اسرائیل کے جاسوسی کے سافٹ وئیر سے پرینکا گاندھی کا فون بھی ہیک ہوا تھا

پرینکا گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرینکا گاندھی نے گزشتہ عام انتخابات میں اترپردیش میں کانگریس پارٹی کی جنرل سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا

انڈیا میں حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ انتخابات کے دوران پارٹی کی اہم لیڈر پرینکا گاندھی کا بھی واٹس ایپ ہیک ہوا تھا۔

کانگریس پارٹی کی جانب سے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا گیا ہے کہ جس وقت واٹس ایپ نے ہیک کیے جانے والے فونوں پر پیغامات بھیجے تھے اس وقت اترپریش میں کانگریس پارٹی کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کو بھی واٹس ایپ نے ایسا ہی پیغام بھیجا تھا۔

حال ہی میں فیس بک کی کمپنی واٹس ایپ نے بتایا تھا کہ اسرائیل میں بنے جاسوسی کرنے والے ایک سافٹ وئر سے دنیا بھر میں جن 1400 شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا ان میں بھارتی صحافی، سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکنان بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

’مسئلہ واٹس ایپ کا نہیں، سوچ کا ہے‘

انڈین الیکشن: واٹس ایپ ’جعلی خبروں کا بلیک ہول'

واٹس ایپ پر میسجز فارورڈ کرنے کی حد میں کمی

واٹس ایپ نے کہا کہ اس نے ان افراد کے پاس پیغامات بھیجے تھے جن کے فون ’پیگاسس‘ نام کے جاسوسی سافٹ وئیر سے ہیک ہونے کا خدشہ ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے بتایا کہ واٹس ایپ نے اس طرح کا ایک پیغام پرینکا گاندھی کو بھی بھیجا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے بھی دعوی کیا تھا کہ ان کا فون بھی ہیک کیا گیا تھا۔

واٹس ایپ کے مطابق اس برس عام انتخابات کے دوران اپریل میں دو ہفتے تک انڈیا کی بعض سرکردہ شخصیات کے فون ہیک کیے گئے تھے۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پرینکا گاندھی نے اس وقت اس پیغام کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اور بے معنی سمجھ کر ڈیلیٹ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ انھوں نے واٹس ایپ کے اس پیغام کو ڈیلیٹ کردیا تھا

پریس کانفرنس کے دوران سرجیوالا نے حکومت پر براہ راست اس جاسوسی میں شامل ہونے کا الزام عائد کیا۔

انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کو اس معاملے کی تفتیش کرانی چاہیے اور اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

کانگریس پارٹی کا الزام ہے کہ سپریم کورٹ کے وکلا ہوں یا ریاستی حکومتیں سب کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ پیگاسس سافٹ وئیر سے کون کون سے انٹرنٹ اور براڈ بینڈ نیٹ ورکس تباہ کیے گئے ہیں۔

بھارت میں واٹس ایپ کے 40 کروڑ صارفین ہیں لہذا بھارت اس کمپنی کے لیے سب سے بڑا بازار ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی جاسوس سافٹ وئیر پیگاسس کے ذریعے بھارتی شخصیات کی جاسوسی کرنے کے معاملے میں انڈین حکومت نے واٹس ایپ سے وضاحت مانگی تھی۔

واٹس ایپ کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ گزشتہ عام انتخابات کے دوران بھارت کی بعض اہم شخصیات کے فون ہیک کیے گئے تھے حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت سے سوال پوچھنے شروع کر دیے ہیں کہ یہ سب حکومت کی مرضی کے بغیر کیسے ہوا؟

اسی بارے میں