نریندر مودی کا دورہ: سعودی عرب انڈیا کے قریب کیوں آ رہا ہے؟

Image caption نریندر مودی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کا دو دن کا سرکاری دورہ شروع کر رہے ہیں۔ 28 اکتوبر کو ریاض پہنچنے کے بعد وہ 29 اکتوبر کو شاہ سلمان سے ملاقات کریں گے۔

نریندر مودی سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے لیے سرکاری فنڈ ایجنسی، ’سوورن ویلتھ فنڈ‘ ( (Sovereign Wealth Fundکی طرف سے منعقد ’فیوچر انویسٹمینٹ اِنِشیےٹو فورم‘( Future Investment Initiative Forum) سے بھی خطاب کریں گے۔

مودی کے اس دورے میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر مذاکرات متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ حج کے لیے جانے والے زائرین کی تعداد بڑھانے کے بارے میں بھی بات ہوگی۔

جہاں وزیر اعظم نریندر مودی انڈین معیشت میں اندرونی سست روی سے نمٹ رہے ہیں وہیں عالمی معیشت میں سست روی کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت بھی مشکل میں ہے۔

ایسے میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان ممکنہ طور پر ہونے والے بڑے معاہدوں پر سب کی نظر ہے۔ انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات پر پڑھیے تجزیہ کار قمر آغا کیا کہتے ہیں۔۔

انڈیا سعودی تعلقات

انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان بہت گہرے تجارتی تعلقات ہیں۔ انڈیا کا 17 فیصد تیل اور 32 فیصد ایل پی جی سعودی عرب سے آتا ہے اور دونوں کے درمیان تقریباً 27 اعشاریہ 5 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ اس میں 22 ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات انڈیا سعودی عرب سے خریدتا ہے جبکہ انڈیا کی برامدات صرف 5 اعشاریہ 5 ارب ڈالر مالیت کی ہیں۔

انڈیا کے لیے یہ تجارتی عدم توازن تشویشناک ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب انڈیا میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرنا چاہتا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے دورے میں تیل اور توانائی کے شعبوں پر مذاکرات ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم سعودی معیشت بھی اس وقت سست روی کا شکار ہے۔

اس کی ایک وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور یمن کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے خرچوں میں اضافہ بھی ہے۔

اب تک سعودی عرب کی معیشت تیل پر منحصر رہی ہے لیکن اب وہ دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔

اسی لیے وہ انڈیا، چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب کے اندر تبدیلیاں آ رہی ہیں، سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے اور نئی کمپنیاں کھولی جا رہی ہیں۔

تجارتی اور بین الاقوامی تعلقات کے علاوہ بھی انڈیا اور سعودی عرب کے کئی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں تقریباً 15 لاکھ انڈین شہری کام کرتے ہیں، جن کے ذریعے انڈیا کو کئی ارب ڈالر کا زر مبادلہ بھی ملتا ہے۔

انڈین ریاست مدھیا پردیش میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے ایک بڑا پیٹروکیمیکل کامپلیکس بنیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے 100 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری میں ریلائنس اینرجی اور بی پی سی ایل کے ساتھ معاہدے بھی شامل ہیں۔

انڈیا تیل کا ذخیرہ بھی بنا رہا ہے۔ جنوبی انڈیا میں اس طرح کے ذخائر بن چکے ہیں۔ اب انڈیا ایسا ہی ایک اور ذخیرہ بنا رہا ہے تاکہ ایمرجنسی میں یا قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں اس کا استعمال کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کافی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

انڈیا چاہتا ہے کہ اس کے پاس تقریباً 3 ماہ کا ذخیرہ ہو۔ یعنی 3 ماہ کے لیے اگر تیل درآمد نہ بھی کیا جائے تب بھی کام چل سکے۔

سعودی عرب کا کردار کیا ہے

صرف ایک ملک کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری انڈیا کے فوری اقتصادی مسائل کا حل تو نہیں ہوگی لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات سے فرق ضرور پڑے گا۔

عالمی معیشت کافی کمزور ہو گئی ہے۔ انڈیا کی مغربی ممالک سے سرمایہ کاری کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں۔

جاپان اور جنوبی کوریا سے امیدیں ہیں کیونکہ ان کے انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور انڈیا میں خاصی سرمایہ کاری کے ان کے منصوبے بھی ہیں۔ اس کا ایک بڑا حصہ انڈیا پہنچ بھی چکا ہے۔

انڈیا شمال اور جنوب کے درمیان ایک تجارتی راہداری بنانے والا ہے، جس کے ساتھ سمارٹ سِٹیز اور صنعتی شہروں کے منصوبے بھی ہیں۔ ان تمام منصوبوں میں بھی سعودی عرب کا نمایاں کردار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دوسری جانب ایران سے انڈیا آنے والا تیل بند ہو گیا ہے اور اس لیے انڈیا کو سعودی عرب اور عراق سے تیل لینا پڑ رہا ہے۔

پاکستان فیکٹر

انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات میں پاکستان بھی ایک بڑا فیکٹر ہے۔

انڈیا اور سعودی عرب کے سیاسی تعلقات مختلف رہے ہیں، اس وجہ سے سعودی عرب کو کشمیر کے معاملے پر بھی کوئی خاص اعتراض نہیں۔ بلکہ خلیج کے اکثر ممالک کشمیر کو انڈیا کا اندرونی معاملہ سمجھتے ہیں۔

اس وجہ سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر اس معاملہ پر انڈیا کے خلاف بات کریں گے۔

یہاں تک کہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد ہی متحدہ عرب امارات اور بحرین نے وزیر اعظم مودی کو اپنے ملک کے اعلیٰ ترین سولین اوارڈ سے نوازا۔

انڈیا کا انحصار کتنا ہے

انڈیا اور سعودی عرب کا ایک دوسرے پر انحصار کافی بڑھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی پاکستان کی مکمل حمایت کرنے والا سعودی عرب اب انڈیا کے قریب آ رہا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ اس کی 2008 کی ’لُک ایسٹ‘ کی پالسی بھی ہے۔

اس کے باوجود یہ بات بھی سچ ہے کہ پاسکتان کے ساتھ سعودی عرب کے کئی شعبوں میں قریبی تعلقات ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کی افواج کے درمیان نہایت ہی قریبی تعلقات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم دونوں کے درمیان تھوڑی کشیدگی بھی ہے کیونکہ سعودی عرب کا خیال تھا کہ ایران کے معاملے میں پاکستان کھل کر اس کا ساتھ دے گا اور یمن میں جاری جنگ میں بڑا کردار ادا کرے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

آج کل کی دنیا میں اقتصادی مفادات سیاسی پہلوؤں سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ انڈیا کی تقریباً ڈھائی ٹرلین کی معیشت بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

انڈیا اور سعودی عرب کے مذاکرات میں شدت پسندی بھی ایک اہم موضوع ہوگا۔ انڈیا چاہتا ہے کہ شدت پسندی پر ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے جس میں تمام ممالک مل کر منصوبہ بندی کریں۔ اب تک اس بارے میں سعودی عرب اور انڈیا میں کافی تعاون رہا ہے۔ انڈیا نے جب جب کسی مطلوبہ شخص کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے سعودی عرب نے انکار نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کے موجودہ دورے میں کن کن موضوعات پر اتفاق رائے ہوتا ہے اور کیا طے پاتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں کے بارے میں مذاکرات کی اطلاعات بھی ہیں۔

اسی بارے میں