انڈیا سے اجازت کا انتظار:سدھو پاکستان کس حیثیت میں آئیں گے، سسپنس برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

انڈیا کے سیاستدان اور کانگریس پارٹی کے رکن نوجوت سنگھ سدھو کو 9 نومبر کو پاکستان میں کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے انڈیا کی مرکزی حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔

انڈیا کی ریاست پنجاب میں کیپٹن (ر) امریندر سنگھ کی کابینہ کے سابق رکن نوجوت سنگھ سدھو نے بدھ کو پھر انڈیا کی حکومت سے اجازت طلب کی تھی۔ انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے وزارت خارجہ کو اجازت کے لیے خط لکھا ہے۔

مزید پڑھیے:

سدھو سے ملنے کے لیے 280 کلومیٹر طے کرنے والا بچہ

’کرتارپور راہداری کی تعمیر ایک معجزہ ہے‘

سدھو مشرقی پنجاب میں 'ہیرو،' بقیہ انڈیا میں 'غدار کیوں؟'

ایجنسی کے مطابق سدھو نے خط میں لکھا ہے کہ انہیں پاکستان کی حکومت نے راہداری کے افتتاح کے ’مبارک موقع‘ پر ہونے والی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ یہ راہداری پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کرتارپور کو انڈیا کی ریاست پنجاب کے علاقے ڈیرہ بابا نانک سے جوڑے گی۔

سدھو نے انڈیا کی وزارت خارجہ کو اپنے نئے خط میں لکھا ہے کہ ’جو دعوت نامہ آیا ہے اس کی کاپی میں آپ کو پہلے ہی بھیج چکا ہوں۔ یہ تقریبا بالکل پاک صاف ہے۔ میں 9 نومبر کی صبح ساڑھے نو بجے راہداری کے ذریعے دوسری طرف جاؤں گا۔ میں دوسری طرف جانے کی مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں۔ راہداری کے افتتاح کا وقت 11 بجے رکھا گیا ہے۔ شام کو اسی راہداری کے ذریعے واپس آ جاؤں گا۔‘

اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اگر ممکن ہوا تو وہ 8 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے ایک دن پہلے ہی ڈیرہ بابا نانک جانا چاہیں گے۔

انہوں نے لکھا کہ وہ رات کو ڈیرہ بابا نانک صاحب میں قیام کر کے دوسرے دن راہداری کے ذریعے واپس آ جائیں گے۔

دریں اثناء انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے جمعرات کو دلی میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس موضوع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’کرتارپور راہداری کا افتتاح ایک تاریخی موقع ہے اور اس کے لیے ہم بیس سال سے کوشش کر رہے تھے، اور اتنی بڑی تقریب میں کسی ایک فرد کو توجہ کا مرکز بنانا ٹھیک نہیں ہے، اتنے بڑے موقع پر مختلف افراد کے بارے میں بات کرنا کہ کون جا سکتا ہے اور کون نہیں، مناسب نہیں ہو گا۔‘

ترجمان نے کہا کہ کئی دہائیوں سے لوگوں کا خواب تھا کہ وہ اس گردوارے پر بغیر ویزے کے جا سکیں اور اب لوگوں کا یہ خواب پورا ہونے جا رہا ہے اور اس کا طریقہ کار ایک ویب سائٹ پر واضح کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں