Manipur#: پاکستان میں انڈین ریاست منی پور کا نام کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

یامبین بیرن اور سمرجیت تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption یامبین بیرن اور سمرجیت نے خود کو منی پور کی جلاوطن حکومت کا وزیر اعلی اور وزیر خارجہ بتایا ہے

پاکستان میں بدھ کو ٹوئٹر پر 'منی پور' ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ منی پور انڈیا کی شمال مشرقی ریاست ہے۔

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے دو منحرف رہنماؤں نے منگل کو لندن میں یکطرفہ طور پر منی پور کی ’انڈیا سے آزادی‘ کا اعلان کرتے ہوئے خود ساختہ جلاوطن حکومت کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔

منی پور کے دو منحرف رہنماؤں یامبین بیرن اور نارنگبام سمرجیت کا دعویٰ ہے کہ وہ منی پور کے سابق راجہ لیشمبا سناجوبا کی نمائندگی کرتے ہیں۔

لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یامبین بیرن نے خود کو منی پور ریاستی کونسل کا وزیر اعلیٰ کہا جبکہ نارنگبام سمرجیت نے اپنے آپ کو خود ساختہ وزیر خارجہ بتایا۔

خیال رہے کہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں وقتاً فوقتاً علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑتی رہی ہیں۔ حال ہی میں ناگا لینڈ میں علیحدہ آئین اور علیحدہ پرچم کے مطالبے نے زور پکڑا تھا لیکن منی پور کی طرح کسی ’جلاوطن حکومت‘ کے قیام کا اعلان شاید پہلی بار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’منی پور کی آئرن لیڈی‘ کے صرف 90 ووٹ

منی پور میں 62 فرضی تصادم کے واقعات کی تفتیش کا حکم

شہریت کا قانون : انڈیا کے ہندو ہی ہندوؤں کے مخالف کیوں؟

منی پور کے منحرف رہنماؤں نے کہا کہ وہ منی پور مہاراجہ کے ترجمان کے طور پر بات کر رہے ہیں۔ اور انھوں نے باضابطہ طور پر 'منی پور سٹیٹ کونسل' کی ’جلاوطن حکومت‘ کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption منی پور میں لوگ مبینہ فرضی تصادم میں ہلاکتوں کی تفتیش کا مطالبہ کرتے رہے ہیں

لیکن انڈین میڈیا کے مطابق سابق راجہ لیشمبا نے ان کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور اس خود ساختہ جلاوطن حکومت سے اپنی دوری کی بات کہی ہے۔ انھوں نے منی پور کی مقامی زبان میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ ایک تقریب سے واپس آ رہے تھے تو انھیں اس بات کا علم ہوا اور وہ ’اس وائرل خبر پر حیران اور صدمے میں ہیں۔‘

پاکستان میں ٹرینڈ

انڈیا حکومت کی جانب سے ابھی اس کے متعلق کوئی بیان نہیں آیا ہے لیکن سوشل میڈیا پر اور بطور خاص پاکستان میں کئی گھنٹوں سے 'منی پور' ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اسفند یار خان نامی صارف نے لکھا 'یہ ہندوستان کا اصل چہرہ ہے کہ وہاں تمام اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ سب باری باری آزادی کا اعلان کر رہے ہیں۔ منی پور کی مثال تازہ ہے۔'

کئی لوگوں نے یہ لکھا کہ منی پور کے علیحدگی پسندوں نے انڈیا سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اور ’اب باری خالصتان، ناگالینڈ، میزورم، اروناچل پردیش، میگھالیہ، تریپورہ، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کی ہے۔‘

کانگریس کارکن اینجلیکا اریبام نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’منی پور کے راجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے خود کو اس اعلان سے علیحدہ رکھا ہے۔ انھوں نے کہا ہے ان نمائندوں نے لندن سے منی پور کے متعلق دستاویزات اور تصاویر کے حصول کے بہانے ان سے بعض دستاویز پر دستخط کروائے تھے۔ وہ اس اعلان سے لاعلم ہیں۔‘

رشمی نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا ’منی پور کے رہنماؤں نے لندن مین انڈیا سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت غیرروادار ہے اور ہندوتوا کی بالادستی کے لیے چھوٹی قومی کو ختم کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ ہندوتوا انڈیا کو تباہ کر دے گا۔‘

دوسری جانب لندن میں منی پور سٹیٹ کونسل کے خود ساختہ وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کو تسلیم کروانے کے لیے اقوام متحدہ کا رخ کریں گے۔

خیال رہے کہ مسٹر بیرن اور مسٹر سمرجیت کو حال ہی میں برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل ہوئی ہے اور انھوں نے اس کے متعلق دستاویزات بھی دکھائے۔ اب وہ اپنی 'قانونی حکومت' لندن سے چلانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’بین الاقوامی برادری کے سامنے منی پور کی آزاد حکومت کے اعلان کا یہ صحیح وقت ہے تاکہ اسے تسلیم کیا جائے۔ ہم اقوام متحدہ کے تمام خود مختار رکن ممالک سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ آج سے منی پور کی ہماری جائز حکومت کو تسلیم کرے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کے ساتھ بات چیت کی ان کی کوششوں کا جواب اب تک نفرت اور دشمنی سے دیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انڈیا کی سپریم کورٹ میں ماورائے عدالت قتل کے 1528 مقدمات پڑے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریاست منی پور میں انڈيا کے خلاف علیحدگی کی تحریک چلنے کا ایک طویل سلسلہ رہا ہے

منی پور کا مسئلہ کیا ہے؟

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ سنہ 1979 سے 2012 کے درمیان منی پور میں بہت سے لوگوں کو فرضی مقابلوں میں مارا گيا ہے۔ ان کے مطابق اس میں نابالغ بچے اور بہت سی خواتین بھی شامل ہیں۔

2010-12 میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ایکسٹرا جوڈیشیل وكٹم فیملی ایسوسی ایشن‘ نے تقریباً 1528 ایسے کیسز درج کیے جس میں انڈین فوج اور ریاستی پولیس کی جانب سے فرضی تصادم میں لوگوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

جولائی سنہ 2017 میں انڈيا کی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو شمال مشرقی ریاست منی پور میں 62 لوگوں کی مبینہ فرضی تصادم میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفتیش کا حکم دیا تھا۔

دونوں منحرف رہنماؤں کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت کا قیام منی پور ریاست کے 1947 کے آئین کے مطابق ہیں۔

خیال رہے کہ شمال مشرقی ہندوستان کی سابق شاہی ریاست منی پور سنہ 1949 میں ہندوستان میں شامل ہوئی تھی لیکن وہاں دہائیوں تک علیحدگی پسند تحریک نظر آتی رہی ہے اور کشمیر کی طرح ریاست منی پور میں بھی افسپا جیسا قانون سنہ 1958 سے نافذ ہے جس کے تحت سکیورٹی فورسز کو بہت سے خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔

اسی بارے میں