بابری مسجد، رام مندر تنازع: 'رام کے نام پر بہت سارے لوگوں کی دکانیں چل رہی ہیں'

رام جنم بھومی کے پجاری ستیندر داس

رام جنم بھومی کے پجاری ستیندر داس کے یہاں رام کی ونواس سے واپسی کی خوشی میں جس کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا گیا ہے اس میں بابری مسجد کیس کی پیروی کرنے والے اقبال انصاری بھی شریک ہوئے۔ صرف اتنا ہی نہیں، ستیندر داس نے اقبال انصاری کو 100 روپے کی سلامی بھی دی۔

ساتھ ساتھ بیٹھے ستیندر داس اور اقبال انصاری نے ہندو مسلم یکجہتی کی بات کی۔

ستیندر داس بابری مسجد کو مسجد نہیں 'ڈھانچہ' کہتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ 'اگر وہاں واقعی مسجد تھی تو سنی وقف بورڈ نے 1961 میں پہلی بار عدالت میں اپنا دعویٰ کیوں پیش کیا'۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ 'رام للا گزشتہ 26 برسوں سے ٹاٹ پر بیھٹے ہیں، اب لگتا ہے کہ ایک عالی شان مندر بننے کا وقت آگیا ہے'۔

ستیندر داس اپنی رہائش کی پہلی منزل میں ایک کمرے میں چوکی پر بیٹھے ہیں، ان کے پیچھے تیر کمان والا رام کا ایک بڑا سا پوسٹر دیوار پر لگا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد، رام مندر کیس کا فیصلہ سنیچر کو

بابری مسجد کیس: کب کیا ہوا؟

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

بابری مسجد کی کہانی، تصویروں کی زبانی

Image caption رام جنم بھومی کے پجاری ستیندر داس

پورے تنازعے میں سنت خاندان

سنت خاندان سے تعلق رکھنے والے آچاریہ ستیندر داس بابری مسجد کے انہدام سے چند ماہ پہلے اپنے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ ان کا انتخاب رام جنم بھومی کے سابق پجاری اور آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی سخت گیر تنظیموں کے ناقد لال داس کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ہوا تھا۔

بابری مسجد کے انہدام کے 11 ماہ بعد 1993 میں ان کا قتل کردیا گیا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب رام جنم بھومی معاملے میں مقامی ہندو تنظمیں جیسے نرموہی اکھاڑے کو دھیرے دھیرے پیچھے دھکیل کر ہندو نظریاتی تنظمیوں نے اس پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔

ایودھیا کے مذہبی رہنماؤں کو عدالت میں اپنی فتح صاف نظر آرہی ہے جبکہ یہ فیصلہ ابھی سپریم کورٹ کو سنانا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ یوگی کا نام بار بار آرہا ہے۔

رام جنم بھومی کے نرتیہ گوپال داس کہتے ہیں 'مرکز میں نریندر مودی اور ریاست میں یوگی ادتیہ ناتھ کے دور اقتدار میں ہی یہاں ایک عالی شان مندر بنے گا'۔

رام جنم بھومی نرمان نیاس کے جے شرن کہتے ہیں 'فیصلہ تو رام مند کے حق میں ہی آئے گا'۔

جنم بھومی نرمان تنظیم

رام کے نام پر بنائی گئی ان تنظیموں میں سے کوئی بھی جنم بھومی سے متعلق کسی بھی عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں ہے لیکن نرتیہ گوپال داس حکومت کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد مندر کی تعمیر کی ذمہ داری ان کی تنظیم کو ہی سونپی جائے گی۔

بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سوم ناتھ مندر کی طرز پر اس مندر کی تعمیر کے لیے بھی ممبران کا ایک بورڈ بنایا جائے۔

نرموہی اکھاڑا اور ہندو مہا سبھا جیسی تنظیمیں جنہوں نے نصف صدی سے بھی زیادہ جنم بھومی کی عدالتی لڑائی لڑی ہے، آر ایس ایس کی سیاست کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے حاشیے پر ہیں۔

نرموہی اکھاڑے کے دینیندر داس کہتے ہیں ’نرموہی اکھاڑنے نے اپنے کام کی تشہیر نہیں کی۔ رام کے نام کی تشہیر تو کوئی بھی کرسکتا ہے'۔

حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ سبھی ہندو تنظیمیں مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کریں گے مستقبل کی حکمت عملی کیا ہوگی۔

رام جنم بھومی کے لیے جس فیکٹری میں تعمیراتی ساز و سامان تیار ہوتا رہا ہے وہاں سناٹا ہے۔ قریب کے ایک مندر سے لاؤڈ سپیکر پر بھجن کی آواز آرہی ہے اور سیاحوں کی آمد و رفت بھی جاری ہے۔

ایک گائیڈ سیاحوں کو کارسیوک پورم کے احاطے میں لگی ایک نمائش میں ان ہندو اراکین کی تصاویر دکھا رہا ہیں جو ان کے بقول مندر کی مہم کے دوران ہلاک ہوئے ہیں حالانکہ تاریخ میں اس طرح کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

یہاں بعض ایسے خاکے بھی موجود ہیں جن میں بادشاہ بابر ہندو مندروں کو تباہ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ ایودھیا میں گائیڈ بھی مل جاتے ہیں، مقامی صحافی مہندر ترپاٹھی ہنستے ہوئے کہتے ہیں 'رام کے نام پر بہت سارے لوگوں کی دکانیں چل رہی ہیں'۔

ہندو رضاکار انو بھائی سونپورا کہتے ہیں 'گزشتہ دنوں یہاں کام کرنے والے آخری کاریگر کی موت ہوگئی جس کے بعد کام بند ہے'۔

ایک وقت تھا جب یہاں 150 کاریگر کام کرتے تھے۔ لال پتھر کے جو کھمبے اور دیگر ساز و سامان بنایا گیا تھا وہ پڑے پڑے کالے پڑ گئے ہیں۔ انو بھائی کا کہنا ہے کہ اب استعمال کی صورت میں ان کی صفائی کرانی ہوگی۔

کارسیوک پورم کے باہر چائے کی دکان چلانے والی سنتوش چورسیا رام مندر نہ بننے سے بے حد خفا ہیں اور چند دنوں قبل منائی جانے والی دیوالی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں 'ان پانچ لاکھ چراغوں کو جلا کر کیا ہوا۔ لوگ تاج محل دیکھنے جاتے ہیں، ایودھیا میں رام مندر بن جاتا تو لوگ یہاں بھی آتے'۔

’نہیں بننے دیں گے تو ان کی کمائی ختم ہو جائے گی، ان کے ووٹ کٹ جائیں گے‘۔

کارسیوک پورم پر ایودھیا شہر تقریباً ختم ہو جاتا ہے لیکن وہاں بھی شہر کے ديگر علاقوں کی طرح سکیورٹی اہلکار موجود ہیں۔

ایودھیا کے شہری اب ان سکیورٹی دستوں کی موجودگی کے عادی ہوچکے ہیں۔

مقامی شخص مجیب الرحمان کہتے ہیں ایودھیا میں اب بھی لوگوں میں پیار محبت ہے 'جو بھی تناؤ نظر آرہا ہے وہ صرف ٹی وی چینل ہی دکھا رہے ہیں'۔

روہت سنگھ کا خیال ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے مندر کی تعمیر کا کام آئندہ عام انتخابات سے پہلے شروع نہیں ہوگا۔ جبکہ عتیق الرحمان انصاری کہتے ہیں 'اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اگر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آیا تو ہندو اسے قبول کرلیں گے اور اگر ہندوؤں کے حق میں آیا تو مسلمان اسے قبول کرلیں گے؟'

عدالت میں بابری مسجد کے حق میں عرضی دینے والوں میں شامل خالق احمد خان کہتے ہیں ’اگر عدالت کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہوگا تو ہم اسے قبول کرنے کو تیار ہیں ورنہ مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں سوچیں گے اور ضرورت پڑی تو عدالت سے دوبارہ رجوع کریں گیں‘۔

خالق احمد خان نے حال ہی میں سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کی جانے والی سمجھوتہ کمیٹی سے ملاقات کی تھی اور وہ کہتے ہیں کہ بابری مسجد پر مسلمانوں کا دعویٰ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔

عدالت میں بابری مسجد کے حق میں جو فریق ہیں ان کا کہنا ہے کہ تمام پرانے دعوے انھوں نے واپس لے لیے ہیں لیکن وہ 40/120 فٹ کی زمین پر جو دعویٰ قائم رکھے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کی وقف کی زمین پر کسی طرح کی تبدیلی بھارتیہ وقف قانون کے خلاف ہے۔

خالق کہتے ہیں 'ہم تو اس کے لیے بھی تیار ہیں کہ وہ اس زمین کو چھوڑ کر باقی پر مندر کی تعمیر کا کام شروع کردیں۔ ہم تو مسجد کا پھر سے مطالبہ بھی نہیں کر رہے لیکن بعض افراد مندر بنانے سے زیادہ اسے ہندو مسلم تنازعے کے طور پر پیش کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں'۔

اسی بارے میں