ایران کے صدر حسن روحانی کا سعودی عرب اور بحرین کے حکمرانوں کو خط

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کے سرکاری ترجمان علی ربیعی سخنگوی نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کے فرماروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ بن خلیفہ کو خط ارسال کیے ہیں۔

ایران کی حکومت کے ترجمان علی ربیعی سخنگوی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران خطے میں ہمشیہ امن اور اسحتکام کے لیے کوشاں رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے سعودی عرب اور بحرین کی حکومتوں کو خط بھی ایران کی ان ہی کوششوں کا حصہ ہیں۔

ایران کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ خطے کے ملکوں کے ساتھ باہمی سطح پر ایران کے معاشی روابط ہیں اور ’امریکی دباؤ اور پابندیوں کو ہمسایہ ملکوں میں دوریوں کا باعث نہیں بننے دینا چاہیے‘۔

ایران پر امریکی اقتصادی پابندیوں کا ایک سال مکمل ہونے پر ایران کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے تیل کی درآمد اور ملکی آمدن میں کمی کا اگر کسی دوسرے ملک کو سامنا ہوتا تو وہ ایران سے بدتر حالت میں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی پابندیاں

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

متعدد ایئر لائنز کا ایرانی فضائی حدود سے گریز

امریکہ کے ایران پر حملے کا پاکستان کے لیے کیا مطلب ہو گا؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

گزشتہ سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ کثیرالملکی بین الاقوامی جوہری معاہدہ ختم کر کے اس کے خلاف سخت ترین اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں جن سے ایران کی تیل کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔

امریکہ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے ایران کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ ’ایسی پابندیوں کی تاریخ میں کوئی اور مثال نہیں ملتی اور یہ ایران کو زیردست کرنے کی نئی کوشش ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کا مقصد ایران کے شہریوں کی روزمرہ زندگی اور ان کی اجتماعی نفسیات کو نشانہ بنانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’واشنگٹن کے حالیہ اقدامات جن میں بیرونی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہ کرنا شامل ہیں، اس کی پرانی پالیسی کا تسلسل ہے جو آج تک جاری ہے‘۔

شام سے امریکی فوج کے اچانک انخلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو جب تک ضرورت تھی انھوں نے کردوں کا ساتھ دیا اور جب ان کا مقصد پورا ہو گیا تو وہ کردوں کو تنہا چھوڑ کر نکل گیا‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں