ایودھیا فیصلے کا بابری مسجد کے انہدام کیس پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

لا کرشن اڈوانی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابری مسجد کے انہدام والے مقدمے میں انڈیا کے سابق نائب وزیر اعظم لاکرشن اڈوانی کے خلاف بھی مقدمہ دائر ہے

انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے سنیچر کے روز ہندوستان کی قانونی تاریخ کے متنازع ترین مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

بابری مسجد رام جنم بھومی تنازع میں سپریم کورٹ نے ہندوؤں کے حق میں فیصلہ کیا، متنازع اراضی مندر کو دے دیا جبکہ مسجد کے لیے پانچ ایکڑ اراضی کسی دوسرے مقام پر دینے کا فیصلہ کیا۔

یعنی جہاں بابری مسجد تھی اب اس جگہ رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

ریاست اترپردیش کے قدیم شہر ایودھیا میں متنازع اراضی پر رام مندر کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کے انہدام کی تحقیقات کرنے والے جسٹس منموہن لبراہن نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات مسجد انہدام کیس پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ لبراہن نے کہا: 'سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ٹھیک ہے، سپریم کورٹ میں فیصلے درست ہی ہوتے ہیں۔'

کیا اس سے بابری مسجد کے انہدام اور اس سے متعلق مجرمانہ سازش کے مقدمات پر اثر پڑ سکتا ہے؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا: 'مجھے یقین ہے کہ اس فیصلے سے اس کیس پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد کی کہانی، تصویروں کی زبانی

بابری مسجد: ’6 دسمبر نے انڈیا کی سیاست ہی بدل دی‘

بابری مسجد کیس: کب کیا ہوا؟

کیا سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی بنیاد پر بابری مسجد کے انہدام کو درست ٹھہرانا دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں جسٹس لبراہن نے کہا: 'عدالت میں یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے۔'

جسٹس لبراہن نے کہا: 'سپریم کورٹ میں جس رفتار سے ملکیت کے تنازع کی سماعت ہوئی ہے، بابری مسجد کو منہدم کرنے کی مجرمانہ سازش کی سماعت بھی اسی رفتار سے کی جانی چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا عدالت میں انصاف ہوگا؟

جسٹس لبراہن کا خیال ہے کہ بابری مسجد کی مسماری کے معاملے میں بھی عدالت میں انصاف ہوگا۔

انھوں نے کہا: 'جب فیصلہ آئے گا تو پتا چل جائے گا کہ انصاف ہو گا یا نہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتیں فیصلہ دیتی ہیں اور انصاف دیتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان معاملات میں بھی عدالت فیصلہ دے گی اور انصاف کرے گی۔'

متنازع اراضی کی ملکیت سے متعلق سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا ہے ، لیکن بابری مسجد کے انہدام سے متعلق فوجداری مقدمات 27 سالوں سے عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

مشتعل ہندو کار سیوکوں (رضاکاروں) کے ہجوم نے چھ دسمبر سنہ 1992 کو ایودھیا میں 16ویں صدی کی بابری مسجد کو منہدم کردیا۔ اس کے بعد ہونے والے فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد مارے گئے۔

بابری مسجد انہدام کی تحقیقات کرنے والے جسٹس لبراہن کمیشن نے 17 سال طویل تحقیقات کے بعد سنہ 2009 میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی جس میں گہری سازش کے تحت مسجد کو منہدم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

انھوں نے اس سازش میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

بابری مسجد انہدام سے متعلق دو مقدمات

چھ دسمبر سنہ 1992 کو متنازع بابری مسجد کے گرائے جانے کے بعد دو فوجداری مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ایک مقدمہ کئی نامعلوم رضاکاروں کے خلاف تھا اور دوسرا بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی سمیت آٹھ بڑے ہندو رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔

ان دونوں کے علاوہ صحافیوں کے خلاف مارپیٹ اور لوٹ پاٹ کے الزامات میں مزید 47 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بعد میں تمام معاملات کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی گئی۔ سی بی آئی نے دونوں معاملات میں مشترکہ چارج شیٹ دائر کی۔

اس کے لیے ہائی کورٹ کے مشورے پر لکھنؤ میں ایودھیا کے معاملات پر ایک نئی خصوصی عدالت قائم کی گئی۔ لیکن اس کے نوٹیفکیشن میں دوسرے مقدمے کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ یعنی دوسرا مقدمہ رائے بریلی میں ہی چلتا رہا۔

خصوصی عدالت نے الزامات طے کرنے کے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چونکہ تمام معاملات ایک ہی واقعے سے متعلق ہیں لہذا تمام معاملات میں مشترکہ مقدمہ چلانے کی وافر بنیاد ہے۔ لیکن اڈوانی سمیت متعدد ملزمان نے اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

12 فروری سنہ 2001 کو ہائی کورٹ نے تمام معاملات کی مشترکہ چارج شیٹ قبول کرلی لیکن یہ بھی کہا کہ لکھنؤ کی خصوصی عدالت کو آٹھ نامزد ملزمان کے ساتھ دوسرا کیس سننے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس کیس کی تشکیل اس کے نوٹیفکیشن میں شامل نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ K K MUHAMMED

اڈوانی اور دیگر ہندو مذہبی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمہ قانونی موشگافیوں اور تکنیکی وجوہات میں پھنسا رہا۔

سینیئر صحافی رام دت ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ 'اڈوانی اور دیگر رہنماؤں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ عدالت نے تکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے مجرمانہ سازش کا معاملہ رائے بریلی کو بھجوایا تھا۔ تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ نے رائے بریلی میں جاری مقدمے کو بابری مسجد کے انہدام کے مقدمے سے منسلک کر دیا۔'

رام دت نے کہا: 'لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں اب دوبارہ مشترکہ سماعت جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں حکم دیا ہے کہ ان مقدمات کی سماعت کرنے والے جج کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے گی تاکہ وہ ان مقدمات کا فیصلہ آنے کے بعد ہی ریٹائر ہوں۔'

مجرمانہ سازش میں الزامات طے

پہلے اڈوانی اور دیگر رہنماؤں پر صرف اشتعال انگیز تقریریں کرنے کا معاملہ چل رہا تھا لیکن اپریل سنہ 2017 میں سی بی آئی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت آٹھ افراد کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

سنہ 2017 میں ہی بابری مسجد انہدام کیس میں ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 12 ملزمان پر مجرمانہ سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لکھنؤ کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے کہا تھا کہ اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور دیگر کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات لگانے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔

سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام سے پہلے اترپردیش کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا کہ بابری مسجد کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا لیکن وہ اسے برقرار نہیں رکھ سکے۔ کلیان سنگھ بابری مسجد انہدام کیس میں بھی ملزم ہیں اور فی الوقت باقی رہنماؤں کی طرح ضمانت پر باہر ہیں۔

سینیئر صحافی رام دت ترپاٹھی نے کہا: 'بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے رہنما مسجد کو منہدم کرنے کا سہرا اپنے سر لیتے ہیں لیکن کبھی بھی کسی نے بھی مسجد کو گرانے کی اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ عدالت میں یہ کہا کہ وہ مسجد کو منہدم کرنے کے مجرم نہیں ہیں۔'

رام دت کہتے ہیں کہ 'اب امید ہے کہ اس کیس کا بھی فیصلہ ہو جائے گا لیکن اس معاملے میں بہت سے ملزم اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان میں وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل بھی شامل ہیں۔'

ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ 'بہت سے ملزم، گواہ اور مقدمات کے حامی اتنے بوڑھے اور کمزور ہوچکے ہیں کہ انھیں لکھنؤ کی خصوصی عدالت کی تیسری منزل پر چڑھنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'اب یہ دیکھنا ہوگا کہ فیصلہ آنے تک کتنے ملزمان زندہ ہوں گے۔ انصاف بھی وقت پر ہونا چاہیے۔ اگر فیض آباد میں جاری رام جنم بھومی تنازع کا اسی عدالت میں فیصلہ ہو گیا ہوتا تو نہ یہ مقدمہ اتنے طویل عرصے تک جاری رہتا اور نہ ہی اس پر سیاست ہوتی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں