پاکستان نے انڈیا کے نئے نقشے مسترد کر دیے: ’انڈیا کا کوئی بھی قدم جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا‘

نقشہ ہندوستان تصویر کے کاپی رائٹ PIB

پاکستان نے انڈیا کی جانب سے جاری کردہ نئے نقشوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ یہ سیاسی نقشے اقوام متحدہ کے نقشوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے گذشتہ روز جاری کیے گئے سیاسی نقشے جن میں جموں و کشمیر کا خطہ، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقوں کو انڈیا کے علاقائی دائرہ اختیار میں دکھانے کی کوشش کی گئی، غلط اور کسی قانونی حیثیت کے بغیر ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی نقشے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی ہیں اور انڈیا کا کوئی بھی قدم اقوامِ متحدہ کی جانب سے تسلیم کردہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ انڈین حکومت کی ایسی کارروائیوں سے کشمیریوں کا حق خودارادی متاثر نہیں ہو سکتا ’پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتا رہے گا۔‘

یاد رہے انڈین حکومت نے جموں و کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کے بعد گزشتہ روز نیا نقشہ جاری کیا تھا۔ اس نقشے کو سروے جنرل آف انڈیا نے تیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟

شق 370 کا خاتمہ: لداخ کے معاملے پر چین ناراض

’پاکستان 370 کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا تھا‘

ایک بیان میں انڈین وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ مرکزی علاقے لداخ میں دو اضلاع کارگل اور لیہ شامل ہوں گے۔ اور باقی 26 اضلاع جموں و کشمیر میں شامل ہوں گے۔

اس نقشے کے مطابق ہندوستان میں اب 28 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام نو علاقے شامل ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کی حد بندی، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں کی گئی ہے۔

پانچ اگست کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کا فیصلہ پارلیمان میں اکثریت سے کیا گیا تھا اور صدر نے آئین کی ان شقوں کو منسوخ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیے تنظیم نو ایکٹ کی منظوری دی تھی۔

سنہ 1947 میں جموں و کشمیر کے 14 اضلاع کٹھوعہ، جموں، ادھم پور، رئیسی، اننت ناگ، بارہمولہ، پونچھ، میرپور، مظفرآباد، لیہ اور لداخ، گلگت، گلگت وزرات، چلہ اور قبائلی علاقہ جات تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DANDU KEERTHI REDDY

سنہ 2019 میں انڈین حکومت نے جموں وکشمیر کی تنظیم نو کرتے ہوئے 14 اضلاع کو 28 اضلاع میں تبدیل کیا۔

نئے اضلاع کے نام کپواڑہ، بانڈی پور، گاندربل، سری نگر، بڈگام، پلوامہ، شوپیان، کولگام، راجوری، ڈوڈا، کشتوار، سمبا، لیہ اور لداخ ہیں۔

اس نئے نقشہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خوب بحث جاری ہے اور مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں۔

فیس بک صارف ڈانڈو کیرتی ریڈی نے لکھا: 'کیا پاکستان اور چین نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اکساۓ چین، ہندوستان کو تحفتاً واپس کردیا ہے؟ یہ کب ہوا؟'

کسی نے انھیں جواب دیا کہ کیا وہ آپ کو جواب دیں گے۔ تو اس کے جواب میں کیرتی نے لکھا: 'انھیں دینا چاہیے۔ اگر وہ نہیں دیتے تو یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہوگا کہ ہمیں غلط معلومات کے ذریعے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔۔۔'

ردا کہتی ہیں ’انڈیا کے نئے نقشے کیا بدلیں گے؟ عالمی تنظیموں اور کتابوں میں کشمیر متنازعہ علاقہ تھا اور ہے۔‘

انڈیا میں ٹی وی کے صحافی دیبانگ نے اسے انڈیا کا سیاسی نقشہ کہتے ہوئے ٹویٹ کیا جس پر بہت سے لوگ اپنی رائے دے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں