سعودی عرب کا جدید روپ: اب کے ریاض اور ماضی کے ریاض میں کیا فرق ہے؟

سعودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نوجوان سعودیوں کی زندگیاں گھر کی اونچی چار دیواریوں کے درمیان قید تھیں اور سال ہا سال اس سنسان شہر کی زمین پر بنے گھروں کی چار دیواریوں میں توسیع ہوتی گئی

شرارتی لڑکے ریاض کے فٹبال سٹیڈیم کے پچھلے سٹینڈز پر کھڑے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے اپنے قمیضیں اتاریں اور انھیں پکڑ کر دیوانہ وار اپنے سر کے گرد گھمانے لگے۔

وہاں موجود سعودی خواتین بھی لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ ان کے سکارف ہوا میں کالے جھنڈوں کی مانند اُڑ رہے تھے۔ برازیل اور ارجنٹینا کے درمیان یہ فٹبال میچ سعودی عرب میں دو دہائیوں سے ہونے والا وہ پہلا میچ تھا جسے میں دیکھنے گیا۔

پہلے تو سٹیڈیم میں ایک بھی عورت کا سیاہ عبایا دکھائی نہ دیتا اور ہر طرف صرف سعودی مردوں کے سفید اور لال شماغ اور اجلے سفید چوغے ہی نظر آتے تھے۔

اُس زمانے کا ریاض ایک تنگ نظر اور ناخوشگوار جگہ تھی جو شاپنگ مالز کی روشنیوں سے بمشکل جگمگایا کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب میں خواتین کا پہلا ریسلنگ میچ

سعودی عرب پر ’سپورٹس واشنگ‘ کا الزام کیوں؟

جمال خاشقجی کے قتل کی خفیہ ٹیپس کیا بتاتی ہیں؟

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اثر و رسوخ کی کہانی

لوگ شہر میں داخل ہوتے ہی ایسے سانس روک لیتے گویا کسی کھڑے ہوئے پانی والے تالاب میں ڈبکی لگا رہے ہوں۔ تارکینِ وطن برسوں غائب رہتے اور کبھی کبھار شراب، چھٹیوں اور عشق معاشقے کی خبر کے ساتھ ہی دوبارہ ظاہر ہوتے۔

جب بھی دکان کا چکر لگتا تو نماز کے اوقات میں افراتفری شاپنگ میں خلل ڈال دیتی اور دکانوں کے شٹر نیچے آ جاتے۔ دکانداروں کو مذہبی پولیس کا ڈر رہتا تھا جو بے لگام شہر کا چکر لگاتی اور قانون توڑنے والوں کو گرفتار کر لیتی۔

نوجوان سعودیوں کی زندگیاں گھر کی اونچی چار دیواریوں کے درمیان قید تھیں اور سال ہا سال اس سنسان شہر کی زمین پر بنے گھروں کی چار دیواریوں میں توسیع ہوتی گئی۔ نوجوان ایک نجی جگہ سے دوسری نجی جگہ یعنی اپنے عزیزو اقارب کے بند گھروں کا رخ کرنے لگے۔

وہ ریاض اب ماضی کا حصہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پہلے تو سٹیڈیم میں ایک بھی عورت کا سیاہ عبایا دکھائی نہ دیتا اور ہر طرف صرف سعودی مردوں کے سفید اور لال شماغ اور اجلے سفید چوغے ہی نظر آتے تھے

عوامی مقامات کے کھلنے سے شہر بدل گیا ہے اور روزمرہ کی زندگی سے مذہبی پولیس کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے۔

انفلوئنسر اور فیشن ڈیزائنر کے طور پر شہرت پانے والی ایک نوجوان خاتون نے مجھے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انھیں ریاض ڈراؤنا لگتا تھا۔ ان کے والدین میں سے ایک سعودی ہیں۔

اب اس قدر تبدیلی آ چکی ہے کہ بعض اوقات جب وہ واپس سعودی عرب واپس آتی ہیں تو ملک میں پہلے سے مقیم دوستوں سے کہیں زیادہ قدامت بسند محسوس کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ گذشتہ سال خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کا اختیار ملنا ایک بہت اہم لمحہ تھا، تاہم سعودی عرب میں نہ رہنے کے باوجود اب تک ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی سعودی سہیلیاں مردوں کے شانہ بشانہ اب اپنے گھروں کی مالک ہیں۔

میں نے جیل میں قید چار سعودی سماجی کارکن خواتین کا ذکر چھیڑنے سے گریز کیا۔ اِنہی حقوق کے لیے برسوں لڑنے والی سات ایسی خواتین جو ضمانت پر رہا ہوئیں اور سعودی عرب کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے کیس بھگت رہیں ہیں۔

مقامی میڈیا نے ان سب کو غدار قرار دیا تھا۔ ان خواتین کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ نئے طرز کے اس سعودی عرب پر ایک داغ ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ حقیقی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ ایک تضاد ہے۔ نئی تبدیلیوں میں سے کئی ایک کو تماشا کہہ کر برخاست کیا جا سکتا ہے۔

Image caption یہاں ایک 'ونٹر ونڈرلینڈ' بھی بنایا گیا ہے جس میں سینٹا کلاز کے علاوہ سب کچھ ہے

اب ریاض میں تفریح کے دو ماہ منائے جا رہے ہیں جس میں اوپن ایئر سنیما، تھیٹرز اور پاپ کانسرٹس کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔

جب میں وہاں تھا تو ایک امریکی ریپر نے ایک خاتون کا زیرِ جامہ جو کسی نے سٹیج پر پھینکا تھا، ہوا میں لہرایا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔

یہاں ایک 'ونٹر ونڈرلینڈ' بھی بنایا گیا ہے جس میں سینٹا کلاز کے علاوہ سب کچھ ہے۔

ہر رات ہزاروں لوگ شہر کے مضافات میں ریاض بولیوارڈ کہلانے والے علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

مرکزی گلی کی طرف جانے والے راستے پر مشہور عربی گلوکاروں کے بڑے بڑے کٹ آؤٹس لگے ہوئے ہیں جہاں حجاب میں ملبوس نوجوان خواتین گزرنے والوں کو پرفیوم کی خوشبو سونگھنے کے لیے روکتی ہیں۔ ایک خاتون نقاب پہن کر پیانو بجا رہی ہوتی ہیں جبکہ کھانے کے ٹرکوں کے جتھے کے پیچھے ایک خاتون گٹار بجا رہی ہوتی ہیں۔

Image caption ایک خاتون نقاب پہن کر پیانو بجا رہی ہوتی ہیں جبکہ کھانے کے ٹرکوں کے جتھے کے پیچھے ایک خاتون گٹار بجا رہی ہوتی ہیں

درجنوں ریستوران ایسے ہیں جہاں مرد اور خواتین بغیر کسی رکاوٹ کے ملاقات کرتے ہیں اور وہاں سے ہر گھنٹے بعد وہ ایک مصنوعی جھیل پر لائٹ شو کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

چار پانچ سال پہلے تک سعودی علما اس منظر کے ہر ایک پہلو کی مذمت کرتے۔ اس وقت ان کی طاقت کمزور پڑنا شروع ہو گئی تھی لیکن پھر بھی کافی مضبوط تھی۔

اُن میں سے کئی علما اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ ولی عہد شہزادے محمد بن سلمان کی جانب سے لائی گئی بڑی تبدیلیوں کے حامی نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت کئی علما اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ ولی عہد شہزادے محمد بن سلمان کی جانب سے لائی گئی بڑی تبدیلیوں کے حامی نہیں تھے

ریاض کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک سینکڑوں سعودیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور میں بھی ان میں سے ایک عالم کی موت کا سوگ منانے وہاں پہنچا تھا۔ سعودی انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے جیل میں ان کے ساتھ بدسلوکی کو ان کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ تاہم اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کچھ دن پہلے ریاض کے خوشی بھرا ماحول اُس وقت لرز گیا جس ایک شو میں چاقو زنی کا واقعہ پیش آیا اور کئی غیر ملکی تھیٹر فنکار زخمی ہو گئے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے نائب اور مشیروں کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے دنیا کو شہزادے کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ مخالف قوتیں واپس آنے کی کوشش کریں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب جمال خاشگجی قتل پسِ پردہ ہے اور غیرملکی مغززین دوبارہ سعودی عرب میں دکھائی دینے پر کم ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں

ایک سال پہلے میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی ایجنٹوں کے ہاتھوں صحافی جمال خاشگجی کے قتل کی خبر کے سلسلے میں ریاض آیا تھا۔ ایک سعودی مدیر اس بات پر متفق تھے کہ اس خبر کا شمار اُن کہانیوں میں ہوتا ہے جس کی ہر درندہ صفت، نا قابلِ یقین تفصیل سچ نکلی۔

اب قتل پسِ پردہ ہے اور غیرملکی مغززین دوبارہ سعودی عرب میں دکھائی دینے پر کم ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

لیکن نئی قومی شناخت پانے کے باوجود بھی سعودی نوجوانوں کے ایک گروہ نے اقرار کیا کہ زیادہ تر دنیا کے لیے یہ خوفناک کہانی ہی نئے سعودی عرب کی تعریف ہے۔

اسی بارے میں