سمندری طوفان 'بلبل' سے بنگلہ دیش اور انڈیا میں کم سے کم 15 افراد ہلاک

سمندری طوفان بلبل کی تباہ کاری تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سائکلون 'بلبل' گزشتہ رات خلیج بنگال میں بنگلہ دیش اور انڈیا کے سرحدی علاقوں سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں کم سے کم 15افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ انڈیا میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہے۔ کئی ہلاکتیں درختوں کے گرنے سے ہوئی ہیں۔

سائکلون یا سمندری طوفان بلبل سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات بارہ بجے کے قریب خلیج بنگال میں واقع انڈیا کے جزائر ساگر، اور بنگلہ دیش کے علاقے کھیپوپارا سے ٹکرایا۔

تقریباً بیس لاکھ افراد نے رات سٹارم شیلٹرز یعنی طوفان سے محفوظ پناہگاہوں میں گزاری۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوگوں کو سٹارم شیلٹرز یعنی طوفان سے محفوظ جائے پناہ میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے

بنگلہ دیش میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ایک افسر شاہ کمال نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرین کو 5500 سے زیادہ سائکلون شیلٹرز میں رکھا گیا ہے۔

خطرے کے پیشِ نظر کئی بندگاہوں اور متعدد ہوائی اڈوں پر کام روک دیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں مونگلا اور چٹاگانگ کی بندگاہوں اور چٹاگانگ ایئرپورٹ، اور انڈیا میں کولکتہ ایئرپورٹ پر کام معطل رہا۔

یہ طوفان اپنے ساتھ 135 کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوائیں اور شدید بارش اور سات فٹ بلند سمندری لہریں لے کر آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں داخل ہونے کے بعد سندر بن کے جنگلات سے گزرتے ہوئے طوفان کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ سندر بن دنیا میں پائے جانے والے تیمر کے سب سے بڑے جنگلات اور معدومیت کے خطرے سے دوچار بنگال ٹائیگر کا مسکن ہیں۔

بنگلہ دیش کی نشیبی ساحلی پٹی اکثر طوفانوں کی زد میں رہتی ہے تاہم حالیہ برسوں میں سرکاری اقدامات کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں نمایا کمی واقع ہوئی ہے۔

وقت سے پہلے طوفان سے خبردار کرنے کے نظام کی بدولت لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے حکام کو خاصا وقت مل جاتا ہے۔

اسی بارے میں