کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ: یورپی ممبران پارلیمان کو کشمیر لانے والی مدھو شرما کون ہیں؟

مادی شرما تصویر کے کاپی رائٹ MADISHARMA.ORG
Image caption یورپی اراکین پارلیمان کے دورہ کشمیر کے پسِ منظر میں ایک انتہائی اہم نام میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے

یورپی پارلیمان کے 28 اراکین پر مشتمل ایک وفد نے حال ہی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کیا ہے جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

تاہم اس دورے کے پسِ منظر میں ایک انتہائی اہم نام انڈین میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔

یہ نام ہے مدھو شرما، جنھیں ماڈی شرما کے نام سے بھی جانا ہے، کا جو کہ اُس غیر سرکاری تنظیم، ویمن اکنامکس اینڈ سوشل تھنک ٹینک‘ کی سربراہ ہیں جس نے یورپی اراکین پارلیمان کے اس دورے کا اہتمام کیا تھا۔

انڈین نژاد برطانوی خاتون ماڈی شرما کا دعویٰ ہے کہ گزر اوقات کے لیے وہ کبھی سموسے بنا کر فروخت کیا کرتی تھیں تاہم اب وہ ایک ایسے غیر سرکاری ادارے کی سربراہ ہیں جو جنوبی افریقہ، یورپی ممالک اور انڈین حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں یورپی وفد: مودی سرکار کا مقصد ہے کیا؟

یورپی ممبران پارلیمان کا دورہ کشمیر تنازعے کا شکار

کشمیر: امریکی سیاستدانوں اور میڈیا کی بڑھتی تشویش

ماڈی شرما نے یورپی پارلیمان کے اراکین کو کشمیر کے دورے کے لیے دعوت نامہ لکھا تھا۔ اس دورے کے دوران وفد کے اراکین کی ملاقات انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی کروائی گئی۔

28 اکتوبر کو ان اراکین نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی جس کی تصاویر منظرِ عام پر آچکی ہیں۔

برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن کرِس ڈیوس کو بھی اس دورے کا دعوت نامہ موصول ہوا تھا لیکن ان کے مطابق جب انھوں نے کشمیر میں عوام سے آزادانہ طور پر بات کرنے کی اجازت کی خواہش کا اظہار کیا تو انڈین حکومت کی جانب سے یہ دعوت نامہ واپس لے لیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption ماڈی شرما نے یورپی پارلیمان کے اراکین کو کشمیر کے دورے کے لیے دعوت نامہ لکھا تھا

کرس ڈیوس نے بی بی سی کو وہ ای میل بھیجی ہے جو ماڈی شرما نے انھیں اس دورے کی دعوت دینے کی غرض سے لکھی تھی۔

اسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان اراکین کے دورے کا تمام تر اخراجات انڈیا کے غیر سرکاری ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف نان الائنڈ سٹڈيز نے اٹھائے ہیں۔ یورپی پارلیمان کے اراکین کا یہ غیر سرکاری دورہ تھا۔

ماڈی شرما کون ہیں اور کیا کرتی ہیں؟

ماڈی شرما کا اصل نام مدھو شرما ہے۔ وہ انڈین نژاد برطانوی شہری ہیں۔ ماڈی شرما یورپی یونین کی اقتصادی اور سماجی کمیٹی یعنی ای ای ایس سی کی ممبر بھی ہیں۔

ای ای ایس سی یورپی یونین کا صلاح کار ادارہ ہے جس کے ممبران سماجی اور اقتصادی شعبے کے افراد ہوتے ہیں۔

ماڈی شرما نے ای ای ایس سی کو اپنے تعارف سے متعلق جو حلف نامہ جمع کروایا تھا اس میں انھوں نے خود کو ماڈی گروپ کی سربراہ، بین الاقوامی سپیکر، مصنف، صلاح کار، بزنس بروکر، ٹرینر اور ماہر بتایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یورپی اراکین پارلیمان کا دورہ کشمیر

اپنے ایک پرانے خطاب میں ماڈی شرما نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ 'میرے پاس کوئی تعلیم نہیں، کوئی صلاحیت نہیں اور کوئی تربیت نہیں تھی۔ میں ایک سنگل مدر تھی، مجھے گھریلو تشدد کا سامنا تھا۔ میرے اندر اعتماد نہیں تھا۔ میں صرف اپنا ہی کوئی کام کر سکتی تھی۔ میں نے اپنے کچن سے کاروبار شروع کیا۔ میں نے گھر میں سموسے بنا کر فروخت کیے اور منافع کمایا۔ آگلے چل کر میں نے دو فیکٹریاں لگائیں اور ان لوگوں کو روزگار دیا جن کے پاس کوئی روزگار نہیں تھا۔‘

یورپی یونین کے دستاویزات کے مطابق ماڈی نے اپنی غیر سرکاری تنظیم سنہ 2013 میں بنائی تھی۔

ماڈی شرما اس کی بانی ڈائریکٹر ہیں اور دستاویزات کے مطابق اس تنظیم میں مستقل حیثیت میں صرف ایک ملازم ہے جبکہ دو جز وقتی ملازمین ہیں۔ یعنی صرف تین لوگ اس تھنک ٹینک کو چلا رہے ہیں۔

کاغذات میں یہ ادارہ دنیا بھر میں خواتین اور بچوں کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کی ویب سائٹ پر زمینی سطح پر کیے جانے والے کام کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

اس ادارے سے منسلک لوگوں کے بارے میں ادارے کی ویب سائٹ پر کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ دنیا کے 14 ممالک میں اس کے نمائندے موجود ہیں۔

یورپی یونین کے ٹرانسپیرینسی رجسٹر سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس ادارہ کا سالانہ بجٹ تقریباً 19 لاکھ انڈین روپے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WESTT.EU
Image caption یورپی یونین کے دستاویزات کے مطابق ماڈی نے اپنی غیر سرکاری تنظیم سنہ 2013 میں بنائی تھی

اس وفد کے دورے کے اخراجات برداشت کرنے والا ادارہ آئی این این ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کی شروعات سنہ 1980 میں ہوئی تھی۔ اس ادارے کی ویب سائٹ پر اس کے ڈائریکٹرز یا اس کے ممبران کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اس ادارے کے بانی صحافی نارائن شری واستو تھے۔

بی بی سی نے اس ادارے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ادارے کے دفتر کئی بار فون کیا لیکن کوئی بھی بات کرنے کے لیے موجود نہیں تھا۔ جس شخص نے فون اٹھایا اس نے یہ تو بتایا کہ یہ ہی ادارے کا دفتر ہے لیکن اس میں کون کون کام کرتا ہے اور کتنے لوگ کام کرتے ہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

گذشتہ برس مالدیپ کے انتخابات کے دوران یورپی یونین کے ارکانِ پارلیمان کا ایک وفد وہاں کے دورہ پر گیا تھا جس میں ماڈی شرما بھی شامل تھیں۔ ماڈی شرما کے گروپ نے یورپی یونین کی ماہانہ میگزین ای پی ٹو ڈے میں اس دورہ سے متعلق ایک آرٹیکل بھی شائع کیا تھا جس میں مالدیپ کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ IINS.ORG
Image caption اس وفد کے دورے کے اخراجات برداشت کرنے والا ادارہ آئی این این ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کی شروعات سنہ 1980 میں ہوئی تھی

اس میں لکھا تھا کہ ایک ملک جس کو بیشتر یورپی شہری ایک جنت طرح سمجھتے ہیں اس پر ایک 'آمر کا قبضہ ہے۔'

مالدیپ کی حکومت نے سرکاری طور پر اس آرٹیکل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس وفد کے اس دورے پر تنازعہ کھڑا ہونے کے بعد یورپی یونین نے وضاحت پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ سرکاری دورہ نہیں تھا اور یہ دورہ ارکانِ پارلیمان نے اپنی نجی حیثیت میں کیا تھا۔

جو ارکان پارلیمان مالدیپ جانے والے وفد کا حصہ تھے ان میں سے دو کشمیر بھی گئے تھے۔

ماڈی شرما اور ان کے کام کے بارے میں مزید اطلاعات کے لیے ہم نے ان سے متعدد بار رابطہ کرنے کے بہت کوشش کی لیکن ہمیں کوئی جواب مل سکا۔

اسی بارے میں