انڈیا: ریچھ کا عضو تناسل کھانے والا شکاری گرفتار

ریچھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برسوں کی کوششوں کے بعد انڈین پولیس ایک بدنام زمانہ شکاری کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جن پر الزام ہے کہ وہ ریچھوں کو ہلاک کر کے ان کے عضوِ تناسل کھا جاتے تھے۔

اس مبینہ شکاری کی گرفتاری کو 'نہایت اہم کامیابی' کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یارلن نامی شکاری گذشتہ کئی برسوں سے مفرور تھے۔

ان کے بارے میں حکام کو سب سے پہلے اس وقت علم ہوا تھا جب نیشنل پارک میں ایک ریچھ کی باقیات ملیں جس کے جسم سے اعضائے مخصوصہ غائب تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’گینڈے کے شکاری‘،خود شیر کا شکار بن گئے

کیمرہ ٹریپ: نایاب جانوروں تک دسترس کا انمول طریقہ

شکاری قبیلے نے اپنا صدیوں پرانا پیشہ کیوں چھوڑ دیا؟

انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے افسر رتیش سروتھیا نے بتایا ہے کہ یارلن کا تعلق پاردھی بیھیلیا نامی خانہ بدوش قبیلے سے ہے اور اس قبیلے کے افراد کا خیال ہے کہ ریچھ کا عضو تناسل انسان کی قوت باہ میں اضافہ کرتا ہے۔

یارلن کو ریاست گجرات سے 19 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ وسطی انڈیا میں ہونے والی شیر کے غیر قانونی شکار اور اس سے متعلقہ کاروبار میں بھی ملوث ہیں۔

یارلن وسطی اور مغربی انڈیا میں خطرے یا معدومیت کے شکار جنگلی جانوروں بشمول شیروں کے شکار اور غیر قانونی خرید و فروخت کے کئی کیسز میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

وہ کافی عرصے سے پولیس کو مطلوب تھے تاہم گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ اپنی شناخت بھی بدلتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY: MP WILDLIFE STF
Image caption یارلن کو سب سے پہلے سنہ 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب کنہا نیشنل پارک سے دو ریچھوں کی لاشیں ملیں تھیں جن کے عضوتناسل اور گال بلیڈر (پِتہ) کاٹ کر نکال لیے گئے تھے

یارلن پر ابھی فردِ جرم عائد نہیں ہوئا اور نہ ہی ان کے وکیل نے ان مبینہ الزامات پر کوئی ردِعمل دیا ہے۔ بدھ کے روز انھیں مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے پولیس کو ان کا جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔

محکمہ جنگلات کی سپیشل ٹاسک فورس کے سربراہ رتیش سروتھیا کا کہنا ہے کہ 'ان (یارلن) کو پکڑنے کرنے کے لیے ہم نے ایک سپیشل سیل قائم کیا تھا۔ یہ چھ برسوں سے بھی لمبے عرصے پر محیط طویل ترین تعاقب تھا۔'

یارلن کے خانہ بدوش قبیلہ ریاست مدھیہ پردیش کے جنوبی علاقوں میں رہتا ہے اور جنگلات میں رہنا پسند کرتا ہے جبکہ گزر اوقات کے لیے اس قبیلے کے افراد شکار پر انحصار کرتے ہیں۔

انڈیا میں جنگلی جانوروں کا شکار غیر قانونی ہے۔ نا صرف عام لوگوں کے لیے بلکہ قبائل کے افراد کے لیے بھی۔ اس کے باوجود ایک رسم کے طور پر شکار جاری رہتا ہے۔

انڈین حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ قبائلی افراد کے لیے شکار کے متبادل کے طور پر روزگار کے دیگر مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے مگر معاشرے میں کئی افراد انتہا پر رہنا پسند کرتے ہیں۔

یارلن کو سب سے پہلے سنہ 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب کنہا نیشنل پارک سے دو ریچھوں کی لاشیں ملیں تھیں جن کے عضو تناسل اور گال بلیڈر (پِتہ) کاٹ کر نکال لیے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق یارلن نے ایک برس جیل میں گذارا مگر بعدازاں ضمانت پر رہا ہوئے اور مفرور ہو گئے۔ ریچھ کے جگر سے پیدا ہونے والا سبزی مائل مادہ، جو کہ پِتے میں جمع ہوتا ہے، چین میں صدیوں سے روایتی طریقے سے تیار ہونے والی ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔

بین الاقوامی غیر قانونی مارکیٹ میں اس مادے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

رتیش سروتھیا کے مطابق یارلن کے خلاف مہاراشٹرا اور مدھیہ پردیش میں جنگلی حیات کے تحفظ کی دفعات کے تحت چھ مختلف کیس درج ہیں۔ ان میں سے تین کیس شیروں کے غیر قانونی شکار کے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں