دہلی میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک بار پھر گاڑیوں کے لیے آڈ-ایون فارمولہ نافذ

A sign reading "Keep Delhi clean" with a thick smog in the background تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے وزیرِاعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ شمالی انڈیا میں فضائی آلودگی 'ناقابلِ برداشت‘ حد تک پہنچ گئی ہے۔

دہلی میں پیر سے ایک نئی عارضی سکیم شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت کسی بھی دن صرف طاق یا جفت اعداد کی حامل نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کی اجازت ہوگی۔ یہ سکیم پہلے بھی نافذ کی گئی تھی لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا لیکن دہلی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے تھوڑی راحت ضرور ہوگی اور کوئی بھی راحت اس وقت دہلی کے لیے ضروری ہے۔

ایک دن طاق اور دوسرے دن جفت نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے ضابطے کا اطلاق صبح آٹھ بجے سے شام آٹھ بجے تک ہوگا۔

اتوار کے روز دلی کے کئی علاقوں میں فضا کی کوالٹی اس قدر خراب ہو گئی تھی کہ اسے ’انتہائی خطرناک‘ کی کیٹگری میں ڈال دیا گیا تھا جس میں سانس کے مسائل پیدا کرنے کا امکان ہوتا ہے۔

دلی کی فضا میں پھیپھڑوں میں داخل ہو جانے والے ٹھوس، خوردبینی ذرات (جنھیں پی ایم 2.5 بھی کہا جاتا ہے) شہر میں 533 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کے حساب سے موجود ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پی ایم 2.5 کی سطح 24 گھنٹوں میں اوسطاً 25 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے

جہاں فضائی آلودگی وہاں جرائم زیادہ

سے نو ٹو سموگ!

دہلی ’گیس چیمبر‘ بن چکا ہے، لاکھوں ماسک تقسیم

بدترین سموگ میں ’لاہور والے زندہ کیسے رہتے ہیں؟‘

حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور منگل یعنی پانچ نومبر تک کے لیے تمام سکول کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شہر کے سکولوں میں شدید فضائی آلودگی کے نتیجے میں 50 لاکھ ماسک تقسیم کیے گئے ہیں۔

اروند کیجریوال نے وفاقی حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ریلیف فراہم کریں اور آلودگی کے مسئلے سے نمٹیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دہلی سے تیس سے زیادہ پروازوں کو دیگر شہروں کی طرف بھیج دیا گیا ہے اور تعمیراتی کام روک دیا گیا ہے۔

دلی کے وزیرِ صحت نے شہریوں کو گھر سے باہر زیادہ جسمانی کام کرنے سے اجتناب کی ہدایت کی ہے، خصوصاً علی الصباح اور شام کے وقت۔

سموگ کتنا نقصان دہ ہے؟

شہر کی فضا میں موجود خطرناک ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقرر کردہ معیار سے کہیں زیادہ ہے اور چین کے دارالحکومت بیجنگ کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے۔

وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق شہر میں آلودگی کو مانیٹر کرنے والے آلات میں اپنے ہندسے نہیں ہیں کہ وہ آلودگی کی اصل مقدار ریکارڈ کر سکیں۔

اروِند کیجریوال کے مطابق شہر 'گیس چیمبر' میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق امراضِ دل، سٹروک، اور پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک تہائی فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

لاہور بھی سموگ کی لپیٹ میں

فضائی آلودگی کا مسئلہ دلی کے ساتھ ساتھ بارڈ پار پاکستان کے بڑے شہر لاہور میں بھی انتہائی شدید ہوتا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ کے آخر میں عالمی ماحولیاتی ادارے آئی کیو ائیر کی فضائی کوالٹی کی درجہ بندی کے مطابق لاہور کی فضا آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں بدترین تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آئی کیو ایئر کی فضائی کوالٹی کی درجہ بندی کے مطابق لاہور کی اے کیو آئی 389 تھی۔ اے کیو آئی فضا میں مختلف گیسوں اور پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات) کے تناسب کو جانچ کر بنائی جاتی ہے۔ ایک خاص حد سے تجاوز کرنے پر یہ گیسیں ہوا کو آلودہ کر دیتی ہیں۔

عام طور پر سموگ کے باعث آنکھوں ناک اور گلے میں جلن کی شکایت کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے بھی انتہائی مضر سمجھی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں ماحول کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے والی تنظیم کلائمیٹ ایکشن ناؤ نے اس موقعے پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’لاہور میں اس وقت پی ایم 2.5 عام سطح سے دس گنا زیادہ ہے۔

ساتھ ہی انھوں نے تین نکاتی انتباہ لکھتے ہوئے کہا کہ ’باہر کم سے کم نکلیں، دروازے اور کھڑکیاں ضرورت کے وقت کھولیں اور حفاظتی انتظامات یعنی باہر نکلتے وقت ماسک، چشمے اور ہیلمٹ کا استعمال کریں۔‘

اس حوالے سے ٹوئٹر صارفین بھی لاہور کے اس ’پانچویں موسم‘ کے بارے میں پریشان ہیں اور کل سے لاہور ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اسی بارے میں