بابری مسجد، رام مندر تنازعہ: کیا بابری مسجد کسی مندر کی باقیات پر بنائی گئی تھی؟

بابری مسجد تصویر کے کاپی رائٹ K K Muhammed
Image caption بابری مسجد

کیا انڈیا کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد مندر گرا کر بنائی گئی تھی؟ کیا یہ مسجد کسی مندر کی باقیات پر بنائی گئی تھی؟

شروع سے ہی اس مسئلے پر بحث چلتی رہی ہے اور اب سپریم کورٹ نے سنیچر کو اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے ہندوؤں کے رام مندر کی تعمیر کے دعوے کو تسلیم کر لیا ہے۔

جب اس وقت انڈین محکمہ آثارِ قدیمہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل بی بی لال نے پہلی مرتبہ رام جنم بھومی اور بابری مسجد کی متنازع زمینوں کا سروے کیا تو کے کے محمد بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔

سنہ 1976 اور 1977 میں محمد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کرنے کے بعد ’سکول آف آرکیالوجی‘ میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی تھی، یعنی انھوں نے اس سروے میں بحیثیت طالبعلم شمولیت اختیار کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

بابری مسجد کی زمین پر رام مندر بنے گا: سپریم کورٹ

بابری مسجد تنازع:’کچھ سوال جن کا جواب کسی کے پاس نہیں‘

چند سالوں بعد کے کے محمد نے اس وقت ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا اب انھوں نے متنازع مقام کے حوالے سے کہا کہ یہاں سے ’قدیم مندروں‘ کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔

کئی ماہرین کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ آثار ہندو مندروں کے ہیں مگر چند ماہرینِ آثارِ قدیمہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں کسی جین یا بدھ مذہب کے مندر ہونے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان سے پہلے بی بی لال نے بھی اپنی رپورٹ میں یہی بات کی تھی مگر کے کے محمد کے بیان نے اس پورے تنازعے کو نیا رخ دے دیا کیونکہ وہ ایک مسلمان تھے اور انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ پڑھ رکھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ K K Muhammed
Image caption متنازع مقام پر کھدائی کے بعد دریافت ہونے والی چند اشیا

کے کے محمد ستر کی دہائی کے اواخر میں کیے گئے اس سروے پر اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلا سروے ستر کی دہائی میں کیا گیا تھا مگر 2003 میں ایک اور سروے کیا گیا جس میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا میں کام کرنے والے تین مسلمان بھی شامل تھے۔

چند سال قبل کے کے محمد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر (شمالی انڈیا) کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اب وہ کیرالہ کے شہر کوژیکوڈ (کالیکٹ) میں رہتے ہیں۔

بی بی سی سے فون پر گفتگو کے دوران کے کے محمد نے کہا کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے پاس ایک سنہرا موقع تھا جب انھوں نے مندر کی تعمیر کے لیے زمین ہندوؤں کو دینی تھی۔

دو مرتبہ کیے گئے آرکیالوجیکل سرویز کا تجزیہ کرتے ہوئے کے کے محمد کہتے ہیں کہ متنازع مقام پر ملنے والی بلند دیواریں اور گنبد جیسے ڈھانچے کسی اسلامی تعمیر کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ ان میں مجسمے موجود ہیں، جن کا کسی اسلامی عبادت گاہ میں ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ انھوں نے 'مگر عقائد' کے بتوں کا بھی تذکرہ کیا جنھیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے متنازع مقام کی کھدائی کے دوران دریافت کیا تھا۔

انھوں نے مٹی سے بنے ہوئے کئی دیگر بتوں کا بھی تذکرہ کیا جن کی باقیات یہاں سے دریافت ہوئی تھیں۔ ایسی بھی کچھ مذہبی علامات دریافت ہوئی ہیں جو دہلی میں قطب مینار کے نزدیک مسجد میں پائی جاتی ہیں۔

یہ کے کے محمد کا دعویٰ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علامات بھی دسویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ K K Muhammed
Image caption متنازع مقام کے قریب سے ہونے والی دریافتیں

سروے پر اٹھنے والے سوال

کئی مؤرخین نے بھی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مندر اور مسجد تنازعے سے متعلق دونوں سرویز پر سوالات اٹھائے ہیں۔

اس کے علاوہ سُنّی وقف بورڈ نے الزام عائد کیا تھا کہ آرکیالوجی ایک مکمل سائنس نہیں بلکہ ایک 'غیر حقیقی سائنس' ہے۔

سُنّی وقف بورڈ نے اس آرکیالوجیکل سروے پر دو آزاد ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی خدمات حاصل کیں جن میں سپریہ سیز اور جے مینن شامل ہیں۔

ان دونوں نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سروے پر ایک علیحدہ تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے اور کئی سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ دونوں محققین اس سروے کے دوران موجود تھے مگر کے کے محمد سروے پر سوالات اٹھانے والوں کو بائیں بازو کی سوچ سے متاثر قرار دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ K K Muhammed

وہ کہتے ہیں کہ اس ڈھانچے کی دیواریں دسویں صدی کے ایک مندر کی ہیں جو اس سے پہلے یہاں موجود تھا۔

دسویں اور بارہویں صدی میں انڈیا آنے والے مسافروں کے حوالے دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان تمام مسافروں نے اپنے 'سفرناموں' میں ایودھیا کے متنازع مقام پر ہندوؤں کی عبادت کی رسوم کا تذکرہ کیا ہے۔

کے کے محمد نے ولیم فنچ اور جوزف ٹیفنتھیلر کے ساتھ ساتھ آئینِ اکبری کا بھی حوالہ دیا ہے جو مغل بادشاہ اکبر کے درباری مؤرخ ابوالفضل نے فارسی میں تحریر کی تھی۔ اس میں 'بھگوان رام کی پوجا' کا تذکرہ ہے۔

فنچ 1607 سے 1611 کے درمیان انڈیا آئے جبکہ جوزف 1766 سے 1771 کے درمیان انڈیا آئے۔

کے کے محمد کو کئی قدیم دریافتوں اور ان کی حفاظت کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ ان میں آگرہ کا قصبہ فتح پور سیکری بھی ہے جہاں اکبر نے 'دینِ الٰہی' مذہب کی بنیاد رکھی تھی۔

اس کے علاوہ انھوں نے مدھیہ پردیش میں مورینہ کے نزدیک بتیشور میں گرجر خاندان کے بادشاہوں کے بنوائے گئے مندروں کے آثار بھی دریافت کیے۔ یہ مندر مکمل طور پر برباد ہوچکے تھے۔ تقریباً 200 مندروں میں سے 70 کو مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

جب کان کن مافیا نے مندر کے گرد موجود پتھروں کی سمگلنگ شروع کی تو کے کے محمد نے وہاں دریا کے کچے کے علاقے میں موجود ڈکیتوں سے مندروں کی حفاظت کے لیے مدد طلب کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ K K Muhammed

اس کے علاوہ انھوں نے ریاست چھتیس گڑھ میں نکسل باغیوں سے سب سے زیادہ متاثر علاقے بستر میں دانتیواڑہ کے قریب برسور اور سمالور مندروں کے تحفظ کے لیے بھی کام کیا۔

اس کے علاوہ ریاست بہار کے علاقوں کیسریہ اور راجگیر میں بدھ سٹوپاؤں کی دریافت کا سہرا بھی کے کے محمد کے سر جاتا ہے۔ 2019 میں انھیں ان کی خدمات کے بدلے میں انڈیا کا چوتھا سب سے بڑا سویلین اعزاز پدما شری دیا گیا۔

سنہ 2016 میں انھوں نے اپنی خود نوشت 'نجن انا بھارتین' یعنی 'میں بھارتی ہوں' تحریر کی تھی۔

اسی بارے میں