انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پانچ مزدور ہلاک

کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

حالیہ دنوں میں کشمیر میں باہر کے لوگوں پر حملے تیز ہوئے ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کلگام ضلع کے کاتروس گاؤں میں شدت پسندوں نے پانچ مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جموں کشمیر پولیس زون کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے یہ اطلاع دی گئی ہے۔

ٹویٹ کے مطابق پولیس موقع پر موجود ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ منگل کی رات نو بجے ان لوگوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یورپی پارلیمان کا ایک وفد جموں کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہاں پہنچا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان ہلاکتوں کا کافی ذکر ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پولیس موقع واردات پر موجود ہے

مکان میں گھس کر مزدوروں کو مارا گیا

کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اگست میں جموں کشمیر پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی کے غیر کشمیری لوگ اور سیاح کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا تھا کہ 'چونکہ اب کشمیر میں پابندیوں میں کچھ نرمی دی گئی ہے اس لیے پولیس کی ایڈوائزری بھی ہٹا لی گئی ہے۔

ان حالات میں کشمیر میں سیاحت تو نہیں بڑھی لیکن مزدوروں کی روزی روٹی کا معاملہ تھا اس لیے آہستہ آہستہ وہ کشمیر واپس آنے لگے تھے۔ اس وقت سیبوں کے باغات اور دیگر مقامات پر کام کرنے کے لیے مزدور واپس آ رہے ہیں۔ ریاض مسرور کے مطابق یہ تمام مزدور کرائے کے ایک مکان میں رہ رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پہلے بھی مزدوروں اور ٹرک ڈرائیوروں پر حملے ہوئےہیں

پولیس کے مطابق بندوق بردار لوگ ان کے گھر میں گھسے اور انہیں باہر نکالا اور گولیاں مار دیں۔ حملے میں پانچ مزدوروں کی موت ہو گئی جبکہ ایک زخمی ہے۔

پولیس نے ہلاک ہونے والوں میں سے تین کی شناخت کر لی ہے۔ ان کے نام محمد مرسلین، احمد، قمر الدین اور محمد رفیق ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ لوگ ریاست بہار کے رہنے والے تھے۔ ابھی تک سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ کشمیر میں حالیہ دنوں میں باہر سے آنے والے لوگوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔