انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں ریت کی قلت سے تعمیراتی کام متاثر

ریت قلت
Image caption آندھرا پردیش میں ریت کی قلت سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں

انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کی سیاست ریت جیسی معمولی چیز کے گرد گھوم رہی ہے۔

تیلگو میں بی بی سی کے نامہ نگار وی شنکر کے مطابق گذشتہ پانچ مہینوں میں ریاست کی ریت کم پڑنے لگی ہے جس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔

اس صورت حال سے تعمیراتی صنعت متاثر ہوئی ہے جبکہ حکومت اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کرپشن اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی منظر عام پر آنے لگے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائڈو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایک دن تک چلنے والی ریت کی مہم ’ستیا گراہا‘ کا حصہ بنیں۔

انڈیا کی تحریک آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی نے بھی ’ستیا گراہا‘ کے نام سے عدم تشدد کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا اقلیتوں کے قوانین مودی حکومت کا اگلا ہدف ہیں؟

کیا انڈیا کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے گی؟

ہریانہ، مہاراشٹر کے ریاستی انتخابات میں مودی کو دھچکا

پیاز سے انڈیا کے سیاست دانوں کے آنسو کیوں نکل رہے ہیں

کیا انڈیا میں پانی ختم ہو رہا ہے؟

یہاں جگن موہن ریڈی اور ان کی جماعت کی صدارت میں منتخب نئی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ہفتہ ریت کے لیے مختص کر رہے ہیں جس کا آغاز 14 نومبر سے ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے ریاست میں ریت کی دستیابی بڑھے گی۔

آندھرا پردیش میں ریت پر اتنا اودھم کیوں؟

متعدد دریاؤں کے باعث آندھرا پردیش میں ریت کی بڑی مقدار موجود ہے۔ انڈیا کی وسیع تعمیراتی صنعت کے لیے اس ریت کو کانوں یا دریاؤں سے نکالا جاتا ہے۔ بین الاقوامی اکاؤنٹنگ کمپنی کے پی ایم جی کے مطابق سنہ 2025 تک انڈیا کے ریئل سٹیٹ اور تعمیراتی شعبے 650 ارب ڈالر کی مالیت تک بڑھ جائیں گے۔

یہ نئے انفراسٹرکچر کی مانگ کی بدولت ہو رہا ہے۔ اس میں پھیلتے شہر، نئی شاہراہیں، پل اور ایئرپورٹ شامل ہیں۔ ملک میں شہروں کی بڑھتی آبادی کے لیے نئے گھروں کی بھی ضرورت ہے جن کی تعمیر کے لیے ریت بنیادی ضرورت ہے۔

تاہم گذشتہ پانچ ماہ کے دوران ریت کی مقدار میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس سے پوری ریاست میں تعمیراتی کام بھی رک گئے ہیں۔

اس سے وہ تمام افراد متاثر ہو رہے ہیں جو روزگار کے لیے ریاست کی تعمیراتی صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔ سرکاری اندازوں کے مطابق یہ تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے۔

Image caption انڈیا کی اس ریاست میں ریت بڑی مقدار میں موجود ہے

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ایک مزدور بھولکشمی کہتے ہیں ’چار مہینوں سے کوئی ریت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کام ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کتنا مشکل ہے؟ ہم کرایہ ادا نہیں کر سکتے اور سڑک پر آنے والے ہیں۔‘

کانچو مرتی نامی ایک مستری کا کہنا ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے علاوہ بڑھئی اور الیکٹریشن بھی نوکریاں نہیں ڈھونڈ پا رہے جبکہ اسی نوعیت کی دوسری صنعتوں سے وابستہ افراد، جیسے بھٹہ مزدور، بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

بی وینکٹ مشرقی گوداواری شہر میں ایک بھٹہ چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’میں پہلے ایک ماہ میں ایک لاکھ اینٹیں بناتا اور بیچتا تھا لیکن اب میں 10 ہزار بھی نہیں بیچ پا رہا۔‘

دوسری وجہ یہ ہے کہ بینکوں اور ایسے منصوبے بنانے والی دیگر کمپنیوں کی بیلنس شیٹس پر بوجھ آ گیا ہے۔ اس سے تعمیرات رک گئی ہیں۔

بلڈرز کے مطابق ان کا کام اس لیے رک رہا ہے کیونکہ اب ریت خریدنے کے لیے اجازت ناموں اور دستاویزات کی ضرورت ہے۔

ٹی سری نیواس کہتے ہیں ’تمام کاغذات پورے کرنے کے لیے ایک ہفتہ لگ جاتا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ریت ایک ہفتے میں پہنچے گی یا ایک ماہ بعد۔‘

ریت کی قلت سے اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے فی ٹن ریت کی قیمت 375 روپے (پانچ ڈالر) رکھی ہے لیکن صنعت کے اندرونی معاملات سے واقف ایک شخص نے بتایا ہے کہ بلیک مارکیٹ میں اس کی قیمت 55 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

اس کے علاوہ بعض تعمیراتی ملازمین کی خود کشیوں کو بھی صنعت میں بے روزگاری سے جوڑا جا رہا ہے۔

انڈیا میں ریت کی قلت کیوں ہو رہی ہے؟

جگن موہن ریڈی اور ان کی حکومت یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ریاست میں ریت کی قلت ہے لیکن وہ ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ مون سون کی شدید بارشیں ہیں جن سے ریاست کے دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔ اس لیے گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران ریت نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔

لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ریت نکالنے اور بیچنے سے متعلق نئے قوانین سے مسئلہ سنگین ہو گیا ہے۔

گذشتہ حکومت کے دور میں ریت مفت میں دستیاب تھی اور خریدار محض اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے پیسے ادا کرتے تھے۔

لیکن جگن موہن ریڈی کی حکومت نے ریت نکالنے کا ایک مرکزی قانون بنایا ہے جسے ایک حکومتی ادارے کی مدد سے چلایا جائے گا۔ اس کے مطابق ریاست میں کچھ مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ریت فروخت کی جائے گی۔

ریت خریدنے کے لیے آن لائن آرڈر دینا ہوتا ہے اور اس کی ٹریکنگ بھی کی جاتی ہے تاکہ اس میں منافع خوری یا اس کی بلیک مارکیٹ پر فروخت نہ ہو سکے۔

لیکن قلت کے باعث حکومت بظاہر اس کی طلب پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریت کی یومیہ رسد 30 ہزار ٹن سے زیادہ نہیں ہے جبکہ اس کی طلب اکثر اس سے چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔

Image caption گذشتہ مہینوں میں موسون کی بارشوں سے ریت نکالنا مشکل ہو گیا ہے

ریت کی پالیسی تبدیل کیوں کی گئی؟

گذشتہ حکومت، جس کی سربراہی چندرا بابو نائڈو اور تیلگو دیشم پارٹی نے کی، اپنی ’مفت ریت‘ پالیسی کی بنا پر تنقید کی زد میں رہی تھی اور کرپشن اور ریت کی غیر قانونی کان کنی کے الزامات نے جنم لیا تھا۔

ریاست میں آلودگی کی روک تھام کے ایک ادارے کی تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ ریت ضروری اجازت ناموں کے بغیر کچھ غیر قانونی طریقوں سے نکالی جا رہی ہے جس سے دریا اور ساحلی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر اپریل 2019 کے دوران نیشنل گرین ٹریبیونل نے ریاست پر ایک کروڑ 39 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ یہ جرمانہ ریت کی غیر قانونی کان کنی کی روک تھام میں ناکامی پر عائد کیا گیا تھا۔

ٹریبیونل میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریت بلیک مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر کیسے فروخت ہو رہی ہے۔ حالانکہ یہ ایک قدرتی ویسلہ ہے جسے حکومت نے لوگوں کے لیے مفت فراہم کر رکھا ہے۔

ریت کی طاقتور مافیا پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو دھمکاتی اور تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

جبکہ یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ کچھ افسران اور صحافیوں کو ریت کی غیر قانونی کان کنی کو منظر عام پر لانے پر قتل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں