کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط: ’تمام مذاہب کے انڈین کرتار پور کے راستے پاکستان آ سکیں گے‘

انڈیا پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ PAK FOREIGN OFFICE

انڈیا اور پاکستان نے کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط کر لیے ہیں جس کے تحت انڈیا کے سکھ یاتری بغیر ویزے پاکستان میں موجود اپنے چند مقدس مقامات کا دورہ کر سکیں گے۔

کرتارپور راہداری سے مراد وہ راستہ ہے جو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر بنایا گیا ہے اور اس کا استعمال کرتے ہوئے انڈیا سے سکھ یاتری گرودوارہ دربار صاحب آسکتے ہیں۔ اسے نو نومبر سے کھولنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پانچ ہزار سکھ یاتری روزانہ کرتارپور آ سکیں گے

گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

’کرتارپور راہداری کی تعمیر ایک معجزہ ہے‘

معاہدے میں کیا ہے؟

انڈیا اور پاکستان نے کرتارپور راہداری کے معاہدے سے متعلق مندرجہ ذیل نکات پر اتفاق کیا ہے:

  • دونوں ملکوں کے درمیان کرتارپور راہداری کو چلانے کا باقاعدہ فریم ورک طے ہو گیا ہے۔
  • انڈیا سے کسی بھی مذہب کے یاتری اس راہداری سے سفر کر سکتے ہیں۔
  • یہ سفر ویزے کے بغیر ہوسکتا ہے۔
  • سفر کے لیے درست پاسپورٹ اور الیکٹرانگ سفری اجازت نامہ (ای ٹی اے) ہونا ضروری ہے۔
  • انڈیا سے تعلق رکھنے والے دیگر ممالک کے لوگ بھی راہداری کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے انھیں اپنے ملک کا پاسپورٹ اور او آئی سی کارڈ درکار ہوگا۔
  • راہداری پورے سال کھلی رہے گی، صرف ان چھٹی کے دنوں کے علاوہ جو پہلے سے بتا دیے جائیں گے۔
  • انڈین حکام پاکستان کو یاتریوں کی فہرست 10 دن پہلے فراہم کریں گے۔
  • سفر سے پہلے یاتریوں کی تصدیق کی جائے گی جس میں ای ٹی اے شامل ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
  • پاکستان لنگر اور پرساد کے ضروری انتظامات کرے گا۔
  • سروس چارجز کی مد میں 20 ڈالر وصول کیے جائیں گے۔ انڈین وفد نے اس پر افسوس کا اظہار کیا لیکن اس کے باوجود معاہدے پر دستخط کیے۔ وہ اس پر مزید بات کرنا چاہتے ہیں۔
  • فی دن 5000 یاتری اس راہداری کا استعمال کر سکیں گے۔
  • اسے ہر موسم میں استعمال کے لیے کام کیا جائے گا۔ فی الحال پل کو فعال کر دیا جائے گا اور وقت کے ساتھ ایک مستقل پل بنایا جائے گا۔
  • یاتری اپنی رجسٹریشن آن لائن پورٹل پر کر سکیں گے جسے معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد شروع کردیا جائے گا۔ یہ پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر کام کرے گا۔
  • درخواست گزار موبائل پر ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے معلومات حاصل کر سکیں گے۔
  • ای ٹی اے ای میل پر بھیجا جائے گا اور اسے پورٹل سے بھی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔

کرتارپور راہداری کب کھلے گی؟

اس منصوبے کو گذشتہ سال نومبر میں شروع کیا گیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اسے 9 نومبر کو گورو نانک کی 550 ویں سالگرہ کے موقع پر کھول دیا جائے گا۔

ہر دن سینکڑوں مزدور اسے مکمل کرنے کے لیے کام کررہے ہیں جو 42 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ گرودوارے کے اردگرد میوزیم، لائبریری، لاکر روم، ایمیگریشن سینٹر اور دیگر عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔

سیلاب کی صورت میں گروارے کو نقصان نہ پہنچے اس سلسلے میں بھی انتظامات ہورہے ہیں۔

اتنی دیر کیوں لگی؟

سکھ برداری نے گذشتہ کئی سالوں سے اس راہداری کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ دونوں ملکوں کی پچھلی حکومتوں نے اس سلسلے میں سنہ 1998، 2004 اور 2008 میں ابتدائی بات چیت کی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے بھی حالیہ کچھ عرصے کے دوران انڈیا اور پاکستان میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔

حکام کے مطابق ’آمد و رفت کے مسائل‘ کی وجہ سے کرتار پور راہداری کے معاہدے پر دستخط ایک دن کی تاخیر سے ہوئے ہیں۔ انڈین حکام نے یاتریوں سے 20 ڈالر سروس فیس لینے پر مایوسی ظاہر کی لیکن اس کے باوجود معاہدے پر دستخط کر دیے۔

گرودوارے کی اہمیت کیا ہے؟

موجودہ گرودوارے کو سنہ 1925 میں تعمیر کیا گیا جب اس کی اصل حالت سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھی۔

سنہ 2004 میں اسے پاکستان کی طرف نے بحال کیا گیا۔

یہ گرودوارہ اس لیے تعمیر کیا گیا کیونکہ گورو نانک نے اپنی زندگی کے 18 برس کے دوران اس مقام پر قیام کیا تھا۔

یہ سکھوں کے لیے دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔ سکھوں کے لیے سب سے مقدس گرودوارہ جنم استھان ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں