بابری مسجد، رام مندر کیس کے فیصلے پر ردعمل: ’بالآخر یہ مسئلہ ختم ہوگیا ہے‘

ایودھیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں بابری مسجد اور رام مندر کی متنازع زمین کے عدالتی فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں کچھ لوگ اس سے مطمئن ہیں تو وہیں بعض مبصرین نے مستقبل میں اقلیتوں کی حیثیت پر تشویش ظاہر کی ہے۔

سنیچر کو انڈین سپریم کورٹ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا کے ایک تاریخی مقام کے کیس کا فیصلے سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیا۔

بعض سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے سے چلا آنے والا تنازع بلآخر اپنے اختتام کو پہنچا گیا ہے۔

انڈیا کی سیاست میں سرگرم دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر نجمہ رحمانی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر بہت سیاست کی گئی تاہم ’فیصلہ آنے کے بعد گذشتہ ایک دہائی سے اس کے نام پر جو کچھ چل رہا تھا، اب اس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘

’اب وقت ہے کہ اس کو پیچھے چھوڑ کر صحت، تعلیم کے مسائل پر توجہ دی جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد کیس: کب کیا ہوا؟

بابری مسجد کی زمین پر رام مندر بنے گا: سپریم کورٹ

کیا بابری مسجد کسی مندر کی باقیات پر بنائی گئی تھی؟

بابری مسجد اور پاکستانی ہندو

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس سے خوش ہیں یا نہیں، اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ بلآخر یہ مسئلہ ختم ہوگیا ہے جس کو بہت عرصے تک لٹکایا گیا تھا۔‘

’ابھی ہر کوئی خاموش ہے، لیکن آخر کتنے دن تک۔۔۔‘

بھارتیہ مسلم مہیلا اندولن ممبئی کی رہنما نور جہاں سمجھتی ہیں کہ یہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ یہ انڈیا کے معاشرے کی ہم آہنگی کا سوال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کے مطابق ایودھیا کیس کے فیصلے کے بعد اب یہ مستقبل میں انڈیا کی اقلیتوں کی حیثیت کا سوال ہے۔

نور جہاں سفیہ نیاز کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ہندو اور مسلمان برادری سے تعلق رکھنے والے افراد آنے والے دنوں میں اس فیصلے کو کیسے تسلیم کریں گے ’کیونکہ ابھی تو معاملہ بہت نازک ہے۔ ہر کوئی خاموش ہے، لیکن آخر کتنے دن تک۔۔۔‘

انڈین صحافی سواتی چترویدی نے بی بی سی کو بتایا کہ بابری مسجد اور رام مندر کا مسئلہ اسی دن سیاسی طور پر ختم ہوگیا تھا ’جس دن بابری مسجد کو گرایا گیا تھا۔‘

’یہ مسئلہ ہی ایک سیاسی جماعت کو اچانک ملک کی مرکزی سیاست اور پھر حکومت میں لایا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تمام سیاسی رہنماؤں اور درخواست گزاروں نے تسلیم کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں (لوگوں کو) تقسیم کرنے کی صلاحیت ہے۔‘

سواتی چترویدی کے مطابق اکثر سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اس فیصلے کو تسلیم کیا ہے۔

مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے انڈین سپریم کورٹ کے ایودھیا کیس فیصلے پر عدم اطمینان کے اظہار پر رد عمل دیتے ہوئے سواتی چترویدی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک چھوٹی، علاقائی جماعت ہے اور اس وقت ان کی ناراضی اتنی اہم نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فیصلے کے دن ایودھیا کا آنکھوں دیکھا حال

بابری مسجد اور رام مندر کے شہر سے ہمارے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق شہر میں لوگوں کی بڑی تعداد نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

'لوگوں میں راحت کا احساس نظر آیا۔ مقامی رہائشی اور دکاندار کارتک گپتا اور اس کے بھائی راکیش گپتا نے بتایا کہ رام مندر کی تعمیر کی خبر سے وہ بہت خوش ہیں لیکن انھیں یہ جان کر زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ یہ دہائیوں پرانا معاملہ جو لوگوں میں خلیج کا باعث تھا اب ختم ہوچکا ہے۔‘

کارتک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نسلوں سے پورا ملک مندر، مسجد تنازعے میں تقسیم تھا۔ لیکن اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے ذریعے ختم ہوچکا ہے۔‘

وہیں پجاریوں کا ایک گروپ اپنے مذہبی لباس میں خوش تھا کہ بالآخر متنازع زمین پر رام مندر تعمیر ہوگا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ ’اس معاملے پر سیاست کرنے والے سیاستدانوں سے تھک چکے ہیں۔‘

زبیر احمد نے بتایا کہ شام تک سارا جوش ختم ہو چکا تھا اور زندگی معمول پر آ چکی تھی۔ ندی کے کنارے مندر کے کلس کے پیچھے سورج ڈھل چکا تھا اور عقیدت مند شلوک پڑھتے ہوئے ندی کی جانب جا رہے تھے جبکہ جاگنگ کرنے والے لوگ بھی ان میں شامل ہو گئے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایودھیا شہر میں رام کا ایک مجسمہ

بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کی سماعت انڈین سپریم کورٹ میں 40 دن تک چلی ہے۔

ڈاکٹر میراتن نہر نے اس کے فیصلے کو انڈیا کے آئین پر ایک ’دھبہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے جمہوری اقدار کی بے حرمتی کی ہے۔

’اس تنازعے کو جان بوجھ کر بنایا گیا اور یہ بالکل غیر ضروری اور بلا وجہ تھا۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ’آخر اس کیس کو کورٹ تک لے جانے کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟‘

’سب جانتے ہیں کہ دو خاندان اکثر ایک زمین کے ٹکڑے پر لڑتے ہیں۔ لیکن دو برادریوں کو اس قسم کی لڑائی کیوں لڑنے دی گئی؟ یہ اس لیے کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے تقسیم کرنے والی سیاست پر اکسایا اور بدقسمتی سے آج ہم اسی کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں