کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی: یورپی سیاستدانوں کا دورہ کشمیر آزادانہ یا ’تعلقات عامہ بہتر کرنے کی کارروائی‘

یورپی پارلیمنٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یورپی پارلیمان کے 28 ارکان پر مشتمل ایک گروپ منگل کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کرے گا۔

انڈیا کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد غیر ملکی ممبرانِ پارلیمان کا کشمیر کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔

کشمیر جانے والے یورپی سیاستدانوں نے پیر کے روز انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔

اس ملاقات کے دوران نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں اور اس کو فروغ دینے والوں کے خلاف زبردست کارروائی ہونی چاہیے اور ان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: امریکی سیاستدانوں اور میڈیا کی بڑھتی تشویش

کشمیر: صدر ٹرمپ کے مودی اور عمران خان سے رابطے

ایلس ویلز: انڈیا ہمارے سفارتکاروں کو کشمیر نہیں جانے دے رہا

یورپی یونین کے گروپ کے ایک رکن بی این ڈن نے کہا کہ وہ وادی میں عام کشمیریوں سے ملاقات کرنے اور وہاں کے حالات جاننے کے لیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کل وزیر اعظم نے انھیں آرٹیکل 370 کے بارے میں بتایا لیکن وہ خود وہاں جا کر زمینی حقائق معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دورہ تنازعات کا شکار کیوں؟

لیکن یہ دورہ شروع ہونے سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

انڈیا میں حزبِ اختلاف نے بھی اس پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے رہنما جے رام رمیش کا اپنی ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ جب انڈیا کے سیاستدانوں کو جموں اور کشمیر میں لوگوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا تو یورپی یونین کے سیاستدانوں کو اس کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ انڈیا کی پارلیمان اور جمہوریت کی توہین ہے۔

ادھر برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اس کے یورپی پارلیمان کے رکن کرس ڈیوس کو انڈیا نے کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن ایک بیان میں ڈیوس نے کہا کہ جب انھوں نے زور دیا کہ وہ وہاں مقامی لوگوں سے آزادی سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ان کے دعوت نامے کو فوراً واپس لے لیا گیا۔ اس دعویٰ کی انڈین حکام نے ابھی تک تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

کرس ڈیوس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں مودی حکومت کے لیے تعلقات عامہ بہتر کرنے کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ ہی یہ دکھانے کے لیے کہ سب ٹھیک ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کشمیر میں جمہوری اصولوں کو توڑا گیا ہے اور دنیا کو اس کا نوٹس لینا ہو گا۔‘

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد وادی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وادی میں سیکشن 144 نافذ ہے۔ اکثر بڑے کشمیری رہنما یا تو اپنے گھروں میں نظربند ہیں یا جیلوں میں قید ہیں۔ لوگوں میں حکومت کے اس یکطرفہ فیصلے کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔

پاکستان کی طرف سے سفارتکاروں کا دورہ

پاکستان نے بھی حال ہی میں بین الاقوامی سفارتکاروں کے ایک گروپ کو اپنے زیر انتظام کشمیر میں اس جگہ کا دورہ کروایا تھا جہاں اس کے مطابق انڈیا کی گولہ باری سے عام لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔

انڈیا کا جموں اور کشمیر کے بارے میں ہمیشہ یہ موقف رہا کہ یہ انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے اور اس مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر بات چیت ضروری نہیں ہے۔ لیکن سرکاری ذرائع کے مطابق انڈیا کی حکومت نے عالمی دباؤ کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی حکومت یہ بھی دکھانا چاہتی ہے کہ کشمیر میں عام زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے اور یہ کہ پانچ اگست کے بعد سے کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

انڈیا کے ایک سابق سفارتکار راجیو ڈوگرا کا، جو پاکستان میں بھی فرائض انجام دے چکے ہیں، کہنا ہے کہ انڈیا نے صحیح قدم اٹھایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جو ’دہشتگردی‘ کی گئی اس سے نمٹنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔

انھوں نے کہا کہ اب حالات بہتر ہوئے ہیں تو انڈیا غیر ملکی صحافیوں اور سفارتکاروں کو کشمیر جانے کی اجازت دے کر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بننے والے قانون کو 30 اکتوبر سے نافذ کیا جائے گا۔انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی پاکستان نے شدید مخالفت کی ہے اور اسے نہ صرف اقوام متحدہ میں اٹھایا بلکہ اسے ایک بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔

اسی بارے میں