انڈیا: دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہو کیا رہا ہے؟

جے این یو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کی معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ان دنوں ایک بار پھر سے سرخیوں میں ہے۔

وہاں کے طلبہ کئی ہفتوں سے سراپا احتجاج ہیں۔ اس بارے میں ٹوئٹر پر گرما گرم بحث بھی جاری ہے اور اس سے متعلقہ مختلف ہیش ٹیگ انڈیا میں ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

منگل کے روز انڈیا کی پارلیمان میں بھی جے این یو کے طلبہ پر پولیس کے لاٹھی چارج کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

جے این یو کے سٹوڈنٹ لیڈر پرغداری کا مقدمہ

جے این یو میں بی جے پی کے حمایتیوں کو شکست

انڈیا کی یونیورسٹیوں میں سوچ پر پابندی

جے این یو میں احتجاج کیوں؟

جے این یو کے طلبہ تقریباً ایک ماہ سے فیس، ڈریس کوڈ اور ہاسٹل میں آنے جانے کے اوقات کے خلاف دھرنے دے رہے تھے۔

لیکن یہ معاملہ شہ سرخیوں میں اس وقت آيا جب گذشتہ ہفتے ملک کے نائب صدر جے این یو کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کے لیے وہاں پہنچے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہ تقریب جے این یو کیمپس سے باہر رکھی گئی تھی اور مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے اس موقعے پر وہاں جا کر اپنے مطالبات بتانے کی کوشش کی لیکن انھیں وہاں جانے سے روک دیا گیا۔

11 نومبر کو کانووکیشن کے دن والے مظاہرے کے نتیجے میں جے این یو انتظامیہ نے ڈریس کوڈ اور ہاسٹل میں آمد و رفت کے اوقات کی پابندی ہٹا لی جبکہ فیس میں غریب طلبہ کے لیے کچھ تخفیف کا بھی اعلان کیا۔

لیکن جے این یو کے طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک دھوکہ ہے اور اسی لیے انھوں نے مکمل طور پر فیس کی واپسی کا اپنا مطالبہ جاری رکھا۔

جے این یو کے وائس چانسلر نے اتوار کے روز اپنے ایک ویڈیو پیغام میں طلبہ سے ہڑتال ختم کر کے کلاسز میں واپس آنے کی اپیل کی۔

گذشتہ روز یعنی 18 نومبر کو جب پارلیمان کا سرمائی اجلاس شروع ہوا تو طلبہ نے منتخب نمائندوں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے انتظامیہ سے پرامن مارچ کی اجازت مانگی لیکن انھیں اجازت نہیں مل سکی۔

دہلی پولیس نے طلبہ مارچ کو روکنے کے لیے پارلیمان تک رکاوٹیں لگانا شروع کر دیں اور تعزیرات ہند کی دفعہ 144 نافذ کر دی۔ طلبہ رکاوٹوں کو توڑ کر آگے بڑھتے رہے لیکن انھیں جگہ جگہ روکا گیا اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا گیا۔

طلبہ کے مطابق ان کے 50 سے زیادہ ساتھی زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس لاٹھی چارج کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

ہم نے اس پورے واقعے کے بارے میں جے این یو کی طلبہ یونین کے سابق صدر این سائی بالا جی سے بات کی جو کہ آل انڈیا سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption 11 نومبر کو جے این یو کے طلبہ کے احتجاج کی تصویر

این سائی بالا جی کہتے ہیں ’یہ احتجاج محض فیس میں اضافے کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس نئی تعلیمی پالیسی کے خلاف بھی ہے جو حکومت ملک میں نافذ کرنا چاہتی ہے، جس میں صاف طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ملک میں جو 33 ہزار سے زیادہ سرکاری تعلیمی ادارے ہیں انھیں ایک تہائی کرنا ہے۔ ‘

’اپنے مقصد کے حصول کے لیے حکومت بہت سے اداروں کو بند کرے گی اور کچھ مخصوص اداروں کو رہنے دے گی اور اس کے لیے وہ سرکاری فنڈ سے چلنے والی یونیورسٹیوں کو بند کر کے بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں اور پرائیوٹ یونیورسٹیوں کو فروغ دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہم ان یونیورسٹیوں کے خلاف نہیں ہیں، جو وہاں پڑھنا چاہتے ہیں وہ وہاں پڑھیں لیکن جو ٹیکس دینے والے ہیں خواہ وہ امیر ہی کیوں نہ ہوں، اگر وہ سرکاری فنڈ سے چلنے والی یونیورسٹی میں پڑھنا چاہتے ہیں تو انھیں اس تک رسائی ہونی چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ساری دنیا میں تعلیم کو مفت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، یورپ میں تو یہ مفت ہی ہے امریکہ میں بھی فیس کو کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ طلبہ کا قرض اربوں ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور ہم لوگ (انڈیا) اس ناکام ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

این سائی بالا جی کے مطابق ’انتظامیہ فیس میں اضافے کی یہ وجہ بتاتی ہے کہ ان کے پاس فنڈ نہیں جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دہلی کی سڑکوں جے این یو طلبہ کی ریلی

این سائی بالا جی، اے جی (کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہویے کہتے ہیں ’فروری 2019 کی سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق ہائیر اور سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے لیا جانے والا اضافی ٹیکس کا پیسہ 93000 کروڑ روپے ہے اس کا استعمال ہی نہیں ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا جو اضافی ٹیکس کا پیسہ سات ہزار کروڑ ہے وہ بھی غیر مستعمل ہے۔ یعنی حکومت نے جو گذشتہ سال ایک لاکھ کروڑ روپیہ اکٹھا کیا اسے استعمال نہیں کیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’اس کے برعکس حکومت نے گذشتہ پانچ سال کے دوران کارپوریٹ سیکٹر کو تقریباً دس لاکھ کروڑ کا فائدہ پہنچایا ہے۔ چار لاکھ کروڑ ٹیکس میں چھوٹ دی ہے یعنی گذشتہ پانچ سال میں دیے ہوئے ٹیکس کو لوٹا دیا ہے۔ اور 7۔5 لاکھ کروڑ کا قرض معاف کر دیا۔‘

’اور سرکار نے نوجوانوں کے کتنے تعلیمی قرض کو معاف کیا؟ صفر۔ کتنے تعلیمی اداروں کے فنڈ میں اضافہ کیا؟ صفر۔ بلکہ یوجی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) کا بجٹ ابھی آدھا ہو گيا ہے۔‘

فیس کتنی بڑھی ہے اور اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

جے این یو میں داخلے کا نظام کچھ ایسا ہے کہ وہاں دور دراز، دیہی اور معاشی و سماجی طور پر پسماندہ طبقے سے آنے والوں کو اضافی نمبر دیے جاتے ہیں، اس کے ساتھ خواتین کو مزید اضافی نمبر دیے جاتے ہیں، اس لیے وہاں کے طلبہ میں غریب طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر اور کمپیوٹر سائنسز میں پروفیسر ڈی کے لوبیال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’فیس میں اضافہ من مانے طریقے سے کیا گیا ہے اور اس سے بہت زیادہ تعداد میں طلبہ متاثر ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا ’جے این یو کے گذشتہ سال کے ریکارڈ کے مطابق ایسے طلبہ کی تعداد 40 سے 45 فیصد ہے جن کے خاندان کی ماہانہ آمدن 12000 روپے سے کم ہے۔ اگر فیس میں اضافہ ہوتا ہے تو بہت سے طلبہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گے۔‘

جے این یو طلبہ یونین کی سابق رہنما اور آل انڈیا پیپلز ویمن ایسوسی ایشن کی صدر کویتا کرشنن جے این یو پر مستقل ٹوئٹ کر رہی ہیں۔

انھوں نے لکھا ’جے این یو واحد یونیورسٹی نہیں ہے جہاں فیس کم ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کی فیس بھی کم ہے لیکن جے این یو پر حملہ صرف شروعات ہے، تمام یونیورسٹیوں کی فیس میں اضافہ کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کی تعلیم صرف امیروں کے لیے مختص ہو کر رہ جائے گی۔ کسانوں اور مزدوروں کے بچے یونیورسٹیوں سے نکال دیے جائیں گے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے انڈیا کی سینٹرل یونیورسٹیوں میں سالانہ فیس کے جائزے کی تصویر بھی پوسٹ کی۔ جس کے مطابق جے این یو کی موجودہ سالانہ فیس 27500 سے 32000 کے درمیان آتی ہے اور اگر تازہ اضافے کو نافذ کر دیا جاتا ہے تو یہ فیس اوسطاً 55000 سے 61000 کے درمیان ہو جائے گی۔

اس کے مقابلے میں دہلی یونیورسٹی کی فیس اوسطاً 40 ہزار سے 55 ہزار کے درمیان ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیس 35 ہزار، وشو بھارتی یونیورسٹی کی ساڑھے 21 ہزار سے ساڑھے 30 ہزار، الہ آباد یونیورسٹی ساڑھے 28 ہزار، بنارس ہندو یونیورسٹی ساڑھے 27 ہزار، گرو گھاسی داس یونیورسٹی 22 ہزار سے 25 ہزار، پانڈی چیری یونیورسٹی 12 ہزار سے 15 ہزار، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ساڑھے 14 ہزار اور حیدرآباد یونیورسٹی کی فیس 14 ہزار روپے اوسطاً ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WWW.JNU.AC.IN
Image caption جے این یو کا صدر دفتر جہاں وی سی کا دفتر بھی ہے اور ان سیڑھیوں پر اکٹر دھرنے ہوتے رہتے ہیں

جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن بھی طلبہ کے ساتھ!

جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈی کے لوبیال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’طلبہ کے مطالبات جائز ہیں اس لیے نہ صرف جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن بلکہ تمام سینٹرل یونیورسٹی کے ٹیچرز ایسوسی ایشن نے ان کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’بظاہر یہ ہاسٹل کے روم کرائے کی بات ہے لیکن دراصل اب ہاسٹل کے میس ورکر اور صاف صفائی کے کام کرنے والوں کی تنخواہیں بھی طلبہ کے پیسے سے جائیں گی اور جوں جوں ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہو گا اس کا بوجھ طلبہ پر پڑے گا اور ہمارے یہاں غریب طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘

جے این یو کے شعبہ فارسی کے ایک استاد اخلاق احمد آہن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیچرز طلبہ کے ساتھ ہیں اور وہ اس خیال کے حامی ہیں کہ تعلیم پر خرچا کم ہونا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں