انڈیا کی رکنِ پارلیمان جیا بچن: ’خاتون کے ریپ، قتل کے مجرمان کو سرِعام قتل کیا جائے‘

جیا بچن تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ANINEWS

انڈین پارلیمان کی رکن اور اداکار جیا بچن نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک 27 سالہ خاتون کو جنسی زیادتی کے بعد ہلاک کیا ہے، انھیں 'عوام کے سامنے مار دینا چاہیے۔'

پارلیمان میں اپنے خطاب کے دوران معروف اداکارہ اور امیتابھ بچن کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ 'مجھے معلوم ہے کہ یہ سننے میں سخت لگتا ہے مگر اس طرح کے لوگوں کو عوام کے سامنے لا کر قتل کرنا چاہیے۔'

سیاسی جماعتوں میں سے اور بھی کئی ارکانِ پارلیمان نے ہولناک اجتماعی زیادتی اور قتل کی مذمت کی ہے۔

انڈیا کی ریاست حیدرآباد میں جانوروں کی ماہر ڈاکٹر کی گذشتہ ہفتے گمشدگی کے بعد جب سوختہ باقیات برآمد ہوئیں تو انڈیا بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: ریپ کے بعد متاثرہ لڑکی کو جلا دیا گیا

وہ علاقہ جہاں ’ہر تیسرا شخص ریپ میں ملوث ہے‘

ٹیچر نے ریپ کر کے اسقاط حمل بھی کروا دیا

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون سے اجتماعی زیادتی اور ان کا قتل کرنے والے چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہائی پروفائل کیس میں عوامی اشتعال کے باوجود خواتین پر تشدد اور ان سے زیادتی کے واقعات اب بھی بلند سطح پر ہیں۔

پیر کو عوامی غصہ پارلیمان میں بھی جھلکتا ہوا نظر آیا جب پارلیمان کے کئی ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر نظر ثانی کرے۔

جیا بچن نے جو خواتین کے حقوق پر آواز بلند کرتی رہتی ہیں، ان ارکان پارلیمان کی قیادت کی۔

انھوں نے کہا 'مجھے لگتا ہے کہ وقت آ گیا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ حکومت ایک مناسب اور حتمی جواب دے۔'

وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ 'اس عمل نے پورے ملک کو بدنام کر دیا ہے، اس سے سب کو تکلیف پہنچی ہے' اور یہ کہ ان کے پاس 'اس گھناؤنے جرم کی مذمت' کے لیے الفاظ بھی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2012 میں دِلی میں ایک نوجوان خاتون سے اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد سخت قوانین متعارف کروائے گئے تھے اور ان سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خواتین کے خلاف جرائم میں کمی آئے گی۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے، اس لیے 'حکومت پارلیمان میں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق بحث کرنے کے لیے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین میں مزید سخت شقیں متعارف کروانے کے لیے تیار ہے۔'

وزیرِ اعظم نریندرا مودی نے اب تک اس معاملے پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امرتسر میں واقعے کے خلاف مظاہرہ کیا جا رہا ہے

واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟

زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون بدھ 27 نومبر کو مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے اپنی موٹرسائیکل پر ڈاکٹر کے پاس گئی تھیں۔

بعد میں انھوں نے اپنی بہن کو فون پر بتایا کہ ان کی بائیک کا ٹائر پنکچر ہوچکا ہے اور ایک ٹرک ڈرائیور نے انھیں مدد پیش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک ٹول پلازا کے قریب انتظار کر رہی ہیں۔

اس کے بعد ان سے رابطے کی کوششیں ناکام رہیں اور جمعرات کو علی الصبح ایک گوالے نے ایک فلائی اوور پُل کے نیچے ان کی لاش دیکھی۔

انڈین قانون کے مطابق ریپ کے متاثرین کی شناخت ان کی موت کے بعد بھی ظاہر نہیں کی جا سکتی لیکن جمعے کو ان کا نام ملک میں کئی گھنٹوں کے لیے ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا اور دسیوں ہزار ٹویٹس میں ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ان کے حق میں ٹویٹس کرنے والوں نے ان کی تصاویر شیئر کیں۔

عوام کا ردِ عمل کیا رہا؟

سنیچر کو حیدرآباد کے مضافات میں ایک پولیس سٹیشن پر ہزاروں افراد احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے جو اس واقعے میں ملوث افراد کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ملک کے دیگر مقامات پر بھی مظاہرے اور دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔

لیکن اس دوران متاثرہ خاتون کے خاندان نے ان کے گھر آنے والے سیاستدانوں اور پولیس اہلکاروں کو واپس لوٹاتے ہوئے ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

حیدرآباد میں اُن کے رہائشی محلے شمس آباد میں رہائشیوں نے مرکزی دروازہ بند کردیا اور پلے کارڈ اٹھائے رکھے جن پر، 'میڈیا، نہ پولیس، نہ غیر متعلقہ افراد، نہ ہمدردی، صرف ایکشن اور انصاف' تحریر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حیدرآباد کے مضافاتی علاقے شاد نگر میں پولیس نے ڈنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا

تین پولیس اہلکاروں کو خاتون کے گھرانے کے اس الزام کے بعد معطل کر دیا گیا ہے کہ انھوں نے گمشدگی کی اطلاع دیے جانے کے باوجود فوری طور پر عمل نہیں کیا تھا۔

خاتون کے اہلِ خانہ نے سرکاری ادارے نیشنل کمیشن فار ویمین کو بتایا کہ پولیس افسران کا کہنا تھا کہ شاید خاتون گھر سے بھاگ گئی ہوں گی۔

انڈیا میں گزشتہ کئی سالوں سے جنسی زیادتی اور جنسی تشدد توجہ کا مرکز رہا ہے مگر اس بات کے کوئی اشارے نہیں کہ خواتین کے خلاف جرائم میں کمی آ رہی ہو۔

حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں 2017 میں 33 ہزار 658 خواتین کا ریپ کیا گیا جو کہ اوسطاً 92 ریپ یومیہ کے برابر ہے۔

اسی بارے میں