وزیر اعظم مودی پر تنقید: انڈیا نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے آتش تاثیر کی شہریت منسوخ کر دی

آتش تاثیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی مصنف اور کالم نگار آتش تاثیر نے انڈیا کی جانب سے ان کی شہریت منسوخ کرنے کے اقدام کو ’ایک مذموم منصوبے‘ کا حصہ قرار دیا ہے۔

انڈین حکومت نے جمعرات کو آتش تاثیر کی بطور ’بیرون ملک مقیم انڈین‘ شہریت منسوخ کر دی تھی۔ انڈیا کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ آتش نے ’یہ معلومات چھپانے کی کوشش کی کہ ان کے والد پاکستانی تھے۔‘

واضح رہے کہ آتش تاثیر کے والد سلمان تاثیر پاکستان کے صوبے پنجاب کے گورنر بھی رہے۔

انھیں آسیہ بی بی کی حمایت کرنے پر پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے سابق اہلکار ممتاز قادری نے چار جنوری 2011 کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے ایک مقدمے میں پاکستان میں آٹھ سال قید میں رکھا گیا تھا لیکن اکتوبر 2018 میں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے انھیں بری کر دیا تھا۔

چند ماہ قبل آتش تاثیر نے مشہور جریدے ٹائم میگزین کے لیے لکھے ایک مضمون میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کی تھی اور کئی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ان کی شہریت کی منسوخی کے پیچھے ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مودی کی تصویر کے ساتھ لکھی گئی سرخی پر گرما گرم بحث

عدنان سمیع: 'پاسپورٹ بدلنا میرا ذاتی معاملہ ہے'

پاکستانی ہندوؤں کی شہریت پر سیاسی رسہ کشی

آتش تاثیر نے بی بی سی کے سوتک بسواس کو بتایا کہ ان کے پاس سنہ 2000 سے ’پرسن آف انڈین اورجن‘ کے دستاویزات ہیں جو بعد میں ’اووسیز سٹیزنشپ آف انڈیا‘ میں ضم ہو گئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ دو سے دس سال کی عمر تک اور پھر 26 سے 35 برس کی عمر میں انڈیا میں مقیم رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Time

آتش تاثیر کے مطابق ان کے پاس انڈیا کا بائیو میٹرک شناختی نمبر اور بینک اکاؤنٹ ہیں اور وہ وہاں ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’میرے والد کا نام شہریت کی دستاویزات پر موجود ہے۔ میرے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی کاغذات نہیں کہ وہ میرے والد ہیں کیونکہ ہمارا کوئی رابطہ نہیں تھا اور میری والدہ ان کے ساتھ نہیں رہتی تھیں۔‘

آتش تاثیر نے سنہ 2007 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’سٹرینجر ٹو ہسٹری‘ میں اپنے والد کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

آتش تاثیر کی والدہ، تولین سنگھ بھی ایک انڈین کالم نگار ہیں۔ سلمان تاثیر اور تولین سنگھ کی کبھی شادی نہیں ہوئی تھی اور تولین سنگھ ہی آتش تاثیر کی حقیقی سرپرست ہیں۔

’اگر میری معلومات میں کوئی ابہام تھا تو (انڈین حکام) مجھے انڈیا آ کر اور ان کی مدد کرنے کو کہہ سکتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ میرا فعل بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔ اپنے والد کی شناخت چھپانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ ان کا نام دستاویز پر موجود ہے اور میں نے اس بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔‘

دوسری جانب انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آتش تاثیر ان کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ آتش تاثیر نے بنیادی ضروریات پوری نہیں کیں اور معلومات چھپانے کی کوشش کی۔‘

لیکن آتش تاثیر اس بات سے اختلاف کرتے ہیں۔

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے اور قونصل جنرل کے درمیان ای میل کے تبادلے کی ایک تصویر بھی ٹویٹ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ سیاحتی ویزے پر بھی انڈیا کا سفر نہیں کر سکیں گے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ انھوں نے مجھ پر فراڈ کا الزام عائد کیا ہے اور مجھے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ میں ایک عام شہری کی طرح انڈیا نہیں جا سکتا ہوں۔ میری دادی 90 برس کی ہیں اور انڈیا میں رہتی ہیں اور شاید میں انھیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکوں۔‘

انڈین وزارتِ خارجہ کے اس فیصلے پر نہ صرف انڈیا بلکہ بیرون ملک پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں