دہلی میں وکیلوں سے جھڑپ کے بعد پولیس سراپا احتجاج

پولیس کا احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ ANI

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں سنیچر کو تیس ہزاری عدالت کے احاطے میں پولیس اور وکیلوں کے درمیان ہونے والے پرتشدد واقعے نے طول پکڑ لیا ہے۔

منگل کی صبح پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے دہلی پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کیا۔

پولیس اہلکار ہاتھوں میں سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے تھے اور وکیلوں کے خلاف تعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین کو پرامن رہنے اور مطمئن کرنے کے لیے پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک نے ان سے خطاب بھی کیا۔

تاہم احتجاج کرتے پولیس اہلکار ان کی باتوں سے مطمئن نہیں ہوئے اور انھوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

احتجاج اور نعرے بازی کے درمیان دہلی پولیس کمشنر نے کہا کہ 'یہ ہمارے لیے امتحان کی گھڑی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

کولکاتہ کے بعد دلی کے سرکاری ڈاکٹروں کی ہڑتال

دلی کی ’چورنیاں‘

پٹنائک نے کہا: 'دارالحکومت میں گذشتہ چند روز کے دوران کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جنھیں ہم نے بہت اچھی طرح سے ہینڈل کیا ہے۔ صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال ہمارے لیے ایک امتحان کی طرح ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو جو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ قانون کو سنبھالیں اور قانون کے رکھوالے کی طرح برتاؤ کریں، اسے ذہن نشین کر کے حالات کو اچھی طرح سے نمٹنا ہوگا۔

’ہم سے یہی توقع کی جاتی ہے۔ عوام اور حکومت کی جانب سے ہم سے امید رکھی جاتی ہے۔ ہم نے جس طرح ڈسپلین کے ساتھ اب تک قانون کا پاس رکھا اسے آئندہ بھی قائم رکھنا ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ANI

پٹنائک نے بتایا کہ ہائی کورٹ اس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا: 'یہ ہمارے لیے انتظار کی گھڑی بھی ہے کیونکہ ہائی کورٹ کے ذریعے تحقیقات جاری ہیں، ہمیں ایماندارانہ تحقیقات کی توقع کرنی چاہیے۔'

انھوں نے پولیس والوں سے امن برقرار رکھنے اور ڈیوٹی پر واپس آنے کی بھی اپیل کی۔

پولیس اور وکلا کے مابین تصادم کیسے شروع ہوا؟

سنیچر کے روز یعنی دو نومبر کو پارکنگ کے معاملے پر وکیلوں اور پولیس کے مابین تنازعے کے بعد تیس ہزاری کورٹ میں تصادم ہوا۔

دہلی (شمالی) کے ایڈیشنل ڈی سی پی ہریندر سنگھ نے اس جھڑپ کے بارے میں بتایا: 'تیسری بٹالین کے جوان اور کچھ وکلا کے مابین پارکنگ کے لیے جھگڑا ہوا تھا۔ اسی دوران کچھ اور وکیل بھی وہاں آ گئے۔ وہ انتقام کے لیے لاک اپ کے اندر آنا چاہتے تھے۔ ہم نے وکیلوں کو اندر آنے سے روکا۔‘

ان کے مطابق پولیس نے لاک اپ کو اندر سے بند رکھا، جس سے ان جوانوں کے ساتھ ساتھ عدالت میں پیش ہونے والے قیدیوں کو بھی بچا لیا گیا۔

’وکیل اس لاک اپ کو توڑنا چاہتے تھے لیکن جب وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو انھوں نے آگ لگا کر اسے توڑنے کی کوشش کی۔ انھوں نے گیٹ کے پاس کھڑی دو تین موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ANI

میڈیا میں آنے والے فوٹیج میں کچھ گاڑیوں کو بھی جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

وکیلوں کو پولیس کے بیان سے اتفاق نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس جھڑپ میں ان کا ایک ساتھی زخمی ہوا ہے جسے قریبی سینٹ سٹیفن ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین منن کمار مشرا نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا: 'پولیس نے پارکنگ کے تنازعے پر وکیلوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ پولیس نے معصوم وکیلوں پر فائرنگ شروع کردی۔ بار کونسل اس کو قطعی برداشت نہیں کرے گا۔ ہم نے اعلیٰ پولیس افسران اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے معطل کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو حالات اور زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔'

دوسری جانب خبر رساں ایجنسی اے این آئی کا کہنا ہے کہ ان کے ایک صحافی کو بھی تیس ہزاری کورٹ کے وکیلوں نے مارا پیٹا۔

اے این آئی کے مطابق سنیچر کے روز وکیلوں کا ایک گروپ صحافیوں کو ان واقعے کی کوریج سے روک رہا تھا اور ان کے موبائل فون بھی چھینے جا رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں