شہریت کے متنازع قانون کے خلاف دلی میں مظاہرے: اکھڑے ڈیوائیڈر، ٹوٹی اینٹیں اور جلی ہوئی بسیں، بی بی سی کے نمائندے نے کیا دیکھا

جامعہ ملیہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جامعہ ملیہ سے گزرنے والی سڑک پر ڈیوائڈر اکھڑے ہوئے تھے اور لاوارث موٹر سائکلیں ٹوٹی پڑی تھیں

پیر کی صبح ساڑھے سات بجے جب دفتر کے لیے نکلا تو سڑکیں سنسان تھیں۔ جامعہ ملیہ سے گزرنے والی سڑک مولانا محمد علی جوہر روڈ پر ڈیوائڈر اکھڑے ہوئے تھے، سڑک پر ٹوٹی ہوئی اینٹیں بکھری پڑی تھیں، لاوارث موٹر سائیکلیں ٹوٹی پڑی تھیں۔

یہ سب شہریت کے متنازع قانون کے خلاف طلبا کے احتجاج اور پھر پولیس کی ان کے خلاف کارروائی کے بعد کا منظر تھا۔

جامعہ کے گیٹ نمبر آٹھ پر جامعہ میں کینٹین چلانے والے فیضی سے ملاقات ہو گئی جنھوں نے بتایا کہ اتوار کی رات پولیس حراست سے 54 طلبا کو رہا کروا لیا گیا ہے اور اب وہ زخمیوں کو دیکھنے ہولی فیملی ہسپتال جا رہے ہیں۔

جامعہ ملیہ کے طلبہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے تشدد کی راہ اختیار نہیں کی اور ان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سیسودیا بھی اس معاملے میں طلبا کے ہمنوا دکھائی دیتے یں اور انھوں نے دہلی پولیس پر آگ لگانے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ پولیس کارروائی انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ کے حکم پر کی گئی اور یہ کہ اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے

دلی: پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کے بعد 50 طلبہ رہا

انڈین ریاستیں شہریت کے قانون کو روک سکتی ہیں؟

شہریت کا متنازع ترمیمی بل، انڈیا بھر میں مظاہرے

انھوں نے ایسی ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں پولیس اہلکاروں کو موٹر سائیکلیں توڑتے دیکھا جا سکتا ہے لیکن پولیس ان سے انکار کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سیسودیا نے دہلی پولیس پر آگ لگانے کا الزام لگایا ہے

دہلی کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے احتجاج، مظاہرے، دھرنے، بھوک ہڑتال کوئی غیر معمولی چیز نہیں اور میں خود ان کا شاہد رہا ہوں لیکن اتوار کی شام جب اپنے دفتر سے نکلا تو یہ وہم و گمان میں نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

میری رہائش دہلی کی سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قریب ہے۔ جب میں آٹو رکشے سے متھرا روڈ سے بستی حضرت نظام الدین سے آگے بھوگل پہنچا تو ٹریفک جام تھا۔

بستی حضرت نظام الدین دہلی کی قدیم ترین آبادی ہے جہاں کبھی اپنے زمانے کے صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیا قیام کرتے تھے اور اب ان کی وہاں درگاہ ہے جہاں دنیا بھر سے ان کے عقیدت مند تشریف لاتے ہیں۔

آگے آشرم کا پل تھا۔ آٹو ڈرائیور سے بات ہو رہی تھی اور دونوں اس بات پر حیران تھے کہ اتوار کے روز اس جگہ جام کیوں کر ہو سکتا ہے۔ جب پل پر آئے تو دو کلومیٹر کے فاصلے پر کالے کالے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے۔ ٹریفک کو آشرم کے رنگ روڈ پر موڑ دیا گیا کیونکہ سیدھی متھرا شہر جانے والی سڑک بند تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سامنے سے ایک ڈی ٹی سی بس گزری جس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور راہگیر اس کی تصویر لے رہے تھے۔ وہاں سے نصف کلو میٹر دور دہلی کی امیر ترین کالونیوں میں سے ایک نیو فرینڈز کالونی کے سامنے آگ کے شعلے اور سیاہ دھوئیں کے مرغولے صاف دیکھے جا سکتے تھے۔

گھر فون کرنے کی کوشش کی تو نیٹ ورک کام نہیں کر رہا تھا۔ ہم دہلی کے اہم بازار لاجپت نگر کی طرف بڑھ گئے لیکن آٹو والا گھبرا رہا تھا۔ اس نے ماتھے پر تلک لگا رکھا تھا ہم نے اسے تسلی دی اور کہا کہ جہاں کہیں بھی خطرہ ہوگا ہم دونوں واپس ہو جائیں گے اور کسی دوست کے یہاں چلے چلیں گے۔

ٹریفک کو دوسری جانب موڑنے کی وجہ سے سبزی منڈی کے راستے پر بھی جام تھا۔ خیر اوکھلا سبزی منڈی ہوتے ہوئے جب جامعہ کے پاس دہلی کے معروف ہارٹ سکورٹ اور ہولی فیملی ہسپتال کے درمیان پہنچے تو راستے سارے بند تھے پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

پولیس سے بات کرنا چاہی لیکن وہ صرف ڈنڈے دکھا رہے تھے۔ میں نے اپنے آٹو ڈرائیور کو کہا کہ آپ واپس چلے جاؤ کیونکہ اس کے چہرے پر خوف زیادہ تھا۔ اس کی بظاہر وجہ تھی کہ کہیں پولیس والے اس کی گاڑی کو نہ ضبط کرلے یا کوئی توڑ پھوڑ نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میں نے پولیس سے بات کرنا چاہی لیکن وہ صرف ڈنڈے دکھا رہی تھی

ایک پولیس والے نے مجھے ڈنڈا دکھاتے ہوئے جانے کا حکم دیا لیکن میں نے بھی پوچھ ہی لیا کہ آخر وہاں کیا ہو رہا ہے؟ ہم گھر کیسے جائیں گے؟ اس نے کہا کہ 'بھاگ جاؤ پولیس جامعہ کے سٹوڈنٹس کے خلاف ایکشن کر رہی ہے۔'

آنسو گیس کے گولے چھوڑے جا رہے تھے اور فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی تھیں۔ میں نے اپنے افسروں کو فون پر صورت حال بتائی کہ پتہ نہیں میں گھر پہنچ بھی سکوں گا کہ نہیں۔ گھر سے بیٹی نے فون کیا 'ابو آپ ماموں کے یہاں چلے جاؤ۔'

اب مجھے گھر جانے کی زیادہ فکر لاحق ہوگئی اور میں جامعہ کی سڑک سے کوئی ایک کلومیٹر دور گلیوں سکھ دیو وہار کالونی سے راستہ پوچھتے ہوئے گھر کے لیے روانہ ہوا۔ میرے آگے ایک لوگوں کا ایک سیلِ رواں تھا، سب کے سب پیدل تھے، ایک تانتا لگا ہوا تھا راستے میں لوگ متفکر تھے۔

پھر میں نے لوگوں کو ایک پتلی سی راہ داری کی جانب مڑتے دیکھا۔ وہاں کوئی راستہ بتانے کے لیے نہیں تھا اس لیے میں اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا۔ وہ ایک کار کے گزرنے کا راستہ تھا جو ایک نالے کے کنارے سے گزرتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پھر میں نے لوگوں کو ایک پتلی سی راہ داری کی جانب مڑتے دیکھا تو میں بھی اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا

آگے مجھے ایک قبرستان نظر آیا جو کہ مسیحی برادری کا قبرستان تھا۔ وہاں بہت زیادہ سناٹا تھا کیونکہ دونو جانب شہر خموشاں آباد تھا، لوگ سر جھکائے چلے جا رہے تھے۔ یہ راستہ حاجی کالونی کو نکلتا تھا۔

وہاں پہنچ کر پھر میں نے لوگوں سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ کالونی کے اختتام پر راستہ نالے کے دوسری جانب مڑ جائے گا وہیں سے آپ نے مڑنا ہے۔ اب میں تہنا ہو چکا تھا راہ گیر ادھر ادھر مڑ گئے تھے یا اپنی اپنی منزل کو پہنچ گئے تھے۔

حاجی کالونی میں لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے کوئی بتا رہا تھا کہ ماتا مندر کے پاس بسیں جلی ہیں تو کوئی کہہ رہا تھا جولینا کے پاس بسیں جلی ہیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ کوئی شاکر نامی بچے کی موت ہو گئی ہے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ بہت سے زخمی ہسپتال لے جائے جا رہے ہیں۔

کئی جگہ راستہ پوچھنے کے لیے رکا جبکہ وقفے وقفے سے زوردار دھماکے سنائی دے رہے تھے۔ راستے میں اوکھلا وہار کی دکانیں بند پڑی تھیں یہاں سے وہاں تک ایک ہجوم نظر آ رہا تھا سب کے چہروں پر تفکر تھا اور لوگ انڈے اور دودھ کے لیے پریشان نظر آ رہے تھے۔

Image caption جامعہ ملیہ کے ایک پروفیسر نے پر بتایا 'ہم لوگ ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں'

بڑی جدوجہد کے بعد گھر پہنچا تو پھر وہاں کے مقامیوں سے رابطہ شروع کیا۔ جامعہ ملیہ کے پروفیسر سہراب نے فون کیا اور کہا کہ 'ہم لوگ ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔'

انھوں نے ایک لڑکے کے مرنے کی تصدیق بھی کی۔ اس سے قبل جمعے کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرے ہوئے تھے اور اس دوران بھی پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ مظاہرین سے زیادہ پرجوش پولیس نظر آ رہی تھی۔

اس کے بعد ویڈیو کا تانتا لگ گیا اور سارے ویڈیو خوفزدہ کرنے والے تھے۔ جامعہ کے چیف پراکٹر کا پیغام دیکھا کہ پولیس زبردستی کیمپس میں گھس آئی ہے جو خود میں ایک میں نئی بات تھی کیونکہ انڈیا کی یونیورسٹیوں میں بغیر یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت کے پولیس داخل نہیں ہوتی ہے۔

لیکن اسی دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے یہ خبر آنے لگی کہ وہاں بھی پولیس کی کارروائی چل رہی ہے اور پولیس کیمپس میں داخل ہو گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے چند ویڈیوز ارسال کی جس میں باب سرسید پر پولیس ایکشن ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مجھے جے این یو کے طلبہ کا ایک مظاہرہ یاد آ گیا جب دہلی کے قلب میں جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے وہ سب دہلی کے قلب پٹیل چیسٹ پر یکجا تھے اور ان کو روکنے کے لیے پولیس بھی وہاں موجود تھی۔ ایک لڑکے نے ڈیوائڈر پھلانگ کر سڑک پار کی تو وہاں موجود پولیس سپرنٹنڈٹ نے کہا پکڑو وہ جے این یو کا نہیں ہے۔

اسے پکڑ کر لایا گیا تو پتہ چلا کہ واقعی وہ جے این یو کا نہیں بلکہ دہلی یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔

میں نے پوچھا کہ آپ نے کس طرح پہچانا کہ وہ جے این یو کا نہیں ہے تو انھوں نے کہا کہ جے این یو والے ڈیوائڈر نہیں پھلانگتے بلکہ جہاں سے جانے کا راستہ ہوتا ہے وہاں سے جاتے ہیں اور انھوں نے دکھایا کہ دور کئی لڑکے لڑکیاں سڑک پار کرنے والے نشان سے سڑک پار کر رہے تھے۔

خیال آیا کہ نہ تو پولیس والے اب اتنے قابل رہے اور نہ ہی طلبہ میں وہ تمیز نظر آتی ہے کہ جمہوری طرز سے احتجاج کرنا کیا ہوتا ہے!

اسی بارے میں