#CABProtest: انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل کے خلاف ملک گیر مظاہرے

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل کو حزب اختلاف سمیت دیگر سماجی حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ریاست آسام کے مختلف شہروں میں جمعے کو ہونے والے مظاہروں میں دو افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

سنیچر کو اگرچہ آسام کے مظاہروں میں نرمی دیکھی جا رہی ہے لیکن اس سے ملحق ریاست مغربی بنگال میں جمعے کو شروع ہونے والے مظاہروں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بظاہر یہ مظاہرے پر امن تھے لیکن ہاورہ اور مرشد آباد میں مظاہرے پُرتشدد ہو گئے۔

دوسری جانب سنیچر کو مختلف تنظیموں نے دارالحکومت دہلی میں تین بجے سے اس بل کے خلاف مظاہرے کی کال دی ہوئی تھی۔

انڈین میڈیا کے مطابق جمعے کو دہلی کی سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں تقریباً 50 افراد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

شہریت کا قانون : انڈیا کے ہندو ہی ہندوؤں کے مخالف کیوں؟

شہریت ترمیمی بل: آسام میں اجتماعی بھوک ہڑتال

شہریت کے متنازع بل کے خلاف انڈیا میں مظاہرے

امریکہ اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو انڈیا کا سفر نہ کرنے کی تنبیہ

برطانیہ، امریکہ، اسرائیل اور کینیڈا کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو انڈیا کے غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی تنبیہ کی ہے اور سفر کرنے والوں کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Inpho

کینیڈا کی سرکاری ویب سائٹ پر 13 دسمبر کو شائع کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے ’کینڈین شہری آسام، اروناچل پردیش، منی پر، میگھالایا، میزورام اور ناگالینڈ کا سفر غیر ضروری طور پر نہ کریں اور سفر کرنے والے انتہائی محتاط رہیں۔‘

دوسری طرف امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی سرکاری اہلکاروں کے آسام جانے پر پابندی عائد کردی ہے اور عام امریکی شہروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بہت زیادہ احتیاط برتیں۔

جبکہ اسرائیل کی حکومت نے بھی اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ آسام نہ جائیں اور شمال مشرقی ریاستوں میں موجود لوگ وہاں سے جلد از جلد نکل آئیں۔

ادھر برطانوی حکومتی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل کی وجہ سے ملک بھر کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں اور ہڑتالوں کی وجہ سے برطانوی شہری انتہائی احتیاط برتیں۔

یاد رہے کہ انڈیا میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث برطانوی حکومتی ویب سائٹ پہلے ہی برطانوی خواتین کو انڈیا میں اکیلے سفر کرنے سے اجتناب کرنے کا کہہ چکی ہے اور اس بارے میں سخت حفاظتی تدابیر کی فہرست حکومتی ویب سائٹ پر شائع کی جاچکی ہیں۔

مظاہرے کہاں کہاں ہو رہے ہیں؟

مظاہرین نے جمعے کو مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں بیلڈنگا پولیس سٹیشن پر پتھراؤ بھی کیا جبکہ مرشد آباد ریلوے سٹیشن کو نقصان پہنچانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

انڈین میڈیا کے مطابق مرشدآباد میں کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔

انڈیا ٹوڈے کے صحافی اندرجیت نے ٹویٹ کیا کہ ایک ایمبولینس پر بھی پتھراؤ کیا گيا۔

مغربی بنگال کے علاوہ جمعے اور سنیچر کو ممبئی میں مختلف مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں اور وہاں تقریباً 50 افراد کو میرین ڈرائیو پر ہونے والے مظاہرے سے قبل حراست میں لیا گیا اور پھر انھیں رہا کر دیا گيا۔

پونے مرر نامی انڈین اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق جمعے کی نماز کے بعد حیدرآباد اور سکندرآباد میں بھی مظاہرے ہوئے جس میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ایس آئی او نے بڑی تعداد میں ریلی میں شرکت کی اور ’نو سی اے بی‘ اور ’نو این آر سی‘ کے نعرے لگائے۔

جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی گذشتہ روز مظاہرے ہوئے جہاں طلبہ اور اساتذہ نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام ضلع مجسٹریٹ کو یادداشتیں پیش کیں۔

اس سے قبل جمعے کو دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پر امن مارچ میں پرتشدد واقعات اس وقت دیکھنے میں آئے جب پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس میں تقریباً 50 افراد زخمی ہو گئے۔

یونیورسٹی میں جاری امتحانات ملتوی کر دیے گئے جبکہ علاقے میں بس سروس بند ہے۔

جمعے کے روز جمیعت علمائے ہند نے بھی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر اس قانون کے خلاف مظاہرہ کیا اور کہا کہ ان کی تنظیم والوں نے ملک کے دو ہزار شہروں اور قصبات میں اس طرح کے ’احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔‘

مظاہرین نے ’دستور بچاؤ‘، ’مذہبی تفریق منظور نہیں‘، ’شہریت بل واپس لو‘، ’سی اے بی انڈیا کے خالف سازش ہے‘ جیسے درج نعروں والے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

لوگ اس کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلامی دنیا پر نظر رکھنے والے جامعہ ملیہ کے پروفیسر محمد سہراب کا کہنا ہے کہ ’جس طرح سے شہریت کی پھر سے تعریف کی جا رہی ہے اس کی رو سے انڈیا کا جو تصور ہے اس کی بنیاد ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’مثال کے طور پر وی دی پیپل آف انڈیا (ہم انڈیا کے شہری) میں اب مسلمان 'دی پیپل آف انڈیا‘ کا باوقار حصہ نہیں ہیں۔ اس کا دوسرا حصہ جو پوشیدہ ہے اور وہ شہریت ہے اس میں بنیادی طور پر تبدیلی آ گئی ہے وہ عوام سے ہٹ کر مذہب پر لائی گئی ہے اور ایک نئے طرح کا بائنری (دہرا پن) لایا گیا ہے جس میں اسلام بمقابلہ دیگر مذاہب کر دیا گیا ہے۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلام کے ماننے والے ایک طرح کی علیحدگی کا شکار ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جمیعت علمائے ہند کے سربراہ محمود مدنی کا کہنا ہے کہ ملک کے دو ہزار شہروں اور قصبات میں لوگوں نے ترمیمی بل کے خلاف مظاہرہ کیا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بل کی منظوری کے بعد اب مسلمان یہاں کے شہری نہیں بلکہ سبجیکٹ ہوں گے اور ایسے میں انڈیا کے آئین اور قوانین میں جو شہریوں کو حقوق حاصل ہیں وہ انھیں حاصل نہیں ہوں گے۔‘

حکومتی ردعمل کیا ہے؟

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جھارکھنڈ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شمال مشرقی ریاستوں کے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنے سیوک (خادم) پر بھروسہ کیجیے، کچھ نہیں ہو گا۔ شہریت ترمیمی بل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے آسام یا شمال مشرق کے باشندوں کے مفاد کو نقصان ہو۔‘

انھوں نے کہا وہ کانگریس کی تاریخی غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں۔ جبکہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔

وزیر داخلہ نے متنازع شہریت ترمیمی بل کے خلاف مظاہرے پر کانگریس کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ حزب اختلاف کے ’پیٹ میں درد ہو رہا ہے‘ اور وہ تشدد بھڑکا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں شمال مشرقی ریاستوں کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ان کی تہذیب، سماجی شناخت، زبان، سیاسی حقوق سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی، مودی حکومت ان کا تحفظ کرے گی۔‘

آسام میں مظاہرے کیوں؟

آسام میں ہونے والے مظاہروں پر بات کرتے ہوئے پروفیسر سہراب نے بتایا کہ وہاں کا معاملہ ذرا پیچیدہ بھی ہے اور جامع بھی ہے۔

’وہاں مذہب کے ساتھ ساتھ علاقائی خود مختاری، لسانی خود مختاری، وفاق اور ریاست سے جڑی ہوئی باتیں ہیں۔ وہ آئین کی رو سے مخالفت کر رہے ہیں۔‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں مقیم جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق ریسرچ سکالر خالد لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں حالات نازک اور تشویش ناک ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’یہاں جو مظاہرے اور احتجاج ہو رہے ہیں اس میں یہ خوف پوشیدہ ہے کہ اگر پڑوس کے ممالک سے آنے والے ہندوؤں کو شہریت دے دی جاتی ہے تو آسام کے اصل باشندے اقلیت میں آ جائيں گے۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی بنگالی بولنے والی آبادی کو یہاں رکھا جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آسام میں جو این آر سی لایا گیا وہ سنہ 1985 میں وزیر اعظم راجیو گاندھی اور آل آسام طلبہ تنظیم کے درمیان معاہدے کا نتیجہ تھا۔ اب جب اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں جس میں مسلم تارکین وطن سے زیادہ غیر قانونی ہندو تارکین وطن نکلے تو اب یہ ان کے لیے پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ یہ اب مذہب کی بنیاد پر احتجاج نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی غیر قانونی تارکین وطن ہے اسے بلا تفریق مذہب و ملت آسام سے نکالا جائے۔‘

ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آسام میں مظاہرے کی رہنمائی کون کر رہا ہے تو انھوں نے بتایا کہ ’ابھی تو آل آسام سٹوڈنٹس یونین (آسو) والے ان مظاہروں کو لیڈ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا گروپ کرشک سماج مکتی سنگھ بھی ہے۔ ان کے رہنما اکھل گوگوئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اور آسو کی جو رہنمائی کر رہے ہیں وہ 60 سال کے ایک معمر شخص سموجل بھٹاچاریہ ہیں۔‘

سموجل بھٹا چاریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آسام کے افتخار اور شناخت کے ليے جاری تحریک کو سب کی حمایت حاصل ہے۔ ہم نے 10 دسمبر کو پارلیمنٹ میں سی اے بی کے خلاف شمال مشرقی ریاستوں میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ نارتھ ایسٹ سٹوڈنٹ یونین (نیسو) ) کے پرچم تلے ہونے والی بے مثال ہڑتال کے بعد 11 دسمبر کو لوگ خود بخود سڑکوں پر نکل آئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس دوران تشدد ہوا۔ پھر ہمیں لگا کہ قیادت کے بغیر تحریک کمزور پڑ جائے گی۔ لہذا لتاشیل میدان میں 12 دسمبر کو ہونے والی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہماری تحریک پرامن اور جمہوری انداز سے ہو گی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اب ہم تحریک کو منصوبہ بند طریقے سے منظم کر رہے ہیں۔ اگر کوئی پرتشدد راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ ہماری تحریک کا دشمن ہے نہ کہ اس کا دوست۔‘

بین الاقوامی اداروں کا ردعمل

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس متنازع شہریت بل کو فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم یو این ایچ آر نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں کہا: ’ہمیں تشویش ہے کہ انڈیا کا نیا شہریت کا ترمیمی قانون بنیادی طور پر امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔‘

تنظیم نے کہا ہے کہ نیا قانون افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو جبر سے بچانے کے لیے شہریت دینے کی بات کرتا ہے، لیکن یہ سہولت مسلمانوں کو نہیں دیتا ہے۔

یو این ایچ آر نے لکھا ہے کہ ’تمام تارکین وطن، خواہ ان کے حالات کیسے بھی ہوں، انھیں عزت و وقار، سلامتی اور انسانی حقوق کے حصول کا حق ہے۔‘

انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مذہبی امور پر نظر رکھنے والے سرکردہ امریکی سفیر نے انڈیا کے شہریت کے ترمیمی بل کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ حکومت ہند مذہبی آزادی کے ساتھ اپنے آئینی عہد کی پابندی کرے گی۔‘

اسی بارے میں