کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ: انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں حکومتی فیصلوں کا شور لیکن سیاست خاموش

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نئی دلی میں نریندر مودی کی حکومت کو یقین ہے کہ یکم نومبر کو ایک نیا کشمیر وجود میں آئے گا۔ ماضی میں خوب دعوے کیے گئے کہ کشمیر کا درجہ باقاعدہ ریاست سے کم کر کے اسے مرکزی انتظام والے دو الگ الگ خطوں میں تقسیم کیا جائے تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔

اس ہنگامہ خیز ارتقا کا طوفانی اعلان رواں برس اگست میں کیا گیا تو مسئلہ کشمیر کشیدہ اور کشمیری دم بخود رہ گئے۔ کرفیو تو ہٹ گیا مگر مواصلاتی رابطوں پر قدغن ہے اور زباں بندی کا غیر اعلانیہ قانون نافذ ہے۔

تعلیم امتحانات پر محیط ہو گئی اور تجارت صبح کے اوقات میں روٹی کپڑے کی خرید و فروخت تک سمٹ گئی۔ اس بیچ حکومتی اعلانات کا شور ہے اور سیاست خاموش ہے۔

اس تاریخی اعلان کو قانونی شکل 31 اکتوبر کو دی جائے گی۔ سرکاری حکم نامے پر واقعی ایک نیا کشمیر ابھرا ہے لیکن صورتحال جوں کی توں ہے۔

انڈین آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کے باعث کشمیر کو 30 ریاستوں والے انڈین وفاق میں خصوصی درجہ حاصل تھا۔ جموں کشمیر کا علیحدہ سرخ پرچم تھا جو سرکاری عمارتوں اور سرکاری گاڑیوں پر انڈین ترنگے کے ساتھ لگانا آئینی فریضہ تھا۔

حکومت کو مقامی طور پر قانون سازی کا حق تھا، مرکزی قوانین کا اطلاق مقامی قانون سازی کی توثیق کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا اور جموں کشمیر کی حدود سے باہر رہنے والا کوئی بھی انڈین یہاں زمین و جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا تھا۔

اب یہ سب نہیں رہا لیکن پاکستان اپنے دعوؤں سے دستبردار نہیں ہوا اور کشمیری انڈین حکومت کو کوئی موقع نہیں دیتے جس سے وہ یہ ثابت کر سکے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے؟

’کشمیریوں کی نئی نسل میں موت کا خوف نہیں ہے‘

کشمیر: ’معمول کی زندگی‘ کے پس پشت پیچیدہ حقائق

مودی حکومت سمجھتی ہے کہ کشمیر کو نیم خود مختاری دینے والی ان دفعات کو انڈین آئین میں شامل کرنا ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی ’تاریخی غلطی‘ تھی اور ان دفعات کی وجہ سے کشمیر میں علیحدگی پسند جذبات پیدا ہو گئے جنھیں پاکستان نے مزید بھڑکایا۔

لیکن اب نہ لال پرچم ہے نہ ہی سیاسی اختیارات۔ علیحدگی پسند رہنما اور ان کے کارکن جیلوں میں ہیں اور مسلح نوجوانوں کے خلاف فوج، نیم فوجی دستے اور مقامی پولیس مورچہ زن ہے۔

پانچ اگست کو پارلیمان میں اعلان ہوا تو کشمیر پر خوفناک خاموشی چھا گئی جو اب بھی جاری ہے۔

ہند نواز رہنما اور ان کے کارکن بھی مقید ہیں۔ کرفیو تو ہٹ گیا لیکن تجارتی اور تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہیں، موبائل رابطے محدود اور انٹرنیٹ معطل ہے۔

ایک درجن خواتین نے گذشتہ ہفتے گرفتاریوں اور قدغنوں کے خلاف احتجاج کیا تو انھیں گرفتار کر کے دس ہزار روپے جرمانہ اور تحریری مچلکے کے عوض رہا کیا گیا۔ ان پر پابندی ہے کہ وہ نئی تبدیلی سے متعلق بات کریں گی تو جیل جائیں گی۔

نئی تبدیلی

گذشتہ 70 برس کے دوران انڈیا کی کسی بھی ریاست کا درجہ کم کر کے اسے مرکزی انتظام والا علاقہ یا یونین ٹیریٹری قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم کئی ریاستوں کے بعض خطوں کو ترقی دے کر ریاست کا درجہ دیا گیا۔

چھتیس گڑھ کو بہار سے الگ کر کے ریاست بنایا گیا، اترا کھنڈا کو اتر پردیش سے اور تیلنگانہ کو آندھرا پردیش سے علیحدہ کر کے ریاست کا درجہ دیا گیا۔ یہ سبھی تبدیلیاں ان ریاستوں کی مقامی اسمبلیوں کی آمادگی سے کی گئیں اور ان تبدیلیوں کے لیے عرصے سے لوگ مطالبہ کرتے رہے تھے۔

کشمیر میں آ رہی نئی تبدیلیوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے معروف قانون دان سید ریاض خاور نے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیر اب پانڈی چری کی طرح ہو گا جہاں اسمبلی تو ہو گی لیکن وہ اسمبلی لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت رہے گی۔

ان کا کہنا تھا ’کل کو اگر اسمبلی کے 100 ارکان بھی کوئی قانون بنا لیں یا کوئی ترمیم کر لیں اور لیفٹیننٹ گورنر اس قانون کی توثیق نہ کرے تو قانون میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔ قانون سازی کا حق ہم سے چھین لیا گیا ہے۔‘

انھوں نے نئے انتظام کی تفصیلات کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے پاس 420 قوانین تھے۔ جن میں سے صرف 136 کو باقی رکھا گیا اور باقی سب کچھ مرکزی قوانین کے تحت ہو گا بالکل اسی طرح جس طرح دلی یا پانڈی چری میں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں صحافیوں کے لیے کام کرنا ’تقریباً ناممکن‘

کشمیر ڈائری: کیا شناخت چھینی یا مٹائی جا سکتی ہے؟

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: ’ہمیں انسانیت نہیں کھونی چاہیے‘

Image caption قانون دان ریاض خاور

ریاض خاور کہتے ہیں ’جنوب ایشیائی ممالک میں سبھی قوانین انگریزوں نے بنائے تھے لہذا قانون کو ادھر ادھر کرنے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ میں کہوں گا کہ کچھ معاملات میں جموں کشمیر اسمبلی نے بہتر قانون بنائے تھے۔

’مثلاً مسلمانوں کی وقف جائیداد سے متعلق جو ہمارا قانون تھا اس میں متولی یا مجاور اور رکن پارلیمان کو خانقاہوں کی آمدن کا شریک نہیں بنایا گیا لیکن جو مرکزی وقف ایکٹ اب لاگو ہو گا اس میں متولی اور مجاور اور اراکین پارلیمان بھی عوامی امانت کے حصہ دار ہوں گے۔‘

ان کے مطابق ’ہمارے وقف کے پاس لاکھوں کنال زمین، اربوں روپے مالیت کے شاپنگ مال، سکول اور 50 کلو سونا ہے۔ اس قومی امانت کا نئے قانون کے تحت کیا ہو گا آپ خود اندازہ کیجیے۔‘

حکام نے بتایا ہے کہ ریاست کو یونین ٹیریٹری بنانے اور لداخ و جموں کشمیر کے درمیان انتظامی امور اور اثاثوں کے بٹوارے کا طویل عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

اب اڑیسہ کے گریش چندر مُرمُو جموں کشمیر اور رادھا کرشن لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ہوں گے۔ مُرمُو گجرات کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں اور نریندر مودی کے خاص الخاص سمجھے جاتے ہیں۔ وہ وزارت خزانہ میں اخراجات کے سیکرٹری تھے۔

انتظامی سطح پر ہونے والی وسیع پیمانے کی انقلابی تبدیلیوں کو نافذالعمل کرنا اب مسٹر مُرمُو کے ذمہ ہو گا۔

اِن تبدیلیوں میں 20 لاکھ نوکریاں فراہم کرنا، کشمیر میں دس ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری، 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی، گذشتہ تین ماہ کے دوران سیاحت، کاشت کاری اور تجارت کو پہنچے اربوں روپے کے نقصان کی بھرپائی اور کشمیر میں قیام امن اور سیاست کی بحالی سرفہرست ہیں۔

Image caption سرینگر میں ایک کالج کی طالبہ قرۃ رحمان

سرینگر میں ایک کالج کی طالبہ قرۃ رحمان کہتی ہیں ’ہمیں یہ سب سمجھ ہی نہیں آتا۔ ہم کو صرف یہ سمجھ آیا ہے کہ ہماری اب کوئی حیثیت نہیں۔ تین مہینے سے کالج بند ہے، اچانک امتحانات کا اعلان ہوا ہے، انٹرنیٹ بند ہے اور گھر سے باہر نکلو تو والدین پریشان ہو جاتے ہیں۔ زندگی کی نہ سکیورٹی ہے نہ کوئی فیسِلٹی۔‘

مقامی افسران بات کرنے سے کتراتے ہیں اور جو آمادہ ہوتے ہیں وہ نام مخفی رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔

ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ’دہائیوں سے یہاں ایک انتظامی ڈھانچہ ہم لوگوں نے تشکیل دیا تھا۔ سب اوپر نیچے کر دیا گیا۔ تنخواہوں میں اضافہ، بونس وغیرہ اس زخم کا مرحم نہیں ہو سکتا جو ہمیں کشمیری ہونے کی وجہ سے دیا گیا۔ ہمارا کلچر اب محفوظ نہیں اور ہمارے وسائل کو اغیار لوٹ لیں گے۔‘

Image caption براڈ کاسٹر اور کالم نویس جلیل راٹھور

معروف براڈ کاسٹر اور کالم نویس جلیل راٹھور کہتے ہیں کہ کشمیر کی نیم خود مختاری کے خاتمے سے پہلے ہی کشمیر میں لوگوں کی بڑی تعداد نفسیاتی تناؤ کا شکار تھی۔

’اب تو اس میں اضافہ ہو گا۔ سیاست جیسی بھی ہو سماجی استحکام کی ایک ایجنسی ہوتی ہے۔ کشمیریوں کو بے اختیار اور بے سیاست کر کے آپ ان سے جشن منانے کی توقع نہیں کر سکتے۔ انفرادی کہانیاں دکھ اور درد سے بھری ہیں لیکن اب ہم اجتماعی ڈپریشن کا شکار ہیں۔‘

نئی سیاست

انڈیا کے شعلہ بیان وزیر داخلہ امت شاہ بار بار کہتے ہیں کہ کشمیر کو نئے چہروں والی نئی سیاست کی ضرورت ہے تاکہ دو خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہو۔

ان کا اشارہ عبد اللہ اور مفتی خاندانوں کی طرف ہے۔ تین سابق وزرائے اعلیٰ سمیت 200 سے زیادہ سیاسی رہنماؤں اور ان کے کارکنوں کو قید کرنے اور علیحدگی پسند جماعتوں کو کالعدم قرار دے کر ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کو جیل میں رکھنے کے بعد سیاست گویا حاشیے پر ہے۔

ایسے میں یہ بھی باتیں ہو رہی ہیں کہ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کا زمانہ ختم ہو گیا۔

Image caption پی ڈی پی ترجمان محمد طاہر سعید

تاہم پی ڈی پی کے ترجمان محمد طاہر سعید کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتیں۔ ’اندرا گاندھی نے بی جے پی کے سبھی لیڈروں کو جیل میں ڈال دیا تھا، آج وہی لیڈر انڈیا پر حکومت کر رہے ہیں۔ یہ وقتی دباؤ ہے اور ہم اسے جھیل لیں گے لیکن یاد رکھیں ہمارا ایجنڈا دلی والے طے نہیں کریں گے، ہم وہی بات کریں گے جو عوام کی بات ہو، پھر وہ بات کسی کو اچھی لگے یا بری۔‘

طاہر کہتے ہیں ’غیر معروف اور موقع پرست حوصلہ مندوں کو سیاسی خلا پر کرنے کا کام سونپ کر دلی والے ایک اور تجربہ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں اعتراض نہیں، کر لیجیے تجربہ۔‘

سب ختم نہیں ہوا

جموں کشمیر ہائی کورٹ سے ریٹائر ہو کر جسٹس حسنین مسعودی گذشتہ برس نیشنل کانفرنس میں شامل ہو گئے۔ اس سال وہ جنوبی کشمیر سے پارلیمان کے لیے منتخب ہوئے۔

Image caption جسٹس حسنین مسعودی

جسٹس مسعودی کہتے ہیں کہ نئی دلی جلد بازی سے کام لے رہی ہے۔

’370 کو ختم کرنے کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نصف درجن سے زیادہ درخواستیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے درخواستوں کو معقول پا کر ان پر سماعت کے لیے آئینی بینچ قائم کر کے دو ہفتے بعد سماعت کا اعلان کیا ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتطار کرتی۔ ایک تاریخی فراڈ ہوا ہے آئین کے ساتھ، کم از کم دیکھ لیا جاتا کہ عدالت کیا فیصلہ دے گی۔‘

جسٹس مسعودی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں نئے فیصلے کو چیلنج کرنے والے صرف کشمیری مسلمان نہیں ہیں۔

’ہر فرقے کے لوگ ہیں جنھیں یہ منظور نہیں۔ مجھے عدلیہ پر یقین ہے اور میں سمجھتا ہوں سب کچھ ابھی ختم نہیں ہوا ہے البتہ مودی اور امت شاہ کہتے ہیں کہ 370 ہٹانے سے سرینگر اور دلی کی دوریاں ختم ہوئی ہیں، میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ دوریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔‘

آئندہ خطرات

مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو اُلٹ پلٹ کر مودی حکومت نے مسئلہ حل نہیں کیا بلکہ کشمیر کو مزید بین الاقوامی فوکس میں لایا ہے۔

Image caption صحافی اور تجزیہ نگار پیرزادہ عاشق

صحافی اور تجزیہ نگار پیر زادہ عاشق کہتے ہیں ’انڈیا اور پاکستان جوہری طاقتیں ہیں۔ معمولی بات پر اختلاف ہو جائے تو امریکہ سے یورپ تک جوہری جنگ کی تشویش ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے لیکن دلی میں کوئی اس پر کان نہیں دھرتا۔‘

لیکن اگر فیصلہ اس قدر دُور رس نتائج کا حامل ہے تو کشمیریوں نے ردعمل کیوں نہیں ظاہر کیا۔

پیرزادہ عاشق کہتے ہیں ’اول تو یہ کہ کشمیر کی پیشگی ناکہ بندی کی گئی۔ دوسری بات یہ کہ آج تک جب بھی کشمیریوں نے احتجاج کیا ردعمل میں حکومت نے زیادتیاں کیں۔ اس بار حکومت نے پہل کی ہے، بہت بڑا فیصلہ کر ڈالا۔ کچھ زخم رِستے ہیں مگر بہت دیر تک دکھتے نہیں۔ کشمیر میں بھی یہی ہوا لیکن اگر جمہوری اداروں کی تذلیل کی جاتی رہی تو کشمیر میں کچھ ایسا ہو گا جس پر کل نہ پاکستان کا کنٹرول ہو گا نہ انڈیا کا۔‘

اسی بارے میں