وجہ بتائے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

کئی کشمیریوں کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ کے ساتھ روا رکھے گئے رویے نے انھیں چونکا دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ایک وفد نے حال ہی میں فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ سے ان کی نظر بندی میں ملاقات کی ہے۔

دیوندر رانا جو دونوں نظر کشمیری رہنماؤں سے ملنے والے وفد کا حصہ تھے، بتاتے ہیں کہ وہ موجودہ صورتحال سے بہت دکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے دو ماہ سے کشمیر میں سب کچھ بند پڑا ہے

بی جے پی اس رائے سے متفق نہیں ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی نظر بندی کی وجہ سے کشمیر میں سیاسی عمل کو کوئی فرق پڑا ہے۔

دیوندر رائنا کا موقف ہے کہ فاروق عبداللہ کے سوا کسی سیاسی رہنما کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔

بی جے پی کے مطابق ان لوگوں کو نفرت پھیلانے سے روکنے کے لیے انھیں نظر بند کیا گیا ہے تاکہ امن عامہ کی صورتحال پیدا نہ ہو سکے اور معصوم لوگوں کے جانی ضیاع سے بچا جا سکے۔

سیاسی تجزیہ کار نوراحمد بابا نے خبردار کیا ہے کہ یہ انتخابات کشمیر میں طوائف الملوکی کو جنم دے سکتے ہیں۔ 'یہ سارا عمل جابرانہ ہے جو لوگوں میں نفرت، غصے اور بغاوت کو جنم دے سکتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں