ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور: ’انڈین آرمی چیف غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے جنگ کو ہوا دیتے رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ iSPR

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے انڈین آرمی چیف بپن راوت کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ انڈین چیف اپنے سیاسی آقاؤں کی انتخابی مہم کو فروغ دینے کے لیے جنگ کو ہوا دیتے رہے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا یہ بیان انڈیا کے آرمی چیف جنرل بپن راوت کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق بیانات کے ردعمل میں سامنا آیا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’انڈین چیف آف آرمی سٹاف اپنے سیاسی آقاؤں کی انتخابی مہم کو فروغ دینے کے لیے مسلسل غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے جنگ کو ہوا دیتے رہے ہیں۔ جعلی سرجیکل سٹرائیک سے لیکر آج تک ان کی واحد کامیابی یہی رہی ہے کہ انہوں نے انڈین آرمی کو ایک سرکش فوج کے روپ میں پیش کیا ہے اور اپنے فوجیوں کو مراویا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈین آرمی چیف کے بیان کو معصوم شہریوں کے خون سے رنگے ہاتھوں، پاکستانی مسلح افواج کے ہاتھوں انڈیا کے جانی نقصان، نام نہاد ٹیکنیکل خرابی کے بعد ہیلی کاپٹر کریش یا برادر کشی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ انہیں انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے کی قیمت پیشہ وارانہ عسکری جذبے کے صورت میں دینا پڑی ہے‘۔

انڈیا کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کیا کہا تھا؟

اس سے پہلے انڈیا کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستانی حکومت کا نہیں شدت پسندوں کا قبضہ ہے جو انڈیا کے زیر انتظام کشیمر میں حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق انھوں نے کہا کہ دفعہ 370 ختم کیے جانے سے ملک اپنے 'حتمی مشن' کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

’ضرورت پڑی تو ایل او سی پار بھی کر سکتے ہیں‘

پاکستان مہم جوئی سے باز رہے: انڈین آرمی چیف

’مغرب میں ہمارا ہمسایہ ملک پراکسی گیم کھیل رہا ہے‘

’اتنی خود اعتمادی انڈین فوج کے پاس آتی کہاں سے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین آرمی چیف بپن راوت

انڈین فوج کے سابق سربراہ جنرل کری اپا کی یاد میں ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے جرنل بپن راوت نے کہا کہ دفعہ 370 ایک عارضی انتظام تھا اور اسے ختم کیے جانے کے خلاف پاکستان اچانک اس لیے آوازیں اٹھانے لگا کیونکہ ’جس علاقے (کشمیر اور گلگت، بلتستان) پر پاکستان نے غیر قانونی طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے اس پر پاکستان کی حکومت کا کنٹرول نہیں بلکہ یہ دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ’دراصل دہشت گردوں کے کنٹرول والا پاکستانی علاقہ ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا ’اس علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 42,000 جانیں جا چکی ہیں اس لیے پاکستانی اسٹیبلشمینٹ اور دہشت گردوں کے کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ خاموش بیٹھیں۔ اسی لیے وہ دفعہ 370 ختم کیے جانے کے خلاف واویلا کر رہے ہیں‘۔

جرنل بپن راوت نے اپنی تقریر میں کشمیر میں دوسری ریاستوں سے زیادہ ترقی کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر کو مرکز سے دوسری ریاستوں کے مقابلے چار گنا زیادہ مالی امداد ملتی تھی لیکن ریاست میں اس کی مناسبت سے ترقی نہیں ہو رہی تھی۔

انڈین آرمی چیف نے کہا ’ریاست میں ترقی کے جو اشاریے ہیں وہ بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پریش جیسی پسماندہ ریاستوں کے دگنے کے برابر بھی نہیں ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر جن ’دہشت گردوں کا قبضہ ہے وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسی لیے ہم سیب کے تاجروں، دوسری ریاستوں کے ٹرک ڈرائیوروں کے قتل کے واقعات، دکانداروں کو دکانیں بند رکھنے اور سکول میں بچوں کو نہ بھیجنے کی دھمکیوں کے واقعات دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کیوں کہ یہ پاکستان اور اس ریاست میں رہنے والے دہشت گردوں کے بیانیے کا حصہ ہے‘۔

جرنل بپن راوت نے کہا ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر میں موجود فوجیوں اور حکومت کی پالیسوں کی مدد سے ہمیں اپنے حتمی مشن کو حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں