کرتارپور راہداری: پاکستان کے خیرمقدمی نغمے پر انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کی تنبیہ

انڈیا کی ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرتارپور راہداری کے ذریعے گرودوارہ دربار صاحب کے زیارت کے لیے آنے والے سکھوں کے خیرمقدم کے لیے پاکستانی حکومت کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو کو انڈیا میں تنقید کا سامنا ہے۔

اس ویڈیو میں انڈین پنجاب میں سکھوں کی خالصتان علیحدگی پسند تحریک کے چند ایسے رہنماؤں کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جو سنہ 1984 میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں انڈین فوج کے ’آپریشن بلیو سٹار‘ میں مارے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں گرو نانک اور ان کے بیٹے کے پیروکار کون ہیں؟

’سکھوں کے لیے پاسپورٹ، فیس کی شرط معاف‘

’تمام مذاہب کے انڈین کرتار پور کے راستے سفر کر سکتے ہیں‘

انڈیا کے اخبار انڈین ایکپسریس کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان کے 'خفیہ ایجنڈے' سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ 'ایک طرف وہ ہمیں پیار دکھا رہے ہیں اور دوسری طرف گڑبڑ کر رہے ہیں۔ ہمیں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔'

پاکستان میں کرتارپور راہداری کا افتتاح دس نومبر کو ہو رہا ہے اور ٹوئٹر پر حکومتِ پاکستان کے سرکاری اکاؤنٹ سے اس سلسلے میں چار نومبر کو ایک نغمہ جاری کیا گیا جسے افتتاحی تقریب کا ’سرکاری نغمہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

چار منٹ طویل اس نغمے میں 37ویں سیکنڈ پر ایک پوسٹر دکھائی دیتا ہے جس پر خالصتانی رہنماؤں جرنیل سنگھ بھنڈراں والا، میجر جنرل صاحب سنگھ اور امریک سنگھ خالصہ کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔

ویڈیو میں نظر آنے والے پوسٹر میں 'ریفرنڈم 2020' بھی لکھا گیا ہے۔ خیال رہے کہ خالصتان کا مطالبہ کرنے والے استصوابِ رائے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خالصتان کی حمایت کرنے والے یہ رہنما کون تھے؟

جرنیل سنگھ بھنڈراں والا

علیحدگی پسند رہنما بھنڈراں والا امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں ’آپریشن بلیو سٹار‘ میں مارے گئے تھے۔

انڈیا میں بھنڈراں والا کو شدت پسند رہنما کہا جاتا ہے جو دمدمی ٹکسال کے رہنما تھے۔

وہ سنہ 1978 میں سکھ نرنکاری تصادم سے منظر عام پر آئے تھے۔

انھیں پنجاب میں سکھوں کے احیا اور شدت پسندی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مارے جانے سے قبل گرفتاری سے بچنے کے لیے انھوں نے اکال تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔

میجر جنرل صاحب سنگھ

میجر جنرل صاحب سنگھ انڈیا کی فوج میں تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے خالصتانی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔

وہ جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کے دمدمی ٹکسال میں شامل ہوئے اور ان کے فوجی مشیر بھی بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @PID_GOV

صاحب سنگھ نے آپریشن بلو سٹار کے دوران سکھ جنگجوؤں کو گولڈن ٹمپل کے حصار کو برقرار رکھنے کے لیے منظم کیا تھا۔

اپنی ملازمت کے دوران انھوں نے پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کی لڑائی میں بنگلہ دیش کی ملیشیا مکتی باہنی کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

امریک سنگھ

اس پوسٹر میں علیحدگی پسند رہنما امریک سنگھ بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما تھے۔ وہ گیانی کرتار سنگھ بھنڈراں والا کے بیٹے تھے اور کرتار سنگھ دمدی ٹکسال کے 13 ویں لیڈر تھے۔

امریک سنگھ خالصہ قدامت پسندی کے حق میں تھے اور وہ گربانی اور سکھ مذہب کی ادبیات کا ادراک رکھتے تھے۔

سنہ 1979 میں انھوں نے شریمونی گوردوارہ پربندھک کمیٹی یا انتظامیہ کے انتخابات میں بھی شرکت کی لیکن وہ جیون سنگھ کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئے۔

عیلحدہ ملک خالصتان کا مطالبہ کرنے والے ان تینوں رہنماؤں کی موت آپریشن بلو سٹار میں چھ جون سنہ 1984 کو ہوئی تھی۔


انڈیا میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گذشتہ کئی گھنٹوں سے 'خالصتانی' ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ٹوئٹر صارف ریٹائرڈ میجر گورو آریا نے لکھا ’اور امرتسر میں سدھو اور عمران کا پوسٹر نظر آ رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کرتارپور راہداری سکھ زائرین کے لیے نہیں بلکہ پنجاب میں خالصتانی دہشت گردی کو پھر سے شروع کرنے کے لیے چاہتا ہے۔ سدھو کی شکل میں اسے صحیح میر جعفر مل گیا ہے۔ اب انڈیا کو ایک دوسرے کے پی ایس گل کی ضرورت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

ایک صارف یاسر محمود نے لکھا کہ 'کیا آپ انڈیا کے سکھوں کو روبوٹ سجھتے ہیں جس میں پاکستان بہ آسانی خالصتانی مالويئر داخل کر دیں گے۔ یہ تشویش انڈیا کے اپنے سکھ باشندوں پر اعتماد کی کمی کی وجہ سے ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں