بابری مسجد، رام مندر تنازع: فیصلے کا اثر انڈیا کی سیاست اور عوام کی نفسیات پر ہو گا

بابری مسجد انہدام سے قبل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1992 میں انہدام سے قبل بابری مسجد

انڈیا کے سپریم کورٹ میں ملک کے سب سے پرانے اور طویل عرصے سے چلے آ رہے مذہبی تنازع کے مقدمے کی سماعت کا آج آخری دن ہے۔

انڈین عدالت عظمیٰ نے اس کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ بابری مسجد، رام مندر تنازع کے تینوں فریقین اپنے اپنے دلائل آج (بدھ) شام تک مکمل کر لیں۔

یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس دیرینہ اور مذہبی اعتبار سے انتہائی حساس مقدمے کا فیصلہ چیف جسٹس رنجن گوگئی 17 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل کسی بھی دن سنا سکتے ہیں۔

اس تنازع پر الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کیے گئے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی آئینی بنچ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا ’مشکل ترین مقدمہ‘

بابری مسجد کیس: ’اسلام میں عبادت کے لیے مسجد لازمی نہیں‘

اس بنچ کی سربراہی چیف جسٹس رنجن گوگئی خود کر رہے ہیں۔ آج عدالت میں سماعت کا 40واں دن ہے اور اب سبھی کو فیصلے کا انتظار ہے۔

تاریخی حیثیت

مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر کے نام سے منسوب بابری مسجد ایودھیا میں سنہ 1528 میں ایک مقامی فوج کے کمانڈر نے بنوائی تھی۔

بہت سے ہندوؤں اور ہندو مذہبی رہنما‌‍‌‌ؤں کا دعویٰ ہے کہ کہ بابر نے یہ مسجد ایودھیا میں ان کے بھگوان رام کے پہلے سے قائم ایک مندر کو توڑ کر اس کی جگہ تعمیر کروائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دسمبر 1949 کی ایک رات بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے نیچے مبینہ مندر کے مقام پر بگھوان رام کی مورتی رکھ دی گئی

ان کا ماننا ہے کہ بابری مسجد کے مقام پر ہی بھگوان رام کی پیدائش ہوئی تھی اور اس لیے مسجد کی زمین کی ملکیت مندر کی ہے۔

یہ تنازع 19ویں صدی میں انگریزوں کے دورِ حکمرانی میں سامنے آیا تھا لیکن پہلی بار یہ کیس سنہ 1885 میں فیض آباد کے کمشنر کی عدالت میں پیش ہوا۔

اس وقت کمشنر نے مسجد اور اس کے احاطے پر ہندوؤں کے ملکیت کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

آزادی کے بعد دسمبر 1949 کی ایک رات بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے نیچے مبینہ مندر کے مقام پر بگھوان رام کی مورتی رکھ دی گئی۔

کشیدگی کے ماحول میں اس مسجد پر تالا لگا دیا گیا اور وہاں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مقامی مسلمانوں نے مسجد میں مورتی رکھے حانے کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور وہاں سے مورتی ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد ہندوؤں نے بھی مسجد کی زمین پر ملکیت کا مقدمہ دائر کیا۔

سنہ 1980 کے عشرے کے اواخر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں آر ایس ایس سے وابستہ وشوا ہندو پریشد کے توسط سے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع ہوئی۔

چھ دسمبر 1992 کو اسی تحریک کے تحت ایودھیا میں جمع ہونے والے ہزاروں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا اور اس منہدم مسجد کے منبر کے مقام پر دوبارہ مورتیاں نصب کر دیں گئیں اور وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا۔

اس وقت سپریم کورٹ نے اس متنازع مقام کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کیا تاکہ حالات مزید کشیدہ ہونے کے بجائے جوں گے توں رہیں۔

اب صورتحال کیا ہے؟

عارضی مندرمیں ہندو عقیدت مندوں کو پوجا کی اجازت ہے۔

مسجد کی جس زمین پر تنازع ہے اس رقبہ 2.77 ایکڑ ہے۔ مسجد کے انہدام کے بعد مرکزی حکومت نے متنازع مقام کے تحفظ کے لیے اس مقام کے اطراف کی 67 ایکڑ اضافی زمین اپنی تحویل میں لے رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہوئے فسادات کا ایک منظر

مقدمے کے فریق

اس مقدمے میں تین فریق ہیں۔

مسلمانوں کی جانب سے سنی وقف بورڈ جبکہ ہندوؤں کی جانب سے ایودھیا کا نرموہی اکھاڑہ اور رام جنم بھومی نیاس اس مقدمے کے فریق ہیں۔

اس مقدمے کے فیصلے میں سنہ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے 7.2 ایکڑ کی متنازع زمین تینوں فریقوں میں برابر برابر تقسیم کر دی تھی۔

تینوں ہی فریقوں نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت عظمی آج بدھ کے روز اس اپیل کی سماعت مکمل کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے ‏اپیل کی سماعت شروع کرنے سے قبل اس تنازع کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ رواں برس کے اوائل میں سپریم کورٹ کے ایک سبکدوش جج ایف ایم آئی خلیف اللہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

یہ کمیٹی تینوں فریقوں سے کئی مہینے کی بات چیت کے بعد اس پیچیدہ معاملے کو ثالثی کے ذریعے حل کر نے میں ناکام رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس تنازع سے انڈیا میں ہندو قوم پرستی کو ہوا ملی اور اسی کے زور پر بھارتیہ جنتا پارٹی شمالی انڈیا کی ایک چھوٹی سے سیاسی جماعت سے ابھر کر ایک ملک گیر جماعت بنی

لیکن گزشتہ مہینے اچانک ثالثی کرنے والی کمیٹی نے دوبارہ ثالثی کی کوشش کے لیے سپریم کورٹ سے اجازت مانگی۔

انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی چند خبروں کے مطابق اس تنازعے پر ثالثی کے ذریعے فریقوں میں مصالحت ہو گئی ہے۔

ان خبروں کے مطابق مسلم فریق یعنی سنی وقف بورڈ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کے دعوے سے دستبردار ہو گیا ہے۔ اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ سمجھوتے کا خاکہ ثالث کمیٹی نے سپریم کورٹ کے سپرد کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ثالثی کی بات چیت اور اس سے متعلق تمام پہلوؤں کو رازداری کے ساتھ مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی اس لیے اس خبر کی کہیں سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازعے نے انڈیا کی سیاست پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔

اس تحریک سے ملک میں ہندو قوم پرستی کو ہوا ملی اور اسی کے زور پر بھارتیہ جنتا پارٹی شمالی انڈیا کی ایک چھوٹی سے سیاسی جماعت سے ابھر کر ایک ملک گیر جماعت بنی، اقتدار میں آئی اور کانگریس کو پیچھے دھکیلتے ہوئے آج ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابری مسجد کے انہدام اوراس کی بحالی کی تحریک نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ہوا دی

بابری مسجد کے انہدام اور اس کی بحالی کی تحریک نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ہوا دی۔ تقسیم ہند کے بعد یہ دوسرا ایسا واقعہ تھا جس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے رشتوں میں گہری خلیج پیدا کی۔

بابری مسجد، رام مندر کا فیصلہ ثالثی سے ہو گا یا ‏عدالت عظمی کے فیصلے سے اس کے بارے میں اس مرحلے پر کچھ کہنا محض قیاس آرائی ہو گی۔

لیکن سپریم کورٹ اپنا فیصلہ ثبوتوں اور فریقوں کی دلیلوں کی بنیاد پر کرے گا۔ عدالت عظمی کا فیصلہ کیا ہو گا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو گا اس کا ملک کی سیاست اور عوام کی نفسیات پر بہت گہرا اثر مرتب ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں