انڈیا، گیس سانحہ: حادثے کے 35 سال بعد بھوپال میں رہنے والوں کی زندگی کیسی ہے؟

یونین کاربائیڈ پلانٹ، بھوپال تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow

35 سال قبل انڈیا کے شہر بھوپال میں یونین کاربائڈ کیمیکل پلانٹ میں گیس کے اخراج سے ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس انڈین شہر پر ہزاروں ٹن زہریلی گیس پھیل گئی تھی۔

پہلے چوبیس گھنٹوں میں کم سے کم 3000 افراد ہلاک ہوئے اور بعد میں ہونے والے اثرات سے مزید ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس طرح یہ شہر دنیا میں صنعتی تباہی کی ایک بدترین مثال بن گیا۔

یہ بھی پڑھیے

سانحۂ بھوپال اور انتخابات

بھوپال گیس سانحہ: آٹھ افراد قصوروار

گیس سانحہ: 25 برس پہلے ہوا کیا تھا؟

بھوپال میں کیمیائی تباہی کے نتیجے میں ہزاروں افراد پھیپھڑوں کی مہلک بیماریوں میں بھی مبتلا ہوئے اور بے شمار ایسے تھے جو زندگی بھر کے لیے معذوریوں کا شکار ہو گئے۔

فوٹوگرافر جُدھا پاسو اس کیمیکل پلانٹ کے سائے میں زندگی گزارنے والوں کی تصویر کشی کر رہے ہیں۔ یہاں ان کی کچھ تصاویر پیش کی جا رہی ہیں۔

شاکر غلی خان ہسپتال میں ایک مریض تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption شاکر علی خان ہسپتال میں سانس کی دشواریوں کے شکار ایک مریض کا ایکس رے کیا جا رہا ہے۔ یہ مریض نوجوان تھے جب دھماکے کے نتیجے میں خارج ہونے والی زہریلی گیس نے ان کے نظام تنفس کو متاثر کیا
چیراؤ کینسر ہسپتال تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption بھوپال کے چیراؤ کینسر ہسپتال میں ڈاکٹر ایک ایسے شخص کا معائنہ کر رہے ہیں جو تباہ ہونے والے پلانٹ کے نزدیک رہتے ہیں۔ کیمیائی تباہی کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات سے تقریباً 20000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بے شمار ایسے ہیں جو معذوریوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
بلو مون علاقے کی ایک رہائشی تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption بھوپال کے بلیو مون علاقے میں متروک شدہ کیمیائی پلانٹ کی دیوار کے باہر ایک رہائشی۔ سنہ 1984 میں متاثرہ علاقے میں 550،000 سے زیادہ افراد رہائش پذیر تھے جو بھوپال کی آبادی کا دو تہائی ہے
حادثے کا شکار ہونے والے پلانٹ کے قریب ایک گھر میں پانی کا پائپ تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption ایک گھر کو چمڑے کے پائپوں کے ذریعے تازہ پانی فراہم کیا جارہا ہے کیونکہ سائنس دانوں اور مہم چلانے والوں کے خیال میں ابھی تک مٹی اور زمینی پانی میں کیمیکل کا اخراج جاری ہے
نشا اور ان کی سہیلی بھوپال کے چنگاری ٹرسٹ فزیکل تھراپی کلینک میں تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption بھوپال کے چنگاری ٹرسٹ فزیکل تھراپی کلینک میں نشا (بائیں ) اور ان کی دوست۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ زہریلی گیس پھیلنے کے اثرات سے اب بھی بچے معذوریوں کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں
پراچی چگ، دماغی فالج اور ذہنی نشوونما سے متعلق دشواریوں کا شکار ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption پراچی چگ، دماغی فالج اور ذہنی نشوونما سے متعلق دشواریوں کا شکار ہیں۔ دھماکے کی رات پراچی کی والدہ کو زہریلی گیس والے علاقے میں سانس لینا پڑا تھا جس کے اثرات وہ اور ان کا بیٹا اب تک بھگت رہے ہیں
بھاپ سے علاج تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption بھوپال کے سمبھونا ٹرسٹ کلینک میں ایک مریض کی ’سٹِیم تھراپی‘ کی جا رہی ہے۔ اس کلینک میں روایتی انڈین آیورویدک دوائیوں کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین کا علاج کیا جاتا ہے
چنگاری ٹرسٹ فزیکل تھراپی کلینک تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption چنگاری ٹرسٹ فزیکل تھراپی کلینک میں زیرِ علاج رہنے والے بچوں کے ہاتھوں کے نشان
Pupils at the Oriya neighbourhood primary school تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption بھوپال کے اوریا علاقے میں پرائمری سکول طلبا کھیلتے نظر آرہے ہیں۔ اس سکول کی بنیاد ڈومینک لاپیئر فاؤنڈیشن کے فنڈز سے رکھی گئی تھی۔ یہ فاؤنڈیشن لیپیئر اور جیویر مورو کی کتاب ’فائیو پاسٹ مڈ نائٹ‘ کی آمدن سے سمبھونا ٹرسٹ کلینک کو بھی امداد فراہم کرتی ہے
Pupils at the Oriya neighbourhood primary school تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption تاہم اس سکول کا مستقبل غیر یقینی ہے
Demonstrators marching through the street of Bhopal to mark the 34th anniversary of the Union Carbide chemical plant disaster تصویر کے کاپی رائٹ Judah Passow
Image caption سنہ 1989 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے متاثرہ افراد کو دیئے جانے والے معاوضے کو ’منصفانہ‘ کہتے ہوئے قبول کر لیا تھا۔ تاہم بہت سے افراد کا ماننا ہے کہ مزید معاوضے کے ساتھ علاقے کی صفائی بھی ضروری ہے۔ گذشتہ برس بھوپال میں حادثے کے 34 سال مکمل ہونے پر متاثرین ایک مظاہرے میں شامل ہیں

تمام تصاویر متعلقہ فوٹو گرافر کی ملکیت ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں